دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم کاروباری حلقوں اور معروف سرمایہ کاروں نے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکا پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے۔
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق یہ تنقید امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کے حملوں سے خلیجی مالیاتی بازار اور معیشت کے متاثر ہونے کے بعد سامنے آ رہی ہے۔ اس صورتحال نے خلیج کے استحکام کو متاثر کر دیا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
جی ایچ کیو حملہ کیس: عمر ایوب، مراد سعید اور ذلفی بخاری سمیت 47 ملزمان کو 10، 10 برس قید کی سزا
اخبار نے مزید لکھا کہ دبئی اور ابوظبی میں مختلف شعبے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ ایک ماہ سے زیادہ جاری رہی تو کمپنیوں کو پیداوار اور خدمات کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق ایران کے حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والا متحدہ عرب امارات ٹرمپ کا قریبی اتحادی رہا ہے اور اس نے امریکا میں 1.4 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہوا ہے۔