اچھا دکاندار وہ ہے جس کو اپنا سودا بیچنا آتا ہو۔اور خلیل الرحمان قمر کو بیچنا آتا ہے….. وہ بھی ایک عام انسان ہے خطاء کا پتلا۔۔۔۔مکمل تحریر پڑھیں 

شہزاد چوہدری

0

کئی چینلز ہیں

ان پہ کئی ڈرامے ہیں۔کسی کو کچھ نہیں پتہ کونسا ڈرامہ کس نے لکھا؟؟؟

لیکن خلیل الرحمان قمر کے ڈرامے کا سوشل میڈیا پہ پہلے ہی چرچا شروع ہوجاتا ہے۔

وہ بھی ایک عام انسان ہے خطاء کا پتلا۔۔۔غلطیوں سے پاک کون ہے یہاں!!!!!

اچھا دکاندار وہ ہے جس کو اپنا سودا بیچنا آتا ہو۔اور خلیل الرحمان قمر کو بیچنا آتا ہے۔اس کو پسند کرنے والے بھی اس کا ڈرامہ دیکھتے ہیں اور اس کے مخالفین بھی اس پہ انگلی اٹھانے کے لئے اس کے ڈراموں کے ڈائیلاگ سے یا کسی سچوئیشن سے کیڑے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں ان دونوں فہرستوں میں نہیں ہوں۔

میں اس کا ڈرامہ اس وقت سے دیکھتا ہوں جب لوگ اسے نہیں جانتے تھے۔۔۔

بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بعد چاند پور کا چندو اور پھر وہ ڈوڈو والا ڈرامہ تھا اس کا نام ذہن میں نہیں آرھا۔پھر "لو لائف اور لاہور” ، "میں مرگئی شوکت علی” تھا۔اور پھر لنڈا بازار ۔۔۔اس کے بعد پیارے افضل سمیت بنٹی آئی لو یو،انوکھی، اور کافی ڈرامے آئے لیکن پھر ڈسکس میرے پاس تم ہو ہوا۔ابھی کچھ عرصہ قبل جنٹلمین بھی پیش کیا گیا

اس سے قبل لنڈا بازار کا سیکول لال عشق بھی پیش کیا گیا اور آج کل "میں منٹو نہیں ہوں” آن ائیر ہے۔اصل میں روایتی سٹوری اور سچوئشن سے مختلف لکھتا ہے اور سٹوری تو اس کی کبھی بھی اتنی پسند نہیں کی جاتی البتہ آبزرویشن اور ڈائیلاگ یہ دو اس کی خوبیاں ہیں۔معاشرے کے کمزور طبقات پہ اس کی نظر ہوتی ہے اور پھر اس کا مشاہدہ بہت اچھا ہے۔شاید اس نے بچپن ایسے حالات میں گزارا ہوا ہے کہ اس کا اثر اس کی تحریروں میں ہے۔دلچسپ بات کرتا ہے ایک انٹرویو میں کہہ رھا تھا کہ بچپن میں مجھے پرنس سوٹ پہننے کا شوق تھا۔میری ماں نے ٹرنک سے نکال کے کپڑا دیا درزی سے سلوایا اور پہنا۔

جب رشتے داروں کے گھر پہن کے گیا تو وہ یہی پوچھتے تھے کہ

کتنے کا لیا ہے

کہاں سے لیا ہے

مطلب ان کو یقین ہوتا تھا کہ اس نے لنڈے سے ہی لیا ہے۔

کہنے لگا میں قسمیں اٹھا کے بتاتا تھا کہ قسمیں سلوایا ہے لیکن کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔سب یہی سمجھتے تھے کہ لنڈے سے لے کر پہنا ہوا ہے

پھر جب بینک میں اعلیٰ عہدے پہ پہنچا تو ایک دن گھر گیا تو بھائی نے ایک کوٹ پریس کرکے لٹکایا ہوا تھا۔میں نے پوچھا کہاں سے لیا ہے وہ بولا لنڈے سے لایا ہوں۔کہنے لگا میں وہ پہن کے آفس کی میٹنگ میں چلا گیا۔جو بھی افسر تھا وہ ہاتھ لگا لگا کے کہتا تھا

وٹ آ نائس سٹف۔۔۔

کہاں سے لیا ہے۔

کہتا ہے میں ان کو بتاتا تھا کہ لنڈے سے لیا ہے۔

لیکن وہ یقین نہیں کرتے تھے۔میں قسمیں اٹھا کے کہتا تھا کہ لنڈے سے لیا ہے لیکن وہ پھر بھی مذاق سمجھتے تھے۔

کہتا ہے کہ ایک وقت تھا کہ میرا درزی سے سلوایا ہوا کوٹ بھی سب کو لنڈے کا لگتا تھا۔

لیکن ایک وقت آیا کہ میرا لنڈے کا کوٹ بھی سب کو کسی اعلیٰ برینڈ کا امپورٹڈ لگتا تھا۔ وہ اچھا لکھتا ہے حساس ہے یہی وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نوٹ کرتا ہے۔

