سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نزلہ، فلو، کووڈ اور الرجی سے بیک وقت بچاؤ دینے والی ایک یونیورسل ویکسین کی تیاری اب حقیقت کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ٹرمپ کا نیا اقدام، تمام ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا
امریکا میں اسٹینفورڈ میڈیسن کے محققین نے چوہوں پر ایک ایسے ویکسین فارمولے کا تجربہ کیا ہے جو مختلف سانس کی وائرل بیماریوں، سیپسس پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور یہاں تک کہ گھریلو گرد کے ذرات (ہاؤس ڈسٹ مائٹس) کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ ویکسین ناک کے ذریعے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے اور پھیپھڑوں میں کئی ماہ تک وسیع حفاظتی اثر برقرار رکھتی ہے۔
اگر یہی ویکسین انسانوں کے لیے تیار کر لی گئی تو سردیوں میں سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہر سال لگنے والے متعدد ٹیکوں کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے، بلکہ یہ مستقبل میں پیدا ہونے والی نئی وباؤں کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
اسٹینفورڈ میڈیسن میں انسٹی ٹیوٹ فار امیونٹی، ٹرانسپلانٹیشن اینڈ انفیکشن کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر مالی پولیندران کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ مختلف النوع سانس کی بیماریوں کے خلاف ایک حقیقی یونیورسل ویکسین ہے۔