ایران کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جامعات میں احتجاج کرنا طلبہ کا حق ہے تاہم کچھ سرخ لکیریں ایسی ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ مقدسات اور قومی پرچم کا ہر صورت احترام ضروری ہے۔
وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتحال پرتبادلہ خیال
ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی آٹھ جامعات میں طلبہ نے حکومت مخالف مظاہرے کیے جن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ مظاہرین نے حکومت اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے اور انقلابِ ایران سے پہلے استعمال ہونے والے شیر اور سورج کی علامت والے پرچم بھی لہرائے۔
دارالحکومت تہران میں گزشتہ روز شہریوں کو فارسی زبان میں ایک ایس ایم ایس بھی موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ انتظار کیجیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ جنوری میں بھی ایران میں ملک گیر احتجاج ہوا تھا جس کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعد ازاں امریکی صدر نے ایرانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رہا تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