اسرائیل نے مغربی کنارے میں قائم 19 یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے 19 یہودی بستیوں کو باضابطہ طور پر قانونی قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔
ڈرائیونگ لائسنس 18 کے بجائے 16 سال کی عمر میں جاری کیا جائے، اسمبلی میں قرارداد جمع
یہ تجویز انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطین کی تباہی سے تعبیر کیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد الحاق، نسلی امتیاز اور فلسطینی علاقوں پر مکمل قبضے کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