ماسکو: روس نے یکم اپریل سے دنیا کو پیٹرول کی فراہمی پر مکمل پابندی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
روس کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، اور یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہنے کی توقع ہے۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑے گا جو روس کے ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیوٹن حکومت نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس چاہتا ہے کہ اس کے عوام اور صنعتیں سستے پیٹرول کا فائدہ اٹھا سکیں اور ملک کے اندر مہنگائی قابو میں رہے۔
واضح رہے کہ روس دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس پابندی کا اطلاق یوریشین اکنامک یونین کے رکن اور ان ممالک پر نہیں ہوگا جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے ہیں، تاہم خدشہ ہے کہ باقی دنیا کے لیے پیٹرول کی عالمی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ روس میں کھیتی کے موسم اور ریفائنریز کی طے شدہ دیکھ بھال کے دوران پیٹرول کی طلب بڑھ جاتی ہے۔