**اسلام آباد:** خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے بعد صوبے پر کسی اور کا کنٹرول ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کو دہشتگردوں سے آزاد کرائیں، پھر حکومت کی بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی تھی جس کے نتیجے میں دہشتگردی پر قابو پایا گیا۔
ڈاکٹر عباداللہ نے الزام عائد کیا کہ حالیہ اے پی سی میں جے یو آئی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور اے این پی نے شرکت نہیں کی، اور صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث سینیٹ میں ان کی نمائندگی نہیں رہی۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ "5-6 کا فارمولا میں نے تجویز کیا تھا، ہم نے نہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور نہ انہوں نے ہمیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب گڈ طالبان کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی، جیسا کہ علی امین گنڈاپور نے بھی واضح کیا ہے۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شرکت سے انکار کیا۔ ڈاکٹر عباداللہ کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر کانفرنس کا بائیکاٹ کیا کیونکہ حکومت کے فیصلے سنجیدہ نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک میز پر بیٹھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، عوامی مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