گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، جیسے ہم نے پانچ سینیٹرز بنانے کا کہا تھا اور بنا کر دکھائے، اب ہم عدم اعتماد بھی کر کے دکھائیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اگر صوبائی حکومت کو ایف سی یا فوج کی ضرورت ہو تو وہ بلا سکتی ہے، لیکن خیبرپختونخوا کی خراب امن و امان کی صورتحال کے باوجود حکومت اس کا اعتراف نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ کرم کی صورتحال کو خراب ہوئے ایک سال ہو چکا ہے، اگر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور لوگوں کو گرفتار کر کے کسی کے کہنے پر چھوڑ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی رٹ ختم ہو چکی ہے، ایسی صورت میں انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا درست نہیں۔
فیصل کنڈی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ چاہتے ہیں کہ صوبے سے فوج نکل جائے اور صرف پولیس معاملات سنبھالے، حالانکہ پولیس باصلاحیت ہے لیکن انہیں وسائل اور تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اسمبلی میں ان مسائل پر کبھی بات نہیں ہوئی، جب تک مرکز اور صوبہ ایک پیج پر نہیں ہوں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔
پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک سے متعلق انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو کچھ نہیں ہوگا، یہ صرف ایک نعرہ ہے جس کا مقصد توجہ حاصل کرنا ہے۔