ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا، ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دکاندار اور تاجر ملک کی مالیاتی صورتحال، کرنسی کی قدر میں کمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتا ہے جس کی وجہ سے کاروباری ماحول غیر مستحکم ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے، "میں کاروبار نہیں کر سکتا” اور وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایران میں جاری پُرتشدد مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو چکے ہیں اور تعلیمی و سرکاری ادارے بند ہیں۔
’اسٹرینجر تھنگز 5‘ کے فائنل نے سینما گھروں میں دھوم مچا دی
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ملک کے حکام اس کو قبول کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے جس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے جسے روکنا چاہیے۔ ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا مناسب ہے لیکن احتجاج اور شرپسندی میں فرق ہوتا ہے، حکام کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے لیکن شرپسندوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور انہیں گھر کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو علم ہونا چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح ایرانی عوام داخلی امور میں کسی بھی مداخلت کو مسترد کریں گے، ایران کی مسلح افواج الرٹ ہیں اور وہ ایرانی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی پر جانتی ہیں کہ کہاں نشانہ بنانا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران میں زرِمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثرہ افراد احتجاج کر رہے ہیں جو ان کا جائز حق ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جن میں اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ بے امنی پھیلانے کے الزام میں 44 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔ امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