جی ہاں اُس وقت فلم سٹار ریما خان نے کتاب میلے کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن لگ یہی رھا تھا کہ رونق محفل وہی تھیں۔اگرچہ یہ پرانی بات ہے۔اتنا غور کرنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکمل تحریر پڑھیں

آواز شہزاد چوہدری

0
جی ہاں اُس وقت فلم سٹار ریما خان نے کتاب میلے کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن لگ یہی رھا تھا کہ رونق محفل وہی تھیں۔اگرچہ یہ پرانی بات ہے۔اتنا غور کرنے والی بھی نہیں،انہونی بھی نہیں۔لیکن ہمارے روئیے ہماری سوچ ہماری ترجیحات کا بہرحال تعین کرتی ہے۔
یہ ایک اچھا اور کامیاب پروگرام تھا۔اسلام آباد شکرپڑیاں میں پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں ایک کتاب میلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔اور اس میلے میں ملک بھر سے مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔یقیناً وہی لوگ مدعو کئے گئے تھے جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح کتاب سے جڑا تھا۔لاہور اور کراچی سے بھی کافی مہمان تشریف لائے۔یہ میلہ تین دن جاری رھا۔اس میلے میں کیا تھا؟؟؟ کیا دیکھا ؟؟؟
وہ سب کے ساتھ شئیر کرنا ضروری ہے بھی اور نہیں بھی ۔
ہمارا کیا لینا دینا کتاب سے۔اب تو بہت بڑے بڑے فلاسفر بھی فیس بک،ٹوئٹر ،انسٹا اور یوٹیوب سے چند باتیں چند خبریں چند مفروضے سن کر اپنی دانش کے موتی بکھیر رھے ہوتے ہیں۔بھلا ان کو کیا ضرورت ہے کتاب کی ۔اب تو چیٹ جی پی ٹی سے علاج بھی ہورھا ہے اور علم بھی حاصل کیا جارھا ہے۔مشورے بھی لئے جارھے ہیں اور تجاویز بھی۔ان حالات میں بھی کچھ عرصہ قبل یہاں کتاب میلے بھی منعقد ہوتے تھے۔کتنی عجیب بات ہے ناں یہ۔۔۔ ہم جس میلے کی بات کررھے ہیں۔یہ بہت پہلے کی بات ہے۔یہ اس لئے بتا رھا ہوں کہ جن کا آگے ذکر آئے گا ان میں سے کئی میانی صاحب اور کئی ایچ ایٹ اور الیون میں جاچکے ہیں۔پہلے تو یہ کہ اُس کتاب میلے کا افتتاح کس نے کیا یاد نہیں لیکن مرکز نگاہ ریما خان تھیں ۔۔۔
یہ ایک اہم بات ہے۔۔لیکن اہم بات کیوں ہے ؟؟؟ اس کا جواب بھی اسی تحریر میں موجود ہے۔
میلے کا افتتاح فلم سٹار ریما نے نہیں کیا پھر سب کچھ ریما کے گرد کیوں گھوم رھا تھا۔ریما ہماری فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہے۔ فلم فیسٹیولز،سمر فیسٹیولز،میوزک فیسٹولز،جشن بہاراں،ڈرامہ فیسٹیولز،کلچرل فیسٹیولز میں تو ان کی شرکت کی سمجھ آتی ہے۔۔لیکن کتاب میلے کے لئے ان کو امریکہ سے بلانا سمجھ سے بالاتر تھا۔ غیر دانستہ میلے میں ہم دیر سے پہنچے۔۔
لیکن جب وہاں پہنچے تو ایک عجیب منظر دیکھا۔۔۔۔
