انجمن تاجران کے الزامات من گھڑت ہیں ،پی ٹی اے

0

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس)تمام جی ایس ایم اے درست موبائل ڈیوائسز کو ایف بی آر ڈیوٹیز/ٹیکسز کی ادائیگی کے بعد رجسٹر کرتا ہے اور اس کے مطابق منظور شدہ ڈیوائسز کو تمام پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر فعال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ڈی آئی آر بی ایس موبائل ڈیوائس کے کسی بھی آئی ایم ای آئی کی نشاندہی اور بلاک بھی کرتا ہے جو معمول کی بنیاد پر کلون، ڈپلیکیٹ یا نان ٹیکس پیڈ ہو ۔
مارچ 2024 میں سسٹم کی جانب سے 1934 ڈیوائسز نان ٹیکس پیڈ کے طور پر شناخت کی گئی تھیں۔ اس حوالے سے پریشانی سے بچنے کے لیے متعلقہ صارفین کو متعدد الرٹ پیغامات بھیجے گئے تھے کہ وہ پی ٹی اے کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے پی ایس آئی ڈی (ایف بی آر کے جاری کردہ ٹیکس انوائسز) کے حوالے سےٹیکس ادائیگی کا ثبوت جمع کرائیں۔ تاہم جن آئی ایم ای آئیز کے پی ایس آئی ڈی کی ادائیگی کے ثبوت پی ٹی اے کو موصول نہیں ہوئے تھے انہیں 4 مئی 2024 کو سسٹم کی جانب سے بلاک کردیا گیا تھا۔
1934 بلاک ڈیوائسز میں سے 248 موبائل ڈیوائسز کو ایف بی آر ڈیوٹی/ ٹیکسز کی ادائیگی کے بعد ان بلاک کر دیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ میڈیا میں زیر بحث موضوع من گھڑت اور گمراہ کن ہے کیونکہ قومی خزانے کی آمدنی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت پاکستان نے اب تک صرف انفرادی زمرے میں ہینڈ سیٹ رجسٹریشن کے لیے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں 63 ارب روپے جمع کئے ہیں۔

یادرہےکہ اس سے قبل

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے مطالبہ کیا تھا کہ ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود لاکھوں صارفین کے موبائل فون بلاک کرنا کہاں کا انصاف ہے؟صارف رقم کی ادائیگی کے باوجود پریشان ہے، 900 کروڑ کا غبن ہو گیا، اسکی انکوائری کسی ایماندار افسر سے کروائی جائے اور چوروں کا محاسبہ کیا جائے اورانہیں گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے،منگل تک مطالبات پورے نہ ہونے پر ملک بھر کے موبائل فون ریٹیلرز اور ڈیلرز پی ٹی اے کے دفتر کا گھیراؤ کرینگے۔

 

انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صدرآل ٹریدرزویلفیئر ایسوسی ایشن راجہ حسن، صدر موبائل ایسوسی ایشن جناح سپر شیخ عدنان ، صدر بلیو ایریا موبائل ایسوسی ایشن محمد عمران اور خالد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اجمل بلوچ ،اجہ حسن،شیخ عدنان،محمد عمران اور خالد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ موبائل صارف اور دوکاندار دونوں مشکل میں ہیں، ادارے حکومت کو ناکام بنانے کے چکر میں ہیں پتہ نہیں حکومت کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی ہے، باہر سے درآمد کیا جانے والا موبائل پی ٹی اے کی ویب سائٹ سے منظوری اور ڈیوٹی ادا کرنے کے باوجود غیر منظور شدہ کیسے ہو جاتا ہے؟ایک لاکھ روپے مالیت کے موبائل فون پر سوا لاکھ روپے ڈیوٹی ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے،پی ٹی اے کے ذمہ داران فون بلاک ہونے کے بعداپنی نالائقی اور نااہلی چھپانے کی خاطر صارف کو کہہ دیتے ہیں کہ موبائل ہیک ہوگیا ہے،اس ملک کو تباہ کرنے میں بیور وکریسی اور افسر شاہی نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے، ادارہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر صارف کا نقصان پورا کرے اوربلاک کئے جانیوالے تمام موبائل فون بحال کرنے کے ساتھ ساتھ صارف اور دوکانداروں سے معافی مانگے۔

 

وزیر اعظم نے ایف بی آر سے بارہ چور نکالے ہیں اگر اسی طرح ہر ادارے سے بارہ بارہ بڑے چور نکالے جائیں تو بہتری آ سکتی ہے، انہوں نے پی ٹی آئی کے ارباب اختیار کو خبر دار کیا کہ اگر منگل تک تمام بلاک شدہ موبائل بحال نہ کئے گئے تو تمام صارفین اور دوکاندارمتاثرین پی ٹی اے دفتر کا گھیراؤ کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری خود پی ٹی اے کے افسران پر ہو گی۔

 

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.