یہ سوال نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ہماری گفتگو، محفلوں اور کتابوں کا حصہ ہے: کیا واقعی انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا یا یہ سب ہالی ووڈ کی سب سے بڑی فلم تھی؟
1969ء میں اپالو 11 کے خلاباز نیل آرم اسٹرانگ نے چاند کی سطح پر پہلا قدم رکھا تو پوری دنیا نے ٹی وی اسکرین پر یہ منظر دیکھا۔ لیکن جیسے ہی قدم پڑا، سوالات بھی اٹھنے لگے۔ "پرچم خلا میں لہرا کیسے گیا؟” "تصاویر میں ستارے کیوں نظر نہیں آئے؟” "انسان پھر دوبارہ چاند پر کیوں نہیں گیا؟” یہ اعتراضات آج تک دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن جدید ترین سائنسی ایجادات، آزادانہ تحقیقات اور ناقابلِ تردید شواہد اب یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ سفر حقیقت تھا، ڈرامہ نہیں۔
—
چاند پر چھوڑے گئے نشان — زندہ ثبوت
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپالو مشنز کے دوران چاند پر مشینیں، گاڑیاں اور خلابازوں کے قدموں کے نشانات چھوڑے۔ پچھلے برسوں میں امریکا کے اپنے اور دیگر ممالک کے سیٹلائٹ نے ان جگہوں کی تصاویر اتاریں۔ ان میں وہی گاڑیاں، وہی آلات اور وہی قدموں کے نشان موجود ہیں جو 1969 سے لے کر 1972 کے درمیان چھوڑے گئے تھے۔ اگر یہ سب ایک سیٹ پر فلمایا گیا ہوتا تو آج یہ چیزیں چاند کی سطح پر کیسے موجود ہوتیں؟
—
ریٹروفلیکٹرز — زمین سے براہِ راست رابطہ
اپالو خلابازوں نے چاند پر آئینوں جیسے آلات نصب کیے تھے، جنہیں ریٹروفلیکٹرز کہا جاتا ہے۔ آج بھی دنیا بھر کی تجربہ گاہیں زمین سے لیزر شعاع بھیجتی ہیں، اور وہ شعاع انہی ریٹروفلیکٹرز سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ یہ تجربہ ہر روز ہوتا ہے اور ہر بار درست نتائج دیتا ہے۔ اگر انسان چاند پر نہ گیا ہوتا تو یہ آئینے وہاں کیسے پہنچے؟
—
چاندی کی مٹی — زمینی نہیں، آسمانی کہانی
اپالو خلاباز مجموعی طور پر 376 کلوگرام پتھر اور مٹی ساتھ لائے۔ ان پر دنیا بھر کے سائنسدانوں نے تحقیق کی اور پایا کہ یہ مادہ زمین سے بالکل مختلف ہے۔ ان میں ایسے isotopes ملے جو صرف خلا کی شدید شعاعوں کے زیر اثر بن سکتے ہیں۔ 2024 اور 2025 میں جدید ترین لیبارٹریوں نے دوبارہ ان نمونوں کو جانچا اور نتیجہ وہی نکلا: یہ چاند سے لائے گئے اصلی پتھر ہیں، زمین کے کسی کونے سے نہیں۔
—
سوویت یونین کی خاموش گواہی
یاد رکھیں، 1969 میں امریکا اور سوویت یونین ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن تھے۔ اگر امریکا جھوٹ بول رہا ہوتا تو سوویت یونین اسے پوری دنیا میں رسوا کر دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ سوویت ریڈار اور ریڈیو اسٹیشنز اپالو مشنز کو لمحہ بہ لمحہ ٹریک کر رہے تھے۔ روسی سائنسدان سب کچھ دیکھ رہے تھے اور وہ بھی جانتے تھے کہ انسان واقعی چاند پر جا رہا ہے۔
—
اعتراضات اور ان کے جواب
پرچم لہرانا؟ خلا میں ہوا نہیں، لیکن پرچم میں لگی دھات کی سلاخ کی وجہ سے وہ ایسے جھول رہا تھا جیسے ہوا میں لہرا رہا ہو۔
تصاویر میں ستارے کیوں نہیں؟ کیمرے کی لینس روشنی سے بھری سطح کو فوکس کر رہی تھی، ستارے اتنے مدھم تھے کہ نظر نہیں آئے۔
پھر دوبارہ کیوں نہیں گئے؟ وجہ سادہ ہے: لاگت۔ اربوں ڈالر لگا کر دوبارہ وہی مشن دہرانے کے بجائے سائنسدانوں نے مریخ اور دیگر تحقیقاتی منصوبوں پر سرمایہ لگانا بہتر سمجھا۔
—
حقیقت کی جیت
اب سوال یہ نہیں رہ گیا کہ انسان چاند پر گیا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب دوبارہ جائیں گے؟ 2025 تک کی جدید تحقیق، سیٹلائٹ شواہد، چاند پر نصب آلات اور مٹی کے نمونوں نے یہ ابہام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
چاند پر انسان کے قدم رکھنے کا سفر نہ صرف امریکا کی جیت تھی بلکہ پوری انسانیت کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ آج جب ہم رات کو چاند کو دیکھتے ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ محض کہانی نہیں، بلکہ وہاں واقعی انسان کے قدموں کے نشان موجود ہیں — خاموش، مگر زندہ گواہی کے طور پر۔