کینسر کے ہر 10 میں سے 4 کیسز کی روک تھام ممکن ہے، عالمی ادارہ صحت

کینسر کے ہر 10 میں سے 4 کیسز کی روک تھام ممکن ہے، عالمی ادارہ صحت

0

عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق کینسر کے ہر 10 میں سے تقریباً 4 کیسز کی روک تھام ممکن ہے، اگر اس مرض کے خطرہ بڑھانے والے عوامل سے تحفظ یقینی بنایا جائے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال، فضائی آلودگی اور مخصوص امراض جیسے عوامل کینسر کے لگ بھگ 40 فیصد کیسز کے ذمہ دار ہیں۔ 2022 میں عالمی سطح پر نئے کینسر کے 37 فیصد کیسز یعنی تقریباً 71 لاکھ کیسز کی روک تھام ممکن تھی۔

شاہد خٹک کی 8 فروری کے لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش کی مخالفت، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی

اس عالمی تجزیے میں خطرہ بڑھانے والے 30 عناصر کا جائزہ لیا گیا، جس میں تمباکو نوشی سب سے اہم عنصر ہے جو 15 فیصد کیسز کی وجہ