Gas Leakage Web ad 1

آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

0

آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق 79 سالہ منصورہ خجستہ باقرزادہ دوران علاج اسپتال میں دم توڑ گئیں۔

Gas Leakage Web ad 2

فائز عیسیٰ کیخلاف فتویٰ جاری کرنے کے مقدمات، کالعدم مذہبی جماعت کے رہنما کو 32 سال قید کی سزا سنا دی گئی

رپورٹس کے مطابق منصورہ خجستہ باقرزادہ کو اسی حملے میں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جس میں ان کے شوہر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہوگئے تھے۔ طبی عملے کی جانب سے انہیں مسلسل علاج فراہم کیا جا رہا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ وہ کوما کی حالت میں تھیں۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے دیگر افراد بھی شہید ہوئے جن میں ایک بیٹی، داماد اور ایک پوتا شامل ہے۔

منصورہ خجستہ باقرزادہ 1947 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں ایک مذہبی اور بااثر خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک معروف تاجر تھے جبکہ ان کے بھائی حسن باقرزادہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے نائب سربراہ بھی رہ چکے تھے۔

انہوں نے 1965 میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے شادی کی تھی اور ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے تاہم ان کی اہلیہ زیادہ تر عوامی اجتماعات سے دور رہتی تھیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.