آج کل تو کرکٹ بدل چکی ہے مگر ایک دور تھا جب وکٹ کیپرز ٹیم میں فقط وکٹ کیپرز ہی ہوتے تھے، ان سے بیٹنگ کی توقع نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ بلے سے کچھ خاص کر پاتے تھے، اس ضمن میں پاکستان کے وسیم باری کی ایک مثال پیش کی جا سکتی ہے جس نے فقط وکٹ کیپنگ کے ذریعے 81 ٹیسٹ میچز کھیل لیے۔ بیٹنگ میں اس کا ہاتھ بہت تنگ تھا، اس کی ٹیسٹ ایوریج 15.88 کی ہے تو 81 ٹیسٹ میچز میں ایک بھی سینچری نہیں اور کبھی کبھی تو اس کو سرفراز نواز جیسے بولرز سے بھی بعد میں بلے بازی کے لیے گیارہ نمبر پہ بھیجا گیا۔ یہ ایک وسیم باری نہیں ایسی کئی مثالیں ہیں جو پیش کی جا سکتی ہیں۔
یہ سلسلہ نئی صدی تک تو چلتا رہا، سن 2000 تک اگر کوئی بہت بڑا وکٹ کیپر سامنے آیا تو وہ اینڈی فلاور ہی تھا۔ اس کی لیول کا تب تک اور کوئی کھلاڑی سامنے نہیں آیا۔ مناسب بلے بازی کرنے والے بھی بھی اکا دکا وکٹ کیپرز ہی ہوں گے۔
مگر سن 2000 کے بعد جہاں بدلتی کرکٹ نے بلے بازوں کو بولرز پہ فوقیت دی تو وکٹ کیپرز بھی اب محض وکٹ کیپرز نہیں رہے، اب ان کے لیے بھی ضروری ہوگیا کہ وہ بھی بلے بازی سے ٹیم میں اپنی جگہ بنائیں۔
ایسی ہی ایک بڑی مثال کمار سنگاکارا کی ہے۔
وہ بھی محض ایک وکٹ کیپر تھا۔ بلے بازی سے اس کا دور دور تک واسطہ نہ تھا۔ فقط وکٹ کیپنگ کے بل بوتے پر اس کو ٹیسٹ ٹیم میں سلیکٹ کیا گیا۔
شروعاتی نو ٹیسٹ میچز تک سنگاکارا کی چند ففٹیز ہی شامل تھیں۔ اور ان نو ٹیسٹ میچز تک وہ 49 فرسٹ کلاس میچز کھیل چکا تھا اور ان 49 فرسٹ کلاس میچز کی 75 اننگز میں اس کی ایک بھی ٹیسٹ سینچری نہیں تھی۔ ان 49 فرسٹ کلاس میچز میں اس کی ایوریج محض 26.5 کی تھی۔ ان ٹو ٹیسٹ میچز کی پرفارمنس نکال دی جائے تو اس وقت اس کی فرسٹ کلاس ایوریج محض 24.6 کی تھی۔
مگر پھر اسی کھلاڑی نے آگے 125 ٹیسٹ میچز میں 38 ٹیسٹ سینچریز اسکور کیں اور جاتے جاتے کاؤنٹی کرکٹ کے اپنے آخری دس فرسٹ کلاس میچز میں آٹھ سینچریز بھی اسکور کیں۔
یہ فطرت کا اصول ہے کہ اگر آپ حالات کے ساتھ اپنے آپ کو نہیں بدلتے تو چاہے آپ وقت کے بادشاہ ہی کیوں نہ ہوں آپ پہ زوال آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ پر اگر زمانے اور حالات کے مطابق خود کو بدلتے رہیں گے تو آپ ثابت قدم رہیں گے۔ ایسی ہی اپنے آپ کو بدلنے کی بہت بڑی مثال انگلینڈ کے رچی بیرنگٹن کی ہے یا کمار سنگاکارا کی ہے۔
وقت کی ضرورت کے تحت سنگاکارا نے بھی شروعاتی سال ٹیسٹ کرکٹ میں بطور وکٹ کیپر بلے باز کھیلے، مگر اس نے گلوز چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور بطور مکمل بلے باز کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اسی فیصلے نے اس کی قسمت بدل کر رکھ دی۔
134 ٹیسٹ میچز میں اس نے 86 ٹیسٹ میچز گلوز اتارنے کے بعد بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین کھیلے۔ اور ان 86 میچز میں اس کی ایوریج 66.78 کی ہے جو کہ بریڈمین کی ایوریج کے بعد دوسری سب سے بہترین ایوریج ہے۔
