فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن: میڈیا کیلئے گمبھیر خطرہ

تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ

0

اطلاعات کے موجودہ ڈیجیٹل دور میں خبر بجلی کی رفتار سے حرکت کرتی ہے لیکن اس رفتار میں اعتبار اور سچائی کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ فیک نیوز (جعلی خبریں) اور ڈس انفارمیشن (جان بوجھ کر پھیلائی گئی گمراہ کن معلومات) نے پاکستان کے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
یہ اخبار میں چھپنے والی چند غلط سرخیوں یا ٹی وی پر چلنے والی چند افواہوں کا معاملہ نہیں بلکہ منظم نیٹ ورکس، منصوبہ بند ٹرول فیکٹریز اور الگورتھمک پروپیگنڈا کے ذریعے حقائق کو بدل دینے کی ایک کھُلی جنگ ہے جس کے نتیجے میں صحافت کا اخلاقی وجود، عوام کا اعتماد اور معاشرتی ہم آہنگی بیک وقت خطرے سے دوچار ہیں۔
فیک نیوز کے نیٹ ورکس: ایک منظم سسٹم
پاکستان میں فیک نیوز کا پھیلاؤ اب انفرادی سطح پر نہیں رہا بلکہ یہ باقاعدہ نیٹ ورکس کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اِن نیٹ ورکس میں تین اہم کردار ادا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں۔
جعلی ویب سائٹس اور بلاگز:
یہ ایسے آن لائن پورٹلز ہیں جن کے نام معروف میڈیا اداروں سے ملتے جلتے رکھے جاتے ہیں۔ (مثلاً BBC Breaking Urdu، Geo Alert، ARY Hot News وغیرہ) مگر درحقیقت ان کا کوئی ادارتی وجود نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر EU DisinfoLab نے 2021 میں اپنی رپورٹ “Indian Chronicles” میں انکشاف کیا تھا کہ خطے میں کم از کم 265 ایسی بڑی فیک ویب سائٹس فعال تھیں جو جعلی خبروں کے ذریعے علاقائی سیاست کو متاثر کر رہی تھیں اور پاکستانی قارئین اور ناظرین بھی اُن کا اہم ہدف تھے۔
وائرل میسج چینز:
فارورڈنگ میسیج چینز میں واٹس ایپ، فیس بک اور ٹیلیگرام پر چلنے والی نیوز شامل ہیں جن میں رپورٹس، آڈیوز یا آرٹیکلز بغیر کسی مستند ذریعہ کے وائرل کر دیے جاتے ہیں۔
Bytes for All Pakistan کی 2022 رپورٹ کے مطابق کرونا وبا کے دوران فیک میڈیکل نیوز کے 73 فیصد مواد کا ذریعہ ایسے ہی میسنجر پلیٹ فارمز تھے۔
مقامی اور عالمی ایجنڈا ڈرائیون نیٹ ورکس:
بعض مقدمات میں بیرونی ریاستی یا غیر ریاستی عناصر پاکستان میں سماجی یا فرقہ وارانہ اختلافات بڑھانے کیلئے فیک نیوز نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہیں۔ 2019 میں Facebook نے ایک ایسے نیٹ ورک کو ڈیلیٹ کیا جس کے 103 پیجز اور 78 اکاؤنٹس پاکستان میں سیاسی مواد پھیلا رہے تھے اور وہ ایک "coordinated inauthentic behaviour” )غیر مصدقہ مربوط رویے) میں ملوث پائے گئے۔

