جدید جنگی حکمت عملی کے تین پہلو

بریگیڈئر محمد یاسین (ریٹائرڈ)  ۔۔۔۔۔۔۔اردو ترجمہ عابد رشید

0

دنیا کے سیاسی حالات اور نئی ٹیکنالوجی نے جنگ لڑنے کے طریقے بدل دیئے ہیں۔ آج کل جنگوں میں نئی ٹیکنالوجی، اخلاقی مسائل اور سیاسی تبدیلیاں مل کر جنگ کو زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ بنا دیتی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جو فضائی لڑائی ہوئی اس میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی جنگ کی منصوبہ بندی، نگرانی اور فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے اور پھر تیز رفتاری سے دشمن کے نشانے کو تباہ کر دیتی ہے جس سے دشمن حیران اور بے بس رہ جاتا ہے۔ اس جنگ میں ڈرونز، کمپیوٹر ہتھیار اور خودکار نظام استعمال ہوئے جنہوں نے لڑائی کو تیز، خاص اور فیصلہ کن بنا دیا۔
دو ہزار سال پہلے سن تز و (Sun Tazu )نے اپنی کتاب آرٹ آف وار میں کہا تھا کہ ”رفتار جنگ کی جان ہے“۔ آج ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے یہ بات اور بھی صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی صرف چار دن میں ختم ہو گئی۔ پاکستان نے تیز اور مو ثر طریقے سے سولہ گھنٹے میں اپنا آپریشن مکمل کیا۔ ایک گھنٹے میں پاکستان کی فضائیہ نے چار رافیل طیارے مار گرائے۔ پاکستان کے پندرہ گھنٹے کے جوابی حملے نے بھارت کی جنگ لڑنے کی ہمت ختم کر دی کیونکہ اس کے فضائی اڈے تباہ ہو گئے اس کے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو ہیک کیا گیا اور اس کی مواصلاتی نظام کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
بھارت کو ہماری موجودہ طاقت اور ہماری صلاحیتوں کا جدید اندازہ نہیں تھا، جس سے وہ حیران رہ گیا۔ یہ خاموشی (stealth) کا عنصر تھا جو پاکستان کے حق میں گیا۔ ہماری فوج نے ٹیکنالوجی، حکمتِ عملی اور انسانی مہارت کو ایک ساتھ جوڑا، جس کی بدولت پاکستان نے دشمن کو اچانک دھچکا دیا۔
مصنوعی ذہانت (AI) ایک طاقتور جنگی ہتھیار بن کر سامنے آئی ہے۔ اس نے الیکٹرانک جنگ کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ 10 مئی کے تصادم میں پاکستان نے KORAL ECM سسٹم استعمال کیا جو دشمن کے ریڈار اور دیگر الیکٹرانک نظاموں کو جام کر کے کنفیوڑ کر دیتا ہے اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیتا ہے۔ کم از کم 13 بھارتی سرکاری ویب سائٹس جن کے 1,744 سرورز تھے، ہیک کر لئے گئے۔ ان کا ریل نظام بند ہو گیا…. گرڈ اسٹیشن تباہ ہو گئے…. ممبئی میں بجلی چلی گئی۔ڈیموں کے بندوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔ اس سب نے بھارتی فوجی اعلیٰ کمانڈ کو شدید ا ±لجھن میں ڈال دیا۔ بھارت گھبرا گیا اور یہ سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان آگے کیا کرنے والا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا”جو بھی مصنوعی ذہانت میں قیادت حاصل کرے گا وہ دنیا کا حکمران بن جائے گا“۔ پوتن کے الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا کا مستقبل ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے ہاتھ میں ہے۔ آئندہ کی جنگیں سائبر جنگیں ہوں گی۔ جو سائبر دنیا پر قبضہ کرے گا وہ دشمن کو تیزی اور فیصلہ کن طور پر شکست دے گا۔ سائبر جنگ جاسوسی، بگاڑ اور تخریب پر مبنی ہوتی ہے۔ جو ملک سائبر سیکورٹی میں کمزور ہو اور جس کا کمپیوٹر نظام مضبوط نہ ہو وہ سائبر حملوں کا شکار بنے گا۔ دشمن اپنی طاقت سے مقابلے کی ہمت توڑنے کےلئے اس کے کمانڈ، کنٹرول اور مواصلاتی نظام (C3) پر حملہ کرے گا۔ اس کے مالی وسائل، بجلی کے گرڈ، پانی کی سپلائی اور رابطے کے نظام کو تباہ کر کے پورے ملک کو فوری طور پر مفلوج کر دے گا۔ سائبر جنگ میں مہارت رکھنے والا دشمن بغیر میدان جنگ میں آئے ہی جنگ جیت جائے گا۔
ایک غیر شائع شدہ ورکنگ پیپر میں برملے نے 2016 میں لکھا”غلطی نہ کریں، سائبر ایک ایسی جنگ ہے جو حملہ آور اور محافظ کے درمیان جاری رہتی ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے نئے نظام اور اقدامات کے جواب میں مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ اس جنگ میںکامیابی کےلئے ضروری ہے کہ ہم خاموشی سے دشمن پر نظر رکھیں، تیزرفتار کارروائی کریں اور خود کو بہتر بنائیں۔ مستقبل کے سائبر ہتھیار، چاہے دفاعی ہوں یا حملہ آور، زیادہ خودکار (autonomous) ہوں گے بالکل اسی طرح جیسے میزائلوں، ڈرونز اور دوسرے نظاموں میں زیادہ خودمختاری شامل کی جا رہی ہے“۔(بحوالہ: پال شارے، Army of None)