آج تک جس جس بلے باز نے بھی آٹھ ہزار یا اس سے زائد ٹیسٹ رنز بنائے ہیں ہیں ان میں سب سے بہترین ایوریج گیری سوبرز کے بعد کمار سنگاکارا کی ہے۔
گیری سوبرز کی ایوریج 57.78 کی ہے
تو سنگا کی ایوریج 57.40 کی ہے
اب یہ دونوں کھلاڑی اسپیشلسٹ بلے باز نہیں تھے، گیری آل راؤنڈر تھا اور زیادہ تر نچلے نمبروں پہ بھی بلے بازی کرتا رہا تو سنگا شروعاتی چھے برس وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلتا رہا تھا مگر 8000 رنز بنانے والے تمام اسپیشلسٹ بلے بازوں سے ان دونوں کا مقام سب سے اونچا ہے۔
سنگاکارا کی یہ 57.40 کی ایوریج تو پورے ٹیسٹ کیریر کی ہے، مگر آخری دس سال جو اس نے ایک بلے باز کے طور پر 80 سے زیادہ میچز کھیلے وہاں اس کی ایوریج 66.78 کی ہے۔ اور یہ ایوریج اتنی زیادہ ہے کہ ایک ہزار رنز بنانے والے تمام بلے بازوں میں بریڈمین کے بعد بہترین ایوریج یہی ہے جو سنگاکارا کی ہے۔
سنگاکارا کی 11 ڈبل سینچریز ہیں، صرف بریڈمین ہی 12 ڈبل سینچریز کے ساتھ اس سے آگے ہے۔
سنگاکارا کی یہ ڈبل سینچریز زیادہ ہو سکتی تھیں مگر ایک بار ہوبارٹ میں 192 پہ امپائر نے انتہائی غلط فیصلہ دے کر اس کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ دوسری دفع پاکستان کے خلاف 199 پہ ناٹ آوٹ رہ گیا تھا۔
نمبر تین جیسی اہم پوزیشن پہ بلے بازی کرتے ہوے اس نے 11679 رنز بنائے۔ جو اب تک ایک رکارڈ ہے۔ نمبر تین پہ سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ سنگا کا ہے اس کے بعد راہل ڈریوڈ ہے جو سنگا سے 1155 رنز پیچھے ہے اور اس پوزیشن پہ سنگاکارا نے راہل ڈریوڈ سے 12 اننگز کم ہی کھیلی ہیں پھر بھی بہت بڑے مارجن سے سنگاکارا آگے ہے۔
سنگاکارا کی جیتے ہوے 54 میچز میں بیٹنگ ایوریج 71.69 کی ہے۔ اب جس جس بڑے کھلاڑی نے پچاس پچاس ٹیسٹ میچز جیت رکھے رہیں ان سب میں کسی کی ایوریج بھی ستر کی نہیں ، چاہے وہ عظیم ترین ٹیم کے کھلاڑی اسٹیو وا یا رکی پونٹنگ کی ہی کیوں نہ ہوں۔
تیز ترین آٹھ ہزار رنز ہوں، نو ہزار یا دس ہزار یا گیارہ یا بارہ ہزار !!!؟ سب کے سب سنگا کے ہیں۔
یہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ سنگا شروع میں پراپر بلے باز نہیں تھا ، فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی نہیں، اس لیے سن 2000 میں جب اس کا ڈیبیو ہوا تو سو رنز پورے کرنے کے لیے اس کو چھے اننگز لگ گئیں ، اس کی شروعاتی پانچ اننگز یہ تھیں؛ 23, 24, 5, 25 اور 6۔
پھر سال 2001 شروع جہاں سنگا مکمل سال کھیلا، اس سال 13 ٹیسٹ میچز میں 55.11 کی ایوریج سے اس نے 992 رنز بنالیے جس میں تین سینچریز شامل تھیں۔
پھر 2001 سے 2015 تک کے 15 برس میں فقط ایک سال اس کی ایوریج 39 سے نیچے آئی ، وہ سال 2005 تھا جہاں وہ نو ٹیسٹ میں اس کی ایوریج 32.46 کی تھی۔ جس میں محض ایک سینچری شامل تھی باقی کوئی ایک بھی ففٹی اس سال سنگا نے اسکور نہ کی۔
