یوکرین کے صدارتی دفتر نے تصدیق کی ہے کہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کو امریکا کی جانب سے روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن منصوبے کا مسودہ موصول ہوگیا ہے۔ ترجمان کے مطابق زیلنسکی جلد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس مجوزہ منصوبے پر بات کریں گے۔
روس یوکرین جنگ کا واحد حل مذاکرات ہے جنگ نہیں، پاکستان
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور پیش رفت کا مرکز وہ امن تجویز ہے جسے امریکی وزیر خارجہ روبیو اور اسٹیو ٹکوف نے تیار کیا ہے۔ اس پر اس وقت روس اور یوکرین دونوں سے مشاورت جاری ہے۔ ترجمان نے اسے ایک ’’اچھی اور متوازن تجویز‘‘ قرار دیا جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہونی چاہیے۔
منصوبے میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی اقدامات کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے تحت روس پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کی جائیں گی اور جنگ کے بعد روس کو دوبارہ عالمی معیشت میں شامل کرنے کا راستہ ہموار کیا جائے گا۔ یوکرین اور روس دونوں کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی اور واشنگٹن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کییف نیٹو میں شامل نہیں ہوگا، اور جنگ کے بعد یوکرین میں نہ نیٹو اور نہ یورپی افواج تعینات ہوں گی۔
امریکا روس کو دوبارہ جی8 میں شامل کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت روس کے منجمد اثاثوں میں سے 100 ارب ڈالر یوکرین کی تعمیر نو کے لیے مختص کیے جائیں گے، جن میں سے نصف منافع امریکا کو ملے گا اور باقی فنڈز ایک مشترکہ امریکی–روسی منصوبے میں لگانے کی تجویز ہے۔
امن منصوبے کے سیاسی نکات میں کریمیا، لوہانسک اور ڈونیسک کو عملی طور پر روسی علاقے تسلیم کیے جانے اور یوکرین کے ڈونباس کے باقی حصے کو ماسکو کے حوالے کیے جانے کی شقیں شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت یوکرین کو 100 دن کے اندر نئے انتخابات کرانے ہوں گے۔