میرے لیےاب خاموش رہنا ممکن نہیںرہا رائٹرزکی صحافی ویلری زینک مستعفی، اہم انکشافات

0

کینیڈین فوٹوگرافر اور رائٹرز نیوز ایجنسی کی سینئر صحافی ویلری زینک نے آٹھ سالہ وابستگی کے بعد ادارے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ صرف ذاتی احتجاج نہیں بلکہ مغربی ذرائع ابلاغ کے دوہرے معیار کے خلاف ایک بھرپور مزاحمتی بیان ہے۔ اپنے استعفے کے ساتھ جاری کردہ بیان میں زینک نے مغربی میڈیا کے اس کردار پر شدید تنقید کی ہے جس نے اسرائیل کے غزہ میں جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

زینک نے کہا:

"آٹھ برس تک میرا کیمرہ حقیقت کی آنکھ بنا رہا۔ میں نے زمین و انسان کے تعلق کی کہانیاں دنیا کے سامنے رکھیں۔ لیکن آج، جب مغربی میڈیا 245 سے زائد فلسطینی صحافیوں کے قتل پر بھی اسرائیلی بیانیے کو دہرا رہا ہے، تو میرے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔”

ان کے مطابق 10 اگست کو اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے انس الشریف— جن کی تصاویر رائٹرز کو پلٹزر پرائز تک لے گئیں— کے قتل پر رائٹرز کی خاموشی اور اسرائیلی مؤقف کی غیرتنقیدی اشاعت نے صحافت کی روح کو مجروح کر دیا۔ انس الشریف کو بعد از مرگ "حماس کا رکن” کہہ کر بدنام کرنا، زینک کے مطابق، اس بات کی علامت ہے کہ "اب ادارے سچ کے نہیں، قاتل کے ترجمان بن چکے ہیں۔”

زینک کا کہنا ہے کہ جب ناصر اسپتال پر ڈبل ٹیپ حملے میں مزید صحافی شہید ہوئے، تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ ادارے اب سچائی نہیں بلکہ طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بڑے اداروں پر بھی کڑی تنقید کی کہ وہ فلسطینی صحافیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اسرائیلی پروپیگنڈا کو دہرا رہے ہیں۔

"میں نے رائٹرز کے لیے جو آٹھ سال دیے، ان پر کبھی ندامت نہیں تھی۔ لیکن اب یہ ادارہ میرا فخر نہیں، میرا بوجھ ہے۔”

زینک کا استعفیٰ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صحافت پر بڑھتے ہوئے ریاستی دباؤ اور اخلاقی دیوالیہ پن پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام اُن گنے چنے صحافیوں میں شامل ہو گیا ہے جو اندر سے بکھرتے صحافتی نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب ان کا ہر کام ان فلسطینی صحافیوں کی قربانی کو خراجِ عقیدت دینے کے لیے ہوگا، اور وہ سچائی کی جنگ کو جاری رکھیں گی، چاہے وہ کیمرے کے پیچھے ہوں یا قلم کے ساتھ۔

"غزہ کے یہ بے مثال صحافی ہماری پیشہ ورانہ تاریخ کے سب سے روشن ستارے ہیں۔ ان کے خون سے تحریر ہوئی یہ کہانی آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ جب دنیا نے جھوٹ کا ساتھ دیا، تب کچھ سچائی کے لیے مر مٹنے والے بھی تھے۔”

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.