کوئی اعجاز الحق کو بتائے کہ آج 17 اگست ہے۔
3 بج کر 51 منٹ پہ وہ اپنے بابا کے لئے دعا ئیہ تقریب کا اہتمام کرتا تھا۔
اقتدار اور اس کی بھول بھلیاں بہت ہی عجیب ہیں۔۔۔ چڑھتے سورج کی پوجا کی جاتی ہے اور ڈھلتے سورج کو کوئی مڑ کے نہیں دیکھتا۔
ضیاءالحق کی آئیڈیالوجی سے شدید اختلاف کے باوجود آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ 11 سال وہ ملک کے سیاہ وسفید کا مالک رھا۔وہ جو چاھتا تھا وہ ہوتا تھا۔وہ جو کرتا تھاسب اس پہ واہ واہ کرتے تھے۔پھر اینٹی بھٹو اور پرو بھٹو والی سیاست ہوئی تو ضیاءالحق میں کچھ لوگوں کو امیر المومنین بھی دکھائی دینے لگا۔آج کئی چی گویرے اسی ضیاءالحق کی پنیری کے لگائے ہوئے پودے ہیں۔افسوس کے اس دنیا میں سب سے طاقتور بس وقت ہے۔ہر حال میں گزر جاتا ہے
اور جب گزر جاتا ہے تو لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔
لوگ بدل جائیں تو خیر ہے لیکن اولاد تو نہیں بدلتی۔بہت پہلے 80 کی دہائی کے آخری دو سال اور 90 کی دہائی میں ضیاءالحق کی برسی اینٹی بھٹوز کا ایک بہت بڑا اجتماع ہوتا تھا۔
2000 کے بعد یہ اجتماع سکڑنا شروع ہوگیا۔پھر یہ ایک ہوٹل کے ایک ہال تک محدود ہوگیا۔
آجکل شاید وہ بھی نہیں ہورھا۔
اصل مسلہ یہ نہیں ہے کہ وہ اجتماع کیوں ختم ہوگیا۔اصل مسلہ یہ ہے کہ ضیاءالحق کی ایک لیگیسی تھی جو وہ چھوڑ کے گیا تھا۔اس کی اولاد اس کو نہیں سنبھال سکی۔وہ ایک سمبالک اجتماع کی روایت کو بھی برقرار نہیں رکھ سکی۔
انتہائی ڈیسنٹ اعجاز الحق اس سلسلہ میں عموماً 17 اگست سے چند دن پہلے کہیں نہ کہیں سے میڈیا کی زینت بنتا اور اپنے بابا کی برسی پہ اجتماع کا اعلان کرتے تھا۔
شروع کے چند سال تو وہ جوش خطابت میں بابا کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا بھی اعلان کرتا تھا۔لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ ایسی باتوں سے اجتناب برتنے لگے۔بہرحال یہ ایک ریمائینڈر ہے۔عام ریڈر کے لئے نہیں ۔۔اعجاز الحق کے لئے ریمائنڈر ہے کہ آج ان کے بابا کی برسی ہے۔
پتہ نہیں آج وہ 3 بج کر 51 منٹ پہ دعائیہ تقریب کا اہتمام کریں گے کہ نہیں۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔
Prev Post
Next Post