ایک سچوئیشن اس نے لو لائیف اور لاہور میں کرئیٹ کی۔

ایک اینگری ینگ مین پری پیکر ہیرو تھا۔اس نے ایک پولیس والے کی فیملی کو یرغمال بنایا۔

گھر میں ایس پی کی بیوی اور بیٹی تھی۔جب پری پیکر ان کے سامنے گن نکالتا ہے تو بچی سہم جاتی ہے۔پھر وہ بچی کو پاس بلاتا ہے۔بچی کے ساتھ اس کے ڈائیلاگ کچھ یوں تھے۔

بیٹا پڑھتے ہو؟

وہ بولی جی۔

کہنے لگا سوال پوچھوں بتاو گی؟

وہ کہنے لگی جی۔

بولا

پاکستان کس نے بنایا؟؟؟

بچی بولی یہ تو اتنا آسان سوال ہے قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا۔

بولا اچھا یہ آسان سوال ہے

بچی بولی جی۔

پھر بولا مشکل سوال پوچھوں اچھا بتاو پاکستان کو برباد کس نے کیا؟؟؟

بچی حیرانگی سے اس کا منہ تکنے لگی۔پھر بولا نہیں آتا نہ جواب آپ کو

۔۔۔وہ بولی آپ بتائیں کس نے کیا۔

وہ بولا۔تھوڑا میں نے ،تھوڑا آپ کے پاپا نے ،تھوڑا ایک سیاستدان کا کریکٹر تھا اس کا نام لے کر بولا تھوڑا اس نے اور تھوڑا ہم سب نے۔۔۔۔

اسی طرح جب اس میں ایک ڈی آئی جی کا قتل ہوتا ہے

تو وہاں وہ فوراً بولتا ہے کہ مجھے پتہ تھا یہ مرجائے گا

کیونکہ

اس کو پاکستان کی بہت فکر لاحق ہوگئی تھی۔

میرے پاس تم ہو میں کہنے لگا کہ بے وفاوں سے نفرت نہیں کی جاتی ان پہ ترس کھایا جاتا ہے۔۔۔۔

ایک ڈرامے میں اس کا ڈائیلاگ ہے کہ ِِِپیڑ(تکلیف) لکھنے سے نہیں ہونے سے محسوس ہوتی ہے۔

ایک سیریل لکھتا ہے۔اس کی کہانی کیا ہے اور کیا نہیں۔۔

وہ ایک طرف لیکن چار پانچ ڈائیلاگ ایسے جو ہمیشہ یاد رہ جائیں۔

ایک آدھ کریکٹر ایسے رکھتا ہے جو سبق آموز بات کرے۔۔۔۔

بس بات وہی ہے کہ وہ سیکنڈلز کی زد میں رہتا ہے۔لائم لائیٹ میں رہتا ہے۔۔۔کچھ اداکار اس کی سائیکی سمجھ گئے ہیں وہ اس کے ساتھ کمفرٹیبل رہتے ہیں۔

لیکن کچھ اس کی سوچ کے ساتھ نہیں چل پاتے۔

جب انسان کمرشل ہوجاتا ہے تو پھر ضروری نہیں کہ وہ آپ کی خواہشات پہ پورا اترسکے۔

اور اب وہ کمرشل ہے۔۔۔۔

میں منٹو نہیں ہوں ابھی تک جنٹلمین والا ردھم بھی نہیں حاصل کرسکا

وجہ یہ ہے کہ اس کے کریکٹرز کے مطابق کوئی بھی ایکٹر نہیں چل رھا۔۔۔اور سچوئیشن بھی عجیب "سکیٹرڈ” ہوگئی ہے۔

پتہ نہیں کیسے وہ "سم اپ” کرے گا لیکن تشنگی رھے گی۔وہ ان کریکٹرز کے ساتھ انصاف نہیں کرپائے گا

کیونکہ جو اس کا ہتھیار ہے یعنی ڈائیلاگ اور آبزرویشن اور سچوئیشن کرئیٹ کرنا۔وہ سب نہیں ہوپارھا۔۔۔۔

ہوسکتا ہے کہ وہ ڈرامے کی اگلی اقساط میں چیزوں کو سمیٹ لے لیکن لگتا یہی ہے کہ ایسا وہ کر نہیں پائے گا۔

بندہ بولڈ ہے

اس کے لنڈا بازار میں ہیرو بابر علی کا تکیہ کلام تھا

چل رہن دے۔

ہوسکتا ہے کہ یہ بھی جب مڈ تک پہنچے تو ایک بار پھر

خود سے کہہ دے کہ "چل رہن دے” اور ایک دم کہانی کا رخ چینج کردے۔۔۔

وہ کچھ بھی کرسکتا ہے

وہ کرتا رھا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ

ہمیشہ نظروں میں رہتا ہے

آپ دیکھیں کتنے ڈرامے چل رھے ہیں کسی کو کسی کے رائٹر کا نہیں پتہ۔لیکن اس کے ڈرامے کے ایک ڈائیلاگ سے سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ خلیل الرحمان قمر کا ڈرامہ ہے۔

یونیکنیس تو ہے۔۔۔

اور بہرحال یہ ایک خوبی ہے۔

 

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.