امریکا میں غیر ملکی آبادی کی تعداد 5 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو فلاحی پروگراموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مجرمانہ پس منظر رکھتے ہیں یا ناکام ممالک سے آئے ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی آبادی نے امریکی عوام کے وسائل پر بھاری دباؤ ڈال دیا ہے اور ملک میں جرائم میں اضافے، خراب تعلیمی معیار، بے روزگاری اور شہری مسائل میں اضافہ اسی وجہ سے بتایا جاتا ہے۔
ایک عام مہاجر جس کی آمدنی 30 ہزار ڈالر ہو، اسے تقریباً 50 ہزار ڈالر سالانہ ریاستی فوائد ملتے ہیں، جبکہ حقیقی مہاجر آبادی سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔
سجاول اسسٹنٹ کمشنر اساتذہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر تنازع کا شکار
ریاست مینیسوٹا کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ صومالی مہاجرین نے ریاست کی شکل بدل دی ہے اور ریاست کے گورنر اور کانگریس کی رکن الہان عمر پر سخت تنقید بھی کی گئی۔
یہ بھی کہا گیا کہ تمام تھرڈ ورلڈ ممالک سے آنے والی امیگریشن مستقل طور پر بند کردی جائے گی، بائیڈن دور میں داخل ہونے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے گا اور جن افراد کو امریکا کے لیے مفید نہیں سمجھا جائے گا یا جو مغربی طرز زندگی سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے ان کی شہریت منسوخ کی جائے گی۔
وفاقی فوائد اور سبسڈیاں صرف امریکی شہریوں تک محدود رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا اور اس صورتحال کے حل کے طور پر ریورس مائیگریشن کو ضروری قرار دیا گیا۔
آخر میں کہا گیا کہ جو لوگ امریکا سے نفرت کرتے ہیں، نقصان پہنچاتے ہیں یا تباہی کا باعث بنتے ہیں، وہ یہاں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