سب ادیب شاعر کسی کونے کھدرے میں کھڑے تھے۔ایک طرف عطاءالحق قاسمی ان کے ساتھ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ،سرفراز شاہد اور بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ایک طرف انور مسعود نظر آئے ان کے ساتھ امجد اسلام امجد تھے۔بانو آپا بھی تھیں۔ان کے ساتھ بھی کچھ اور خواتین کھڑی تھیں۔ایک طرف
کشور ناہید اور ان کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے تھے۔زاہدہ حنا تھیں۔مطلب بڑا بھرپور میلہ تھا۔
ایک جگہ ہمیں بہت رش نظر آیا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے دوست بھی اس رش کی طرف نظر آئے سوچا ادھر جا کے دیکھتے ہیں کہ کیا ہے؟؟؟
یقین جانیں جب جا کے دیکھا کہ کیا ہے تو پھر سوچا کاش یہ سب نہ دیکھا ہوتا۔وہاں فلم سٹار ریما کھڑی تھیں۔کچھ لوگ ان سے میڈیا ٹاک کررھے تھے اور کچھ سیلفیاں بنا رھے تھے۔۔۔مایوس ہو کر وہاں سے سٹالز کی طرف جانے کے لئے مڑے۔
تو ایک شخص ہاتھ میں سگریٹ سلگھائے
سیڑھیوں کے ساتھ کھڑا سب کچھ دیکھ رھا تھا۔ آگے بڑھ کے سلام دعا کی حال احوال پوچھا تو ساتھ کھڑا الیکٹرانک میڈیا کا متحرک جرنلسٹ حیران ہورھا تھا۔۔۔۔
اس کی طرف دیکھا تو اس نے عجیب بات کردی؟؟؟
بولا یہ جس شخص کے پاس آپ کھڑے تھے یہ کون تھا؟؟؟
یقیناً یہاں یہی سوال بنتا تھا کہ آپ سینئر جرنلسٹ ہو آپ نہیں جانتے یہ کون تھا؟؟؟؟
وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے بولا نہیں۔۔۔اس کو بتایا کہ بھائی یہ پاکستان کے نامور رائٹر
اصغر ندیم سید ہیں۔
اس نے حیرت سے لمبی آہ بھری یا طنزیہ سے لہجے میں کہا ” اچھااااااا تو یہ ہیں اصغر ندیم سید ۔۔۔اس کو بتایا کہ جی جی بدقسمتی سے یہی ہیں اصغر ندیم سید ۔
وہاں سے نکلے
ایک دو کتابیں اچھی لگیں وہ خریدیں ۔انتہائی کم قیمت پہ دستیاب تھیں۔
وہاں سے نیچے آئے تو ایک طرف منو بھائی کھڑے تھے ان کے ساتھ ملاقات کی۔اجازت مانگ کے تصویر بنوائی۔۔۔
اور پھر ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے ملے۔وہ ان دنوں نیشنل بک فاونڈیشن کے سربراہ بھی تھے۔ان سے تھوڑی بات چیت کی۔اس دوران عطاءالحق قاسمی سے بھی ملاقات ہوئی ۔ادھر یونیفارم میں کچھ طالب علم کھڑے تھے ہم نے اپنی مایوسی دور کرنے کے لئے عطاءالحق قاسمی کی طرف اشارہ کرکے پوچھا بیٹا ان کو جانتے ہو؟؟؟ان میں سے ایک بولا وہ موٹے انکل؟؟؟میں نے کہا جی وہی موٹے انکل۔۔۔
کہنے لگا ہاں دیکھا ہے۔کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر اپنے بچپن کے قصے سنا رھے ہوتے ہیں ٹی وی پہ۔۔۔یہ وہی ہیں ۔۔بالکل یہ وہی ہیں۔مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کا نام نہیں پتہ ہمیں۔۔۔۔
بس مایوسی کیا کم ہوتی اور بڑھ گئی وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ ہمارا سرمایہ ہیں یہ عطاءالحق قاسمی ہیں ۔۔۔
