اسلام آباد( )ممتاز ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنی فیصلہ ساز مجالس میں خواتین کےلئے 33 فیصد کوٹہ لازماً مقرر کریں اور انتخابی ایکٹ 2017 میں آئینی ترمیم کے ذریعے خواتین کی سیاسی شرکت میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے یہ باتیں یہاں پالیسی ادا رہ برائے پائدار ترقی کے زیر اہتمام سیاسی جماعتوں میں ہر سطح پر خواتین کی نمائندگی کیوں ضروری ہے؟کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ سیمینار میں پالیسی سازوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے کہا کہ خواتین کےلئے جنرل نشستوں پر صرف 5 فیصد کوٹہ ہے جو مناسب انداز سے نافذ نہیں کیا جا رہا اور اس کی خلاف ورزی پر کوئی سزا بھی نہیںہے۔
سیاسی جماعتیں اکثر خواتین کو ایسے حلقوں سے امیدوار بناتی ہیں جہاں جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔پارلیمانی خدمات کے ادارے پپس کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفراللہ خان نے کہا کہ بیشتر جماعتوں میں خواتین ونگ سماجی معاملات پر تو کام کرتی ہیں مگر اہم فیصلوں میں ان کی رائے شامل نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود 16 جماعتوں میں سے بہت کم ایسی ہیں جن کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجالس میں خواتین کے لئے باقاعدہ کوٹہ موجود ہے۔بین الاقوامی ادارہ آئی ایف ای ایس کے شبیر احمد نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اقدار کو مضبوط نہ کیا گیا اور خواتین کو حقیقی شراکت نہ دی گئی تو جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔قائداعظم یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس فار جینڈر اسٹڈیز سے وابستہ ڈاکٹر عالیہ عامر نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کی تربیت اور خواتین کو نچلی سطح سے لے کر قیادت تک مواقع فراہم کرنے کے لئے باقاعدہ پروگرام ہونے چاہئیں۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر قاسم شاہ نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر وہ صرف 20 فیصد قانون ساز نشستوں اور محض 9.4 فیصد وزارتی عہدوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی ایکٹ 2017 کی دفعات 207 اور 208 میں ترمیم کر کے سیاسی جماعتوں کی فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کے لئے 33 فیصد کوٹہ لازمی قرار دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کےلئے جماعتوں پر لازم کیا جائے کہ ان کے کم از کم 2 ہزار ارکان میں سے 33 فیصد خواتین ہوں تاکہ ان کی آبادی کے تناسب کو تسلیم کیا جا سکے۔سیمینار میں سی پی ڈی آئی، ایف ای ایس، قائداعظم یونیورسٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت کئی اداروں کے نمائندوں نے شرکت