پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت 2پولیس اہلکار شہید
یہ لائسنسنگ بحال شدہ کلاس ویلیو ایڈڈ سروسز ریجیم کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں مجاز اور محفوظ وی پی این سروسز کی فراہمی کو منظم کرنا اور قومی قوانین و ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں پی ٹی اے نے متعدد کمپنیوں کو لائسنس جاری کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فری اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خطرات کی بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ ان کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا ہیکنگ، چوری، غیر ملکی نگرانی اور دیگر سائبر جرائم کے خطرات سے دوچار ہو جاتا ہے، جس کے باعث محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کے لیے ان وی پی اینز پر مکمل پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