کولمبس: دنیا بھر میں موٹاپا ایک وبا کی طرح پھیل رہا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2، امراض قلب اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ تاہم جسمانی وزن میں کمی لانا اتنا مشکل نہیں، صرف طرز زندگی میں چند عادات کو اپنانے سے مدد مل سکتی ہے۔
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ طرز زندگی میں 8 تبدیلیوں کے ذریعے جسمانی وزن میں نمایاں کمی لانا ممکن ہے۔ اس تحقیق میں 19 سال یا اس سے زائد عمر کے 20 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ان افراد کے جسمانی وزن، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمیوں، نیند کے دورانیے اور غذائی عادات کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح کی جانچ پڑتال بھی کی گئی تھی۔
کراچی: امریکی قونصل خانے پر ہنگامہ آرائی میں 11 افراد کی ہلاکت پر تحقیقات شروع
نتائج سے معلوم ہوا کہ طرز زندگی میں آٹھ تبدیلیاں لانے سے جسمانی وزن میں کمی لانا ممکن ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ متوازن غذا، جسمانی سرگرمیاں یا ورزش، تمباکو نوشی سے گریز، 7 سے 9 گھنٹے تک نیند، جسمانی وزن پر نظر رکھنا، کولیسٹرول کو مستحکم رکھنا، بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے جیسی عادات کو دل کی صحت کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
تحقیق میں شامل افراد میں سے 2840 نے ان عادات کو اپنا کر ایک سال میں اپنے مجموعی جسمانی وزن میں کم از کم 5 فیصد کمی کی، جسے محققین نے نمایاں کمی قرار دیا۔ باقی 17 ہزار سے زائد افراد کے مجموعی جسمانی وزن میں آنے والی کمی 5 فیصد سے کم تھی۔
جسمانی وزن میں نمایاں کمی لانے والے 77.6 فیصد افراد نے ورزش کو اہم ترین قرار دیا جبکہ پھلوں، سبزیوں، اناج، دالوں، گریوں، بغیر چربی والے گوشت، مرغی اور مچھلی پر مشتمل غذا نے بھی جسمانی وزن میں کمی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں ورزش یا غذا پر زیادہ توجہ نہ دینے والے افراد کے جسمانی وزن میں زیادہ کمی نہیں آ سکی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کی مقدار میں کمی یا ڈائٹنگ سے جسمانی وزن میں زیادہ کمی نہیں آتی بلکہ دوبارہ وزن میں اضافے کا امکان بڑھتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ طرز زندگی میں کی جانے والی یہ آٹھ تبدیلیاں دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جسمانی وزن میں کمی اور طرز زندگی میں تبدیلیوں کے درمیان تعلق مزید واضح ہو سکے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