اچھا برا دور سب پہ آتا ہے اور بڑے کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے برے دور سے بھی کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتے ہیں، اپنی کی گئی غلطیوں پہ اکڑے کھڑے نہیں ہو جاتے۔ خود کو بدلتے ، سدھارتے اور سنوارتے جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال سنگاکارا کی ہے جس نے اپنا 2005 والا بدترین سال گزارنے کے بعد گلوز اتارنے کا فیصلہ کیا اور یہ تبدیلی اس کے کیریر میں ایک انقلاب لے کر آئی ، پھر رنز کا وہ سیلاب آیا کہ جس کی مثال بریڈمین کے سوا کہیں اور نہیں ملتی۔ 2005 سے پہلے بھی وہ گلوز چھوڑ کر کچھ میچز کھیلا تھا مگر 2006 تک اس نے مکمل طور پر دستانوں کو الوداع کہا پھر مزید 74 میچز بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین کھیلے جہاں اس کی ایوریج 65.65 کی تھی اور 29 سینچریز بھی تھیں۔
اب بات کرنے والوں کا کیا ہے وہ تو بات کرتے ہی رہیں گے۔ جیسے بولنے والے یہ بولتے رہتے ہیں کہ جب بھی سچن سینچری کرتا ہے تو انڈیا ہارتا ہے۔ ویسے ہی سنگا کے متعلق یہ مشہور ہے کہ اس نے زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف رنز کیے ہیں۔
پہلی بات تو یہ کہ وہ پراپر بیٹسمین تھا ہی نہیں انٹرنیشنل میں کھیل کھیل کر ہی وہ سیکھا تھا، وہ کوئی گاڈ گفٹڈ بھی نہیں تھا تو اس کے کمزور ٹیمز کے خلاف رنز سمجھ آتے ہیں۔
سنگاکارا کی ایوریج بنگلادیش اور زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ ایوریج 94 کی ہے
اب وہ اکیلا تو ایسا کرنے والا نہیں ہے نا، ان دو کمزور ٹیمز کے خلاف جیک کیلس کی ایوریج 124 کی ہے جو بریڈمین کو بھی مات دیے بیٹھا ہے تو کیا ہم جیک کیلس کی قابلیت پہ سوال اٹھانے لگ جائیں؟
راہل ڈریوڈ کی ایوریج ان دو کمزور ٹیمز کے خلاف 85 کی ہے تو کیا ڈریوڈ قابل کھلاڑی نہیں تھا ؟
چلیں ایسا کرتے ہیں کھلاڑیوں کی زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف دکھائی گئی کارکردگی نکال کر دیکھتے ہیں پھر دیکھتے ہیں پیچھے کیا بچتا ہے؛
زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ میچز نکال کر سنگاکارا کے باقی ٹیسٹ کیریر کی ایوریج 52.60 کی ہے۔ اب سن 2000 کے بعد کمزور ٹیمز کے علاوہ یہ اسٹیو سمتھ ، جیک کیلس اور برائن لارا کے بعد یہ چوتھی بہترین ایوریج ہے۔ باقی تمام بلے باز جو سن 2000 کے بعد کھیلے اس لسٹ میں سنگا سے پیچھے ہیں۔
سچن ٹنڈولکر کی ایوریج سن 2000 سے 2013 تک کے تیرہ برسوں میں زمبابوے اور بنگلادیش کو نکال کر 47.17 کی ہے۔ سچن کے ساتھ پونٹنگ ، چندرپال اور ولیمسن ، روٹ ، کوہلی وغیرہ سب زمبابوے اور بنگلادیش کو نکالنے کے بعد سنگا سے پیچھے کھڑے ہیں۔
ہاں ان سالوں میں زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف اسکور کیے گئے رنز شامل کیے جائیں تو سب کی ایوریج بہتر ہوجاتی ہے۔ تو صرف سنگاکارا کو عتاب کا شکار کیوں بنایا جائے ؟ !