ٹرول فیکٹریز: جدید دور کے پراپیگنڈا مراکز
ٹرول فیکٹریاں اُن منظم ڈیجیٹل گروپس کو کہا جاتا ہے جو جعلی پروفائلز استعمال کرکے سیاسی، مذہبی یا طبقاتی بحثوں کو manipulate کرتے ہیں
یہ گروپس اکثر بڑی سیاسی جماعتوں یا اثر و رسوخ رکھنے والے اداروں کے سوشل میڈیا سیلز کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان گروپس کا بنیادی ہدف ڈس انفارمیشن کو amplify کرنا، مخالف صحافیوں پر حملے کرنا اور اپنا سیاسی بیانیہ dominate کرنا ہوتا ہے۔
Stanford Internet Observatory نے 2023 میں اپنی تحقیق میں بتایا کہ پاکستان میں ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ درجنوں WhatsApp گروپس روزانہ کی بنیاد پر ٹرول مواد یعنی memes، hashtags اور scripts بانٹتے ہیں اور ان گروپس کا ہر ممبر دن میں 15 سے 20 ٹوئٹس یا پوسٹس کے ذریعے مخصوص بیانئے کو promote کرتا ہے۔ اس طرح سینکڑوں افراد کا مواد لاکھوں impressions کا حامل بن جاتا ہے۔
Case in Point:
2019 میں #ArrestAntiPakJournalists اور 2020 میں #HangTraitorMedia جیسے hashtags ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہے جو کچھ مخصوص صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار تھے۔
Digital Rights Foundation کی رپورٹ کے مطابق ان hashtags کو پھیلانے والوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ 60 فیصد اکاؤنٹس جعلی یا automated تھے۔
سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کی تکنیکیں:
1. Astroturfing:
اس تیکنیک کے ذریعے عوامی رائے کا جعلی تاثر پیدا کیا جاتا ہے یعنی چند افراد یا bots کو عوامی آواز بنا کر پیش کردیا جاتا ہے۔
2. Hashtag Flooding:
یہ تیکنیک کسی معاملے سے متعلق حقیقی گفتگو کو دبانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس تیکنیک میں سوشل میڈیا پر متوازی hashtags کا سیلاب جاری کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صحافی اغواء ہوگیا تو ٹاپ ٹرینڈ یہ معاملہ ہونا چاہیے لیکن اس طرح کے واقعہ کے وقت unrelated hashtags ٹاپ پر لے آئے جاتے ہیں تاکہ اصل اور بڑا مسئلہ دبا رہے۔
3. Selective Editing & Deepfakes:
اس تیکنیک میں ویڈیوز اور کلپس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پھیلایا جاتا ہے یا AI-generated deepfake clips کے ذریعے کسی شخص کی ساکھ پر حملہ کیا جاتا ہے۔ Reuters Fact-Check نے 2023 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی سات viral ویڈیوز کی نشاندہی کی جو مکمل طور پر deepfake تھیں۔
4. Memetic Warfare:
اس تیکنیک میں Memes کو استعمال کرتے ہوئے سنجیدہ سیاسی یا صحافتی معاملات کو ridicule کیا جاتا ہے تاکہ عوام سوچنے کے بجائے ہنس کر آگے بڑھ جائیں اور اہم سوالات نظروں سے اوجھل رہیں۔

فیک نیوز کے پاکستانی میڈیا پر اثرات:
ساکھ پر اثر اور عوامی اعتماد میں کمی
جب عوام ایک ہی خبر کو مختلف چینلز سے مختلف شکل میں سنتے ہیں تو وہ میڈیا کی سچائی پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ سال 2022 میں Ipsos Pakistan Survey کے سروے کے مطابق 54 فیصد پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ “انہیں یقین نہیں کہ مین اسٹریم میڈیا جو دکھاتا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہوتا ہے”۔
صحافتی معیار کا زوال
جب ٹرول فیکٹریز کسی بھی لمحے کسی رپورٹر یا اینکر کو نشانہ بنا سکتی ہیں تو صحافی محتاط ہونے لگتے ہیں اور self-censorship بڑھتی ہے۔ اس کا براہ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہم قومی مسائل پر تحقیقاتی رپورٹس کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
عوامی تقسیم اور پولرائزیشن میں اضافہ
فیک نیوز اکثر عقیدے، قومیت اور سیاست جیسے حساس موضوعات کو چھیڑ کر عوام کو مختلف خیموں میں بانٹ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ خبریں اکثر گلی محلوں تک نفرت پیدا کر دیتی ہیں۔
مین اسٹریم میڈیا کیلئے جال
ٹی وی چینلز اور اخبارات اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی گمراہ کن خبروں کو بغیر تصدیق کے نشر کردیتے ہیں تاکہ “Breaking” کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں اور اس عمل سے وہ خود فیک نیوز کے پھیلاؤ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل طور پر تصدیق یا حقائق جانچنے کی کوششیں (Fact-Checking) کیوں ناکافی ہیں؟
اگرچہ Soch Fact-Check، AFP Fact Check Pakistan اور Dawn Fact Checker جیسے پلیٹ فارمز فعال ہیں تاہم ڈس انفارمیشن کی رفتار اور volume اتنا زیادہ ہے کہ fact-checking ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس کی تین اہم وجوہات ہیں:
• وسائل کی کمی: فیکٹ چیکنگ ادارے یا ڈیسک محدود اسٹاف اور فنڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
• رسائی کا مسئلہ” فیک نیوز جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے جب کہ fact-checked news چند لوگوں تک پہنچتی ہے۔
• سنسنی خیز کانٹنٹ کی مانگ: عام صارفین جھوٹی مگر سینسیشنل خبروں کو زیادہ شیئر کرتے ہیں جبکہ boring حقائق اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔

فیک نیوز کے خلاف پاکستان کا قانونی اور پالیسی ردعمل:
حکومت نے Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) کے تحت فیک نیوز روکنے کیلئے اقدامات کیے ہیں مگر اس قانون کو اکثر تنقیدی آوازوں کو دبانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے PECA ترمیمی آرڈیننس کو آزادیٔ صحافت کیلئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں حکومت یہ طے کرتی ہے کہ "فیک” کیا ہے جوکہ صحافتی آزادی کیلئے تضاد پیدا کرتا ہے۔

آگے کا راستہ: ممکنہ حل اور حکمت عملی:
جعلی خبر اور ڈس انفارمیشن یقینا ایسے چیلنجز ہے جو روایتی میڈیا کو بری طرح متاثر کررہے ہیں لیکن سوال یہ کہ اس سے نمٹنے کا حل کیا ہے و اس کیلئے درج ذیل اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
1. ڈیجیٹل لٹریسی مہمات:
عوام کو سکھایا جائے کہ خبر کی credibility کیسے چیک کریں URL کی authenticity دیکھیں اور بغیر تصدیق کے اسے فارورڈ نہ کریں۔
2. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری:
ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو چاہیے کہ پاکستانی context کے مطابق content moderation بڑھائیں اور regional fact-checkers کے ساتھ تعلق مضبوط بنائیں۔
3. قانون سازی میں توازن:
ایسے قوانین بنائے جائیں جو فیک نیوز کے اصل نیٹ ورکس کو سزا دیں لیکن صحافیوں اور اختلافی آوازوں کو اظہار رائے سے نہ روکیں۔
4. پروفیشنل جرنلزم کی تربیت:
نیوز رومز میں مباحثے، تحقیق اور تصدیقی کلچر کو فروغ دیا جائے تاکہ سنسنی خیزی کے بجائے مستند صحافت کو ترجیح دی جائے۔
یاد رکھیں! فیک نیوز صرف “غلط خبر” نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک منظم ہتھیار ہے جس نے پاکستان کے میڈیا کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ہتھیار سوشل میڈیا اور الگورتھمز کے ذریعے اپنی تباہی پھیلا رہا ہے، عوام کی رائے کو اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دے دہا ہے، صحافت کی ساکھ تباہ کررہا ہے اور قوم کو تقسیم کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ اگر اس چیلنج کا پائیدار حل تلاش نہ کیا گیا تو سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ہمیشہ کے لیے مٹ سکتی ہے اور جب یہ لکیر مٹ جائے تو جمہوریت اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہ جاتی ہے۔ میڈیا، ریاست، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس ڈس انفارمیشن وبا کے خلاف مشترکہ مزاحمت کرنا ہوگی ورنہ "خبر” مستقبل میں صرف ایک "رائے” بن کر رہ جائے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.