”لوئٹرنگ ایمونیشن“ (یعنی ایسی گولہ بارود جو ہدف تلاش کرنے کے لیے فضا میں گھومتی رہے)، نیم خودکار اور مکمل خودکار ہتھیاروں نے جنگوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ خودکار ہتھیار اب یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ انسانی مداخلت کے بغیر خود سے ہدف کو تلاش کریں اور تباہ کر دیں۔ اسرائیل کا ”ہارپی“ (Harpy) ایک ایسا ہی خودکار ہتھیار ہے، جو بھاری دھماکہ خیز مواد سے لیس ہوتا ہے اور ریڈار کا پتہ لگا کر اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔ پال شارے لکھتے ہیں:”ہارپی کئی ممالک کو فروخت کیا گیا ہے، جن میں چلی، چین، بھارت، جنوبی کوریا اور ترکی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین نے اس ہتھیار کی نقل کر کے اپنی مقامی قسم تیار کر لی ہے“۔
سٹوورٹ رسل اپنی کتابHuman Compatible: Artificial Intelligence and the Problem of Control میں بھی ”ہارپی“ کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک لوئٹرنگ ایمونیشن ہے جس کے پر 10 فٹ لمبے ہوتے ہیں۔ اس میں 50 پاو ¿نڈ وزنی وار ہیڈ ہوتا ہے، اور یہ 500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ یہ مخصوص علاقے میں چھ گھنٹے تک ہدف کی تلاش کرتا ہے اور جیسے ہی مقررہ معیار پر پورا اترنے والا ہدف ملتا ہے، فوراً حملہ کر دیتا ہے۔
بھارت نے پاکستان کے خلاف ایسے تقریباً 80 ڈرونز استعمال کئے لیکن پاکستان نے ان سب کو مار گرایا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اگرچہ بھارت اور پاکستان نے وقتی طور پر اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اپنی افواج کو واپس امن والی پوزیشنوں پر لے جائیں گے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت، جو خود کو ایک بڑی طاقت سمجھتا ہے اپنی حالیہ شکست کا بدلہ لینے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اندازہ ہے کہ 90 فیصد امکان ہے کہ وہ پاکستان پر اچانک اور بڑا حملہ کر سکتا ہے۔
اسی لئے ہمیں اپنی حفاظت کے لئے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں اپنی فضائیہ، میزائل ٹیکنالوجی، خودکار ہتھیار، بحریہ اور فوج کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں نئی ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (AI) اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں بھی آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ آج کی جنگیں ٹیکنالوجی سے جیتی جاتی ہیں…. ہمیں اپنی فضائی طاقت، میزائلوں، خودمختار ہتھیاروں کے نظام، بحریہ، زمینی افواج کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت اور سائبر وارفیئر جیسی ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیوں کے ساتھ قدم ملانے کے لئے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کرنے ہوں گے۔ اب ہم ایک غیر متوقع دشمن کے خلاف کھڑے ہیں۔
جب بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو ا ±س وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا:”ہم بھارت کی طاقت کا مقابلہ کریں گے، ہم ایٹم بم بنائیں گے ،چاہے ہمیں گھاس کھانی پڑے یا فاقے کرنے پڑیں“۔
پھر 1998 میں وزیرِاعظم نواز شریف نے بھی بڑی طاقتوں کا دباو نظر انداز کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کی اجازت دی حالانکہ امریکہ نے انکار کے بدلے پانچ ارب ڈالر امداد کی پیشکش کی تھی۔
اسی طرح قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا:” امن کے مقصد کی خدمت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے راستے سے فتنے کو ہٹا دیا جائے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں اور اس لئے وہ ہمیں ڈرا سکتے ہیں یا حملہ کر سکتے ہیں…. اس فتنے کو صرف اسی صورت میں ختم کیا جا سکتا ہے جب ہم اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی بھی ہمارے خلاف کسی جارحانہ عزائم کی ہمت نہ کرے۔ اس لئے ہمیں اتنا طاقتور بننا ہوگا کہ کوئی ہمیں کمزور سمجھ کر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے….لیکن جناح صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ طاقتور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کمزور پر ظلم کیا جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.