سن 2000 میں سنگا کے ٹیسٹ ڈیبیو سے جون 2006 تک سنگا نے 60 ٹیسٹ میچز کھیل لیے تھے، تب تک اس نے محض 9 سینچریز اسکور کی تھیں۔ 46.90 کی ایوریج سے 4456 رنز بنائے تھے۔
مگر جولائی 2006 کے بعد آخر 2015 تک اس نے 74 مزید ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں 7944 رنز اس نے 65.65 کی ایوریج سے بنائے جس میں 29 سینچریز اور 30 ففٹیز شامل تھیں۔
یعنی ان 74 ٹیسٹ میچز میں اس نے 59 بار ففٹی پلس اسکور کیا تھا۔ ایسی مثال ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتی۔
2006 میں جب سنگا نے مہیلا کے ساتھ مل جنوبی افریقہ کے خلاف 624 جیسی پارٹنرشپ بنائی تھی اسی سیریز سے سنگا کا گولڈن پیرڈ شروع ہوا تھا۔
اس کے بعد 2015 تک دس برس میں اس کی ایوریج 64 رہی جو کہ ان دس برس میں سب سے زیادہ تھی۔ اس عرصے میں اس نے 34 ٹیسٹ سیریز کھیلیں۔ ان 34 میں سے 19 سیریز ایسی تھیں جن میں اس کی ایوریج پچاس سے زیادہ تھی۔ اور ان 19 میں سے 15 سیریز ایسی تھیں جن میں اس کی ایوریج ستر سے زیادہ رہی۔
جولائی 2006 جب سے سنگاکارا اسپیشلسٹ بلے باز بنا ، تب سے سنگا کی رٹائرمنٹ تک کے دس برس میں فقط دو ہی ایسے بلے باز ہیں جو اس عرصے میں 60 کی ایوریج سے کھیل گئے ایک خود سنگا اور دوسرے یونس خان تھے۔
سنگا کی ایوریج اس عرصے میں 64.01
اور یونس کی ایوریج اس عرصے میں 61.11 تھی
ان کے پیچھے بھی فقط چھے بلے باز ہی ایسے ہیں جو ان نو دس برسوں میں پچاس کی ایوریج سے کھیلے۔
اسی عرصے کے دوران اگر زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف میچز نکال دیے جائیں تب بھی سنگاکارا کی 58.20 کی ایوریج سب سے زیادہ ہے۔ یہ ایوریج اس کی ستر میچز میں رہی۔ اس کے بعد یونس خان ہی ہے جس نے زمبابوے بنگلادیش کے علاوہ اس عرصے میں 55 میچز میں 56.23 کی ایوریج دکھائی۔
زمبابوے بنگلادیش کو نکال کر بھی اس عرصے میں سب سے زیادہ رنز سنگاکارا کے ہیں 6926 رنز۔ اور بھی بلے باز ہیں جنھوں نے سنگاکارا سے زیادہ میچز کھیلے مگر سنگاکارا کے رنز تک پہنچ نہیں پائے۔
سنگاکارا کے کیریر کا اہم پہلو اس کے کیریر کے آخری سال ہیں کہ کیسے وہ آخر تک رنز کرتا رہا۔ اب یہ تو سب کو پتا ہے کہ ونڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے وقت وہ لگاتار چار چار سینچریز اسکور کر رہا تھا۔ مگر ونڈے کرکٹ پہ یہاں بات کرنا مقصود نہیں ہے۔
فقط آخری چار ٹیسٹ میچز اس کے خراب کہے جاسکتے ہیں جس میں سے دو پہلے پاکستان کے خلاف اور دو آخری انڈیا کے خلاف تھے۔ مگر ان سے پہلے کے دس ٹیسٹ میچز میں اس کی ایوریج 81 سے زیادہ تھی۔ اس کے جانے کا وقت نہیں تھا مگر وہ چلا گیا اور جاکر کاؤنٹی کرکٹ میں دس میچز میں آٹھ آٹھ سینچریز اسکور کرنے لگا تھا۔