اچھا تو لگا اتنے ادیب ،شاعر اور مصنف وفاقی دارلحکومت میں اکٹھے دیکھ کر۔
لیکن عجیب بے چینی سی بھی تھی کہ کیوں
ہم ان لوگوں کو نہیں جانتے جن کو جاننا چاھیے۔
لیکن اس میں ہم سب کا قصور ہے۔
یہی نہیں ہر طرف ایسا ہی سلسلہ ہے۔۔۔۔
کشمیر کاز کے لئے غلام محمد صفی یا سید یوسف نسیم کو بلا لیں تو لوگ جمائیاں لینے لگتے ہیں۔لیکن مشعال ملک کو بلا لیں تو لوگ انہماک سے پروگرام کے اینڈ تک بیٹھے رہتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کچھ سنتے ہیں کہ نہیں۔۔۔۔ہمارے ادبی صفحے بھی اب بے ادب ہی ہوگئے ہیں۔اور ہماری سوچ اور ترجیحات کا دائرہ بھی بدل چکا ہے۔ہر کوئی گلیمر دیکھتا ہے۔
سب کچھ گلیمرائز دکھائی دینا چاھئے۔ڈاکٹر یونس بٹ نے صیحیح کہا تھا جو اپنے حسن سے متاثر کرے اسے حسینہ کہتے ہیں اور جو حسیناوں سے متاثر کرے اسے حسینہ معین کہتے ہیں۔خیر حسینہ معین بھی بہت عمدہ ڈرامے لکھتی تھیں۔پاکستان فرٹائل بہت ہے۔
یہاں کے آرٹسٹ اتنے زبردست ہیں کہ وہ رائٹر کے تھیم کو بھی سمجھ جاتے ہیں۔انور مقصود کو کامیاب معین اختر نے کیا۔
کیونکہ وہ جو لکھتا معین اسے اسی کی سوچ کے مطابق پرفارم کرتا۔۔۔
اصل میں ادب ایک سنجیدہ موضوع ہے۔لیکن ہم نے اس کو ہمیشہ اگنور کیا۔
میں خود سمجھتا تھا کہ علی پور کا ایلی اتنی موٹی کتاب ہے اس کو بندہ کیوں پڑھے۔لیکن جب آپ ٹیبل لیمپ آن کرکے سٹڈی ٹیبل پہ اس کو کھولیں تو آپ کا دل چاھے گا کہ مکمل کرکے اٹھیں۔
اسی طرح شہاب نامہ کھولیں تمام تر تحفظات کے باوجود آپ پڑھتے چلے جاتے ہیں۔راجہ گدھ ایک الگ موضوع ہے۔مستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے پڑھیں تو بندہ گھر بیٹھے ان تمام مقامات کی سیر کرلیتا ہے جن کی داستانیں مستنصر حسین تارڑ نے بیان کی ہیں۔مشتاق یوسفی کا کلاسیک مزاح ایک طرف اور ڈاکٹر یونس بٹ کا جدید مزاح دوسری طرف۔
سب کچھ ہے ہمارے پاس۔
یونیورسٹی میں استاد کہتے تھے کہ بہت سے رائٹرز کو نہ لکھنے کے پیسے دئیے جاتے ہیں۔
وہ اس وقت بھی آف دی ریکارڈ کہتے تھے اور کھل کے بات نہیں کرتے تھے۔
بڑے ہوئے پریکٹیکل لائف میں دیکھا کہ ایسا ہی ہے۔پاکستان کے لیڈنگ چینل پہ مستنصر حسین تارڑ سے کچھ سیکھنے کی بجائے ہم نے انھیں شادی آن لائن پروگرام میں بٹھا دیا ۔امجد اسلام امجد،منو بھائی سے کوئی ڈرامہ اور فلم لکھوانے کی بجائے انھیں کالم لکھنے کا کہہ دیا۔یا شاید وہ اپنی دال روٹی کے لئے کالم لکھتے رھے۔ہم چاھتے ہی نہیں تھے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے معاشرے کی اصلاح ہوسکے۔عطاءالحق قاسمی سیاست کی نذر ہوگئےخواجہ اینڈ سنز اور شب دیگ جیسے ڈرامے لکھنے والا بھلا ایسا شاہکار اب کیوں نہیں لکھ رھا۔۔۔
