Gas Leakage Web ad 1

نیند کے دوران رال بہنا کسی سنگین بیماری کی علامت تو نہیں؟

نیند کے دوران رال بہنا کسی سنگین بیماری کی علامت تو نہیں؟

0

نیند کے دوران رال بہنا بیشتر افراد کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اگر یہ معمول بن جائے تو یہ کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

امریکا کے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبرگ اسکول آف میڈیسن کے طبی ماہر ڈاکٹر لندن ڈیوک نے کہا کہ رال ٹپکنے کا سامنا ہر فرد کو کبھی نہ کبھی ہوتا ہے، جیسے سونے سے قبل بہت زیادہ پانی پینے یا کسی تنگ جگہ پر سونے سے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جب یہ معمول بن جائے، یعنی ہر صبح جاگنے پر اس کے آثار نظر آئیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر ایسا اچانک ہونا شروع ہوا ہے۔ یہ کسی سنگین نیند کے عارضے یا دماغی مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

بہتر نیند کے لیے فائدہ مند دیسی غذائیں

اس مسئلے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

**سلیپ اپنیا:** یہ ایک سنگین عارضہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے۔ جب سانس رکتی ہے تو متاثر فرد مزید ہوا کھینچنے کے لیے منہ کھول کر سانس لیتا ہے، جس سے رال بہنے لگتی ہے۔

**منہ سے سانس لینا:** کچھ افراد پیدائشی طور پر نیند کے دوران منہ سے سانس لینے کے عادی ہوتے ہیں، جس سے رال بہنے لگتی ہے۔

**سینے میں جلن:** سینے میں جلن (GERD) کے نتیجے میں بھی رال بہنے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

**ناک کی بندش:** موسمی الرجی، نزلہ زکام، گلا خراب ہونے، ٹانسلز اور نتھنے کے انفیکشن سے ناک کے ٹشوز ورم زدہ ہو جاتے ہیں اور ناک بند ہو جاتی ہے، جس سے منہ سے سانس لینے پر زیادہ رال بہنے لگتی ہے۔

**دانتوں کے مسائل:** دانتوں کی کچھ بیماریاں بھی رال بہنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

**سونے کا انداز:** پیٹ کے بل یا پہلو کے بل سونے سے منہ کا زاویہ ایسا ہوتا ہے کہ اضافی لعاب دہن قدرتی طور پر تکیے پر منتقل ہو جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.