35 برس کی عمر کے بعد وہ 23 ٹیسٹ میچز ہی کھیل پایا جس میں اس نے 2528 رنز 60.19 کی ایوریج سے بنائے۔ اور آج تک 35 سال کی عمر کے بعد جس جس نے بھی 2000 ٹیسٹ رنز بنائے ہیں ان سب میں سے زیادہ ایوریج سنگا کی ہی ہے۔ واحد کھلاڑی ہے جس کی ایوریج 35 کی عمر کے بعد 60 کی رہی۔ ٹنڈولکر ، لکشمن ، مصباح اور ڈریوڈ اور ایسے کئی بلے باز ہیں جو 35 کا ہونے کے بعد 50 کی ایوریج سے بھی نہیں کھیل پائے تھے۔ یہ چند نام اسی عہد کی مثالیں ہیں ورنہ یوں تو اب تک 26 بلے باز 35 کی عمر کے بعد 2000 پلس رنز اسکور کر چکے ہیں ان میں سب سے زیادہ ایوریج سنگا کی ہی ہے۔ بس اس کے جانے کا وقت نہیں تھا مگر چلا گیا۔
سنگاکارا کی آخری 25 ٹیسٹس سے پہلے کیریر ایوریج ایوریج 55.70 تھی، پھر آخری 25 میچز میں اس کی ایوریج 64.04 رہی جس کی وجہ سے اس کی کیریر ایوریج 55.70 سے بڑھ کر 57.40 تک جا پہنچی۔ کیریر کے آخر میں بلے بازوں کی ایوریج گرجاتی ہے مگر اس کی ایوریج بڑھ رہی تھی۔
آج تک جن جن بلے بازوں نے 8000 سے زائد ٹیسٹ رنز بنائے ہیں ان میں فقط دو بلے باز ہی ایسے ہیں جن کی ایوریج آخری 25 ٹیسٹ میچز میں 60 کی رہی۔
ایک سنگا 64.04
دوسرا چندرپال 60.90
اور 8000 بنانے والوں میں 2818 رنز کے ساتھ اپنے آخری 25 میچز میں سب سے زیادہ رنز کرنے میں سنگاکارا کا پہلا نمبر ہے۔
یہ بھی سنیے کہ پونٹنگ کی آخری 25 میچز میں ایوریج 33.59 کی تھی، سچن کی ایوریج ایسے میچز میں 34.34 کی تھی اور مائیکل کلارک بھی 37 کی ایوریج سے کھیلتا رہا۔
سنگاکارا نمبر تین کی اہم پوزیشن سنبھالتا رہا ۔ اپنے کیریر کے 12400 رنز میں سے اس نے اس 11679 رنز اس نے اسی پوزیشن پہ بنائے۔
اب تک نمبر تین پہ جس جس نے بھی محض چار چار ہزار رنز بنائے ہیں ان میں بریڈمین کی سو سو کی ایوریج کے بعد سب سے بہترین ایوریج سنگا کی 60.82 ہے۔ بریڈمین اور سنگا کے علاوہ چاہے پونٹنگ ہو، ڈریوڈ ہو، ہاشم آملا ہو، روہن کنہائی ہو، یونس خان کو یا ایان چپیل ہو، کسی کی بھی ایوریج نمبر تین پہ 60 تک نہیں پہنچتی ۔
ایسا بھی نہیں تھا کہ سری لنکا کے اوپنرز کوئی لاجواب اوپنرز تھے اور آکر اچھا اسٹارٹ دے جاتے تھے اور سنگاکارا پھر آرام سے رنز کر جاتا تھا۔ نہیں ! اس نے ہمیشہ پریشر سچوایشن میں اہم ترین رنز ٹیم کے لیے بنائے ہیں؛
ایسی 57 اننگز جن میں سری لنکا کی پہلی وکٹ دس رنز سے پہلے ہی گر گئی ادھر اس نے 2969 رنز 54.98 کی ایوریج سے بنائے ، ایسی صورتحال میں سنگا نے چار ڈبل سینچریز بھی اسکور کیں۔ ان چار میں سے دو ڈبل سینچریز جنوبی افریقہ کے خلاف تھیں تو دو ڈبل سینچریز پاکستان کے خلاف تھیں۔ ان چاروں اننگز سے بھی ایک اور بہترین اننگز 156 رنز ناٹ آوٹ کی تھی، جو سن 2006 میں ویلنگٹن کے میدان پر تھی، وہ کریز پہ تب آیا تھا جب زیرو پہ ہی پہلی وکٹ گر گئی تھی پھر اس نے آکر ناٹ آوٹ 156 رنز بنائے تھا۔ پوری ٹیم 268 پہ آل آوٹ ہوی تھی ، 268 میں سے 156 اس کے تھے۔
اسی طرح جب سری لنکا کی پہلی وکٹ دس سے بیس رنز کے بیچ میں گرتی تو ادھر اس کی ایوریج 56.18 کی رہی۔ ہوبارٹ میں بنائے گئے اس کے شاندار 192 رنز جس کو امپائر نے بریک لگایا تھا وہ بھی اس نے تب بنائے تھے جب پانچ سو سے زیادہ کا ٹارگیٹ چیز کرتے ہوے چوتھی اننگز میں سری لنکا کی پہلی وکٹ 15 پہ گر گئی تھی۔ اور نیوزی لینڈ میں نیوزیلینڈ کے خلاف 203 رنز جیسی ڈبل سینچری اس نے تب بنائی تھی جب ان کا ایک اوپنر محض 18 رنز پہ ہی وکٹ کھو بیٹھا تھا۔