بہت سے لوگ مایوس ہیں۔لیکن بتاتے نہیں ہیں کہ وہ مایوس ہیں۔۔۔۔جیسے ہم سب غریب ہیں لیکن تسلیم نہیں کرتے کہ غریب ہیں۔ہم مڈل کلاس کہہ کرخود کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں۔
خیر چھوڑیں غربت اور غریبوں کو جب بھی جینے کا مزہ آنے لگتا ہے
یہ غریب اور غربت مزہ کرکرا کر دیتے ہیں۔
ہم اچھی بھلی ریما کی بات کررھے تھے۔وہ جرنلسٹ دوست میرے ساتھ تھا جو اصغر ندیم سید کا پوچھ رھا تھا۔اسی سے پوچھا فریال گوھر کا پتہ ہے۔کہنے لگا ہاں جمال شاہ اور فریال گوھر کی علیحدگی ہوگئی ہے۔ہم اس کی معلومات پہ خوش ہوئے لیکن حیران نہیں ہوئے۔پوچھا اس کا کوئی ڈرامہ دیکھا ہے آپ نے ؟؟؟
بولا ہاں چاند گرہن دیکھا ہے۔
پوچھا کس نے لکھا تھا چاند گرہن؟؟؟
کہنے لگا پتہ نہیں۔۔۔
بتایا کہ بھائی وہ جو سگریٹ پی رھا تھا اسی نے لکھا تھا یہ شاہکار ڈرامہ۔۔۔
اس نے حیرانگی سے دیکھا اور آگے کنٹین کی طرف چل دیا۔۔۔
قصور ہمارا ہے
کبھی لاہور کا سٹیج بہت ہی مقبول تھا۔
لوگ امان اللہ،ببوبرال،سہیل احمد مستانہ کے ڈرامے دیکھتے تھے۔پھر کیا ہوا؟؟؟سٹیج میں مجرا ہونے لگا۔اس طرف کراوڈ بھی جانے لگا۔۔۔
مجرا پہلے ٹھمکوں سے شروع ہوا۔۔۔پھر ویلگیرٹی کی انتہاء تک پہنچ گیا۔۔۔سٹیج کا ٹکٹ مہنگا اور معیار گھٹیا ہوگیا۔۔فن پیچھے رہ گیا۔فحاشی اور بے حیائی آگے نکل گئی۔۔۔۔۔۔
پھر ایسا ہوا جن پولیس والوں کے علاقے میں تھیٹر تھے وہ مجرا کرنے والیوں کو تحفظ اور فنکاروں کو دھتکارنے لگے۔۔۔
مستانے کو پولیس نے پکڑا تو اس نے اسے بتایا کہ میں مستانہ ہوں۔جس پہ پولیس والے نے اس کے منہ پہ تھپڑ مارا اور کہا کون مستانہ چل تھانے۔۔۔اس کے بعد مرنے تک مستانہ کسی کو نظر نہیں آیا۔
وہ پولیس والا کبھی بھی خوشبو کو تھپڑ نہیں مارے گا۔۔۔
عجیب بات ہے لیکن یہی سچ ہے۔
عابد باکسر دبنگ پولیس افسر تھا۔اس نے نرگس سے شادی کرلی۔۔۔
یوں قانون اور سٹیج ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
ہر طرف ایسا ہی ہے۔اور یہی کچھ چل رھا ہے۔موضوع اتنا وسیع ہے کہ بار بار میں بھٹک جاتا ہوں۔
منو بھائی نے سونا چاندی لکھا تو کمال کردیا۔کوئی بتلائے ایسا کوئی لکھ سکتا ہے؟؟؟؟
وارث کس نے لکھا؟؟؟
بس چھوڑیں۔
کیا فائدہ ان فضول باتوں کا۔۔۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اچھا کیا ریما کو بلا کر۔
اگر وہ میرا کو بھی بلا لیتے تو ہم کیا کرسکتے تھے۔یقین جانیں
ہماری بدبختی ہے۔۔۔ہم قدر کرنے والوں کی قدر نہیں کرتے۔ٹرک آرٹ دنیا میں ہماری پہچان بنا۔آپ حیران ہوں گے کہ ملکہ برطانیہ کو تحفے میں دئے جانے والے ٹرک پر پینٹنگ کرنے والا آرٹسٹ بیچارہ کس حال میں ہے۔
اس ملک میں سب کچھ ہے۔۔۔
کیا نہیں ہے۔۔۔۔
