لندن میں فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے سالانہ القدس مارچ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس پابندی کی منظوری دی ہے جو میٹروپولیٹن پولیس کی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔ پولیس نے بدھ کی شام 4 بجے سے ایک ماہ کے لیے یہ پابندی نافذ کر دی ہے .
مشرق وسطیٰ کی صورتحال: افغانستان اور سری لنکا کے درمیان وائٹ بال سیریز ملتوی
وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ القدس مارچ کے موقع پر ممکنہ بدامنی سے بچنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی ساکن مظاہرہ منعقد ہوتا ہے تو پولیس سخت شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دے سکتی ہے .
پولیس نے القدس مارچ پر پابندی کی درخواست کرتے ہوئے اتوار کو ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری سے معذرت کر لی تھی .
پولیس کے مطابق اس مارچ کو ایران نواز سمجھا جاتا ہے جبکہ منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ ریلی فلسطین کی حمایت میں نکالی جاتی ہے . اس سے قبل کے القدس مارچوں میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور سامی مخالف نفرت انگیز جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتاریاں بھی ہو چکی ہیں .
فیصل بوڈی، جو اسلامی ہیومن رائٹس کمیشن سے وابستہ ہیں اور اس تقریب کے منتظم ہیں، نے القدس مارچ پر پابندی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "اظہار رائے کے لیے یہ بہت برا دن ہے” .
یہ پہلا موقع ہے کہ 2012 کے بعد برطانیہ میں کسی احتجاجی مارچ پر پابندی عائد کی گئی ہے .