اگر سری لنکا کے اوپنرز اچھے ہوتے ، میتھیو ہیڈن، جسٹن لینگر، سہواگ، الیسٹر کک ، اینڈریو اسٹراس اور گریم سمتھ وغیرہ کی طرح تو شاید سنگاکارا کے نمبرز کچھ اور ہی ہوتے، مگر ایسا نہ ہوسکا ۔
سنگاکارا نے دو سو سے زائد اننگز نمبر تین پہ کھیلیں ، ان اننگز میں سری لنکا کے اوپنرز کی ایوریج محض 34 رنز کی تھی۔ اس کے بعد سنگا آکر اننگز کو اکثر سنبھالتا رہا۔
جب سری لنکا کی پہلی وکٹ 21 سے 49 تک گرتی تو ایسی 61 اننگز میں سنگا کی ایوریج 56.77 تک رہی ۔
اور ایسی 34 اننگز جن میں اوپنرز 50 سے 99 رنز تک کھڑے رہ جاتے تو سنگاکارا بھی سکون سے رنز کرتا تھا ، ان 34 اننگز میں اس کی ایوریج 73.41 کی تھی۔
اور فقط 14 بار ایسا ہوا کہ سری لنکا نے سو رنز یا اس سے زیادہ کا اوپننگ اسٹینڈ دیا تو ان 14 اننگز میں سنگاکارا بھی لگ بھگ بریڈمین بن جاتا تھا جہاں اس کی ایوریج ایسے 14 مواقع پر 91.50 کی بن جاتی ہے۔
کسی بھی ایشین بلے باز کے لیے سب سے بڑا چیلینج ایشیا سے باہر رنز کرنا ہوتا ہے، اور ایشیا سے باہر بھی سنگاکارا کے رنز اتنے برے بھی نہیں ہیں۔ اور خاص طور باقی تمام سری لنکن بلے بازوں سے تو سنگاکارا ایشیا سے باہر بہترین ہی کھیلا ہے۔
اور اس ضمن میں سب سے بڑا نقصان جو سنگاکارا کو ہوا وہ سری لنکن ہونے کا بھی ہوا۔ سری لنکن ٹیم کو ایشیا سے باہر کھیلنے کا بہت ہی کم موقع ملا، پاکستان سے بھی بہت کم سری لنکا نے ایشیا سے باہر میچز کھیلے ، اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ 2003 سے 2011 تک کے اٹھ سالوں میں سری لنکا نے ایک بھی سیریز جنوبی افریقہ میں نہیں کھیلی۔ اور ایشیا سے باہر نیوزی لینڈ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا یا افریقہ وغیرہ میں مشکل سے ایک آدھ سیریز سالوں بعد ہو بھی جاتی تو وہ زیادہ تر دو میچز پر مشتمل ہوتی ۔ اب ایک تو سالوں بعد کوئی کہیں کھیلنے جائے اور دوسرا فقط دو ہی میچز کھیلنے کو ملے یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ مگر پھر بھی ایسے حالات میں سنگاکارا نے اپنے آپ کو اچھا ایڈجسٹ کیا تھا۔
آسٹریلیا میں 15 سالوں کے کیریر میں سنگا فقط پانچ ٹیسٹ میچز کھیل سکا، ان پانچ میچز میں اس کی ایوریج 60.33 کی ہے
15 سالوں کے کیریر میں نیوزی لینڈ میں فقط چھے ٹیسٹ میچز کھیلے ادھر سنگا کی ایوریج پورے 61 رنز کی ہے۔
دوسری طرف سچن ڈریوڈ والے ہیں جو ایک ہی سیریز میں چار چار پانچ پانچ میچز کھیل آتے ہیں۔
انگلینڈ میں سنگا کی 41 کی ایوریج ایسے حالات میں ہرگز بری نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ والوں نے واقعی سنگا کو رنز کرنے نہیں دیے جہاں آٹھ میچز میں سنگا کی ایوریج 35.57 کی ہے۔ اتنے لمبے کیریر میں ویسٹ انڈیز میں سنگا فقط چار میچز ہی کھیل پایا۔ اب 15 سالوں میں فقط چار میچز کو لے کر آپ کسی کے پورے کیریر کو جج تو نہیں کرسکتے۔ پھر بھی سنگا کی آسٹریلیا میں ایک سینچری ہے، نیوزی لینڈ میں تین سینچریز ہیں، انگلینڈ میں دو سینچریز ہیں، جنوبی افریقہ میں بھی ایک ہی سینچری ہے، جب کہ ویسٹ انڈیز میں چار میچز میں اس کی کوئی سینچری نہیں۔ اب اپنے پرائم ٹائم میں 2008 کے بعد آخر تک ایک میچ بھی اس نے اتنے سالوں میں اس نے ویسٹ انڈیز میں نہیں کھیلا۔
زمبابوے کو نکال کر باقی ان سب غیر ایشیائی ممالک کو ملاکر سنگا کی ایوریج ان ممالک میں 44.58 کی ہے۔
زمبابوے کو نکال کر چودہ پندرہ سری لنکز بلے باز ہوں گے جنھوں نے ایشیا سے باہر 1000 رنز کیے ہیں ان سب میں اس کی یہ 44.58 کی ایوریج سب سے بہترین ہے۔ باقی 14 پندرہ کھلاڑیوں میں سے کسی بھی ایوریج 40 کی بھی نہیں بنتی ۔ ایشیا سے باہر زمبابوے کو نکال کر سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ رنز سنگا ہی کے ہیں۔ ان کے ہی ساتھی مہیلا ہی کی ایوریج ایشیا سے باہر زمبابوے کو نکال کر 33 کی بھی نہیں بنتی۔ وجہ وہی ہے کہ سری لنکا نے بہت کم دورے ان ممالک کے کیے، اس لیے سری لنکن بلے باز خود کو کبھی ایڈجسٹ ہی نہ کر پائے تاہم سنگاکارا کے بلے سے پھر بھی کچھ نہ کچھ رنز آ ہی گئے۔
پھر سنگاکارا جس زمانے میں کھیلا اسی زمانے کی بات کریں، گواسکر اور میانداد تک نہیں جاتے، سنگا کے ہی عہد میں جن بلے بازوں نے سینا ممالک میں دو ہزار سے زائد ٹیسٹ رنز بنائے ان میں سچن اور ڈریوڈ کی ایوریج کے بعد سب سے بہترین ایوریج سنگاکارا کی ہے ۔ انضمام ، محمد یوسف، گنگولی اور لکشمن بھی سنگا سے زیادہ سینا ممالک میں کھیل کر سنگا سے ایوریج میں نیچے ہین۔
اب جس جس نے سینا ممالک میں دو ہزار ٹیسٹ رنز بنائے ان کے میچز اور ایوریج دیکھیے اور سنگا کی ایوریج اور میچز دیکھیے، سنگا آدھے ہی میچز کھیلا ہے سچن اور ڈریوڈ کے مقابلے میں؛
سینا ممالک میں؛
ڈریوڈ کی ایوریج 53.13 (63 میچز میں
گواسکر کی ایوریج 51.57 (46 میچز میں
سچن کی ایوریج 50.90 ( 73 میچز میں
جاوید میانداد کی ایوریج 46.38 (46 میچز میں
سلیم ملک کی ایوریج 45.47 (33 میچز میں
سنگا کی ایوریج 44.58 (34 میچز میں
انضمام کی ایوریج 44.18 (44 میچز میں
یوسف کی ایوریج 44.11 (33 میچز میں
لکشمن کی ایوریج 42.37 (57 میچز میں
گنگولی کی ایوریج 41.70 (41 میچز میں
پوری فہرست کو دھیان سے دیکھیے، ایک ہی سری لنکن نظر آئے گا، جو کم مواقع ملنے کے باوجود چھٹے نمبر پہ ہے۔ باقی تمام بلے باز اکثر ان ممالک کے دورے کرتے رہے ، نہ صرف دورے تھے بلکہ لمبے لمبے دورے تھے، ایڈجسٹ ہو جاتے تھے، مگر سنگاکارا کو کسی بھی غیر ایشیائی ملک میں ایڈجسٹ ہونے کا وقت کبھی نہیں ملا۔ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز بھی قسمت سے ہی ملتی تھی ورنہ دو میچز ہی بہت تھے بس۔ ایسے حالات میں اتنے رنز ایسی اوسط سے کرنا سنگاکارا کا کمال تھا۔ وہ سنگا جس کی ٹیسٹ کرکٹ میں شروعات سے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی بطور بلے باز کوئی ویلیو نہیں تھی ، وہ سنگا جس کی پہلی سینچری بھی کوئی 23 چوبیس سال کی عمر کے بعد آئی تھی۔
پاکستان کے خلاف اسکور کیے گئے اس کے 2911 رنز آج تک اپنی مثال آپ ہیں جہاں اس کی ایوریج 74.64 کی رہی۔ اب تک لگ بھگ 80 بلے باز کسی ایک ٹیم کے خلاف دو ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں ان میں سب سے بہترین ایوریج 89.78 بریڈمین کی انگلینڈ کے خلاف ہے تو دوسرا نمبر سنگاکارا کی پاکستان کے خلاف ایوریج 74.64 کا ہے۔
تیسرا نمبر جیک کیلس کی ویسٹ انڈیز کے خلاف 73.62 کی ایوریج کا ہے۔
ان 80 بلے بازوں میں سے بریڈمین ، سنگا اور کیلس ہی ایسے بلے باز ہیں جنھوں کسی ایک ملک کے خلاف ستر سے زیادہ کی ایوریج کے ساتھ دو ہزار رنز بنائے ہیں۔
سنگا نے جب 5000 ٹیسٹ پورے کیے تو اس کی ایوریج 51.07 کی تھی۔
اس وقت 5000 رنز والوں میں اس کی ایوریج 21ویں نمبر پہ تھی۔ پہلے نمبر پہ بریڈمین تھا۔
سنگا نے جب 6000 ٹیسٹ رنز پورے کیے تو اس کی ایوریج 56.37 کو پہنچ چکی تھی۔
ایوریج میں 21ویں نمبر سے چھٹے نمبر پر پہنچ چکا تھا۔ پہلا نمبر ابھی بریڈمین کا تھا۔
جب سنگا نے 7000 ٹیسٹ پورے کیے تو کچھ ایوریج کم ہوکر 55.43 تک آگئی، ایوریج میں چھٹے سے ساتویں نمبر تک آگیا۔
جب اس کے 8000 ہوے تو ایوریج 56.85 کی ہوگئی
جب اس کے 9000 ہوے تو ایوریج 56.98 تھی
10000 تک پہنچتے پہنچتے ایوریج کم ہوکر 55.66 تک آگئی
11000 پہ اس کی ایوریج 57.83 کی تھی
12000 پہ 58.93 کی تھی۔
12400 پہ کیریر ختم ہوا تو آخری چار میچز میں اسکور نہ کرسکنے کی بنا پر ایوریج 57.40 کی ہوگئی۔ ٹیم پہ مزید بوجھ نہ بننے کی سوچتے ہوے وہ ٹیسٹ کرکٹ کو چھوڑ گیا، اس حال میں اس کا آخری میچ دیکھنے اس کے ملک کے صدر اور پرائم منسٹر بھی اس کو الوداع کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
سنگا کا مکمل ٹیسٹ کیریر
میچز 134
اننگز 233
ناٹ آؤٹ 17 بار
رنز 12400
ایوریج 57.40
38 سینچریز
52 ففٹیز
اب ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ مین آف دا میچز ایوارڈز لینے والوں کی لسٹ پہ غور کیجیے؛
جیک کیلس آل راؤنڈر تھا
166 ٹیسٹ میچز میں 23 ایوارڈ
مرلی دھرن بولر تھا
133 ٹیسٹس میں 19 ایوارڈز
وسیم اکرم بولر تھا
104 ٹیسٹس میں 17 ایوارڈز
شین وارن بولر تھا
145 ٹیسٹس میں 17 ایوارڈز
سنگاکارا بیٹسمین تھا
134 ٹیسٹس میں 16 ایوارڈز
پونٹنگ بیٹسمین تھا
168 ٹیسٹس میں 16 ایوارڈز
کرٹلی ایمبروز بولر تھا
98 ٹیسٹس میں 14 ایوارڈز
اسٹیو وا بیٹسمین تھا
168 ٹیسٹس میں 14 ایوارڈز
سچن بیٹسمین تھا
200 ٹیسٹس میں 14 ایوارڈز
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہی وہ نو کھلاڑی ہیں جو 14 یا 14 سے زیادہ مین آف دا میچز ایوارڈز کے سکے۔
آل راؤنڈر اور بولرز کو ایک طرف رکھیے تو سنگاکارا ان بلے بازوں میں سب سے کم میچز کھیلنے کے باوجود آپ کو سب سے زیادہ ایوارڈز لیتے ہوے نظر آئے گا۔
دس برس قبل 2015 میں آج ہی کے روز 24 اگست کو اس عظیم کھلاڑی نے ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہا تھا۔
اس کے جانے کا وقت نہیں تھا پر وہ چلا گیا
بشکریہ (کرکٹ کارنر )