ساغر،فیض،منیر نیازی،ناصر کاظمی،محسن نقوی،احمد فراز،پروین شاکر،احمد ندیم قاسمی کتنے بڑے بڑے نام یہاں پیدا ہوئے۔۔۔لیکن ہم نے کسی کی قدر نہ کی۔۔۔۔
ادب ہماری ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔۔۔
اب تو بڑی بڑی بک شاپس ختم ہوتی جارھی ہے۔
دیکھیں کب سب کچھ ڈیجیٹل ہوجائے۔
ویسے جو مزہ کتاب پڑھنے میں ہے۔کاغذ پہ لکھنے میں ہے۔وہ مزہ سکرین پہ انگلیاں چلانے میں کہاں۔۔۔
لیکن بدل رھا ہے جہاں۔۔ہمیں بھی بدلنا پڑے گا۔۔۔۔نہ بدلا تو پیچھے رہ جائیں گے۔۔۔پیچھے رہ گئے تو کہیں گم ہو جائیں گے۔کہیں گم ہوگئے تو پھر کھو جائیں گےکہیں کھوگئے تو ہمیں ڈھونڈے گا کوئی نہیں۔جب ڈھونڈے گا کوئی نہیں تو مایوس ہوجائیں گے۔اور مایوسی تو گناہ ہے۔۔۔
پس ہم نے گناہ نہیں کرنا۔۔۔۔
ہم نے بھی خود کو بدلنا ہے۔۔۔
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ان سب ادیبوں کے دیوان ری فریش کریں۔ہم عطاء الحق قاسمی سے اجازت لے کر دوبارہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ خواجہ اینڈ سنز بنائیں۔علی اعجاز نہیں ملے گا لیکن ڈھونڈنے سے کردار کو نبھانے والا مل ہی جائے گا۔۔۔۔وارث بنائیں
محبوب عالم نہیں تو کسی توقیر ناصر سے کام چلا لیں۔۔
آئیں ففٹی ففٹی سمیت سب کو ریوائیو کریں۔۔آئیں مستنصر حسین تارڑ،انور مقصود،عطاءالحق قاسمی،نورالھدیٰ شاہ کا ترلہ کریں کہ وہ ٹیلی وژن کے لئے کچھ لکھیں۔۔
آئیں افتخار عارف سے کہیں کچھ کھل کے لکھیں۔۔۔۔آئیں رشید بٹ کی منت کریں وہ اپنے خطاطی کے نمونے ہمیں عطیہ کریں اور ہم ان کو اپنے اہم مقامات پہ ڈسپلے کریں۔۔۔
ہم فرحت عباس شاہ سے کہیں یار کچھ اچھا لکھ۔۔۔وصی شاہ سے کہیں یار تو لکھنے کی بجائے اداکاری کر کمپئرنگ کر۔۔۔۔ہم سہیل احمد سے کہیں کہ ہم تجھے عزیزی مزید نہیں دیکھنا چاھتے اپنا کام کر۔۔۔تجھے ابھی بہترین تو کرنا ہے۔۔۔۔۔امانت چن ،نسیم وکی کو کہیں کہ یار ڈرامہ نہ چھوڑو۔راحت کو کہیں پیسے تو بہت کماتا ہے کبھی عام لوگوں کے لئے ان میں بیٹھ کے بھی گا یار۔۔۔۔
ان لوک ورثوں ،ان آرٹس کونسلوں ان ثقافتی اور ادبی اداروں کی رونقین بڑھائیں۔
یار
ایک بار سب اپنے ماضی کو یاد کرکے اس جیسا کچھ کریں۔ہماری نسل کو ضرورت ہے۔
اچھے ادب کی ،اچھی شاعری کی اچھے ڈرامے اور اچھی فلم کی اچھے تھیٹر کی اچھے مزاح کی اور اچھی موسیقی کی۔یار 20 ،30 سال سے کوئی ڈھنگ کا ملی نغمہ نہیں گاسکے ہم۔آئیں پرانی دھنوں پہ نئی آواز کے ساتھ ملی نغمے ریکارڈ کریں۔۔۔دل دل پاکستان کے لئے علی عظمت کی منت کریں۔۔۔۔
کچھ کرجائیں یار۔۔۔
نہ کرسکے تو پھر ہماری نسل پہلے ریما میرا اور اب جنت مرزا اور سرسراہٹ ،گھبراہٹ،تھرتھراہٹ کے حوالے ہے۔۔۔
پلیز کچھ کرلیں
ابھی بھی وقت ہے۔۔۔۔۔
sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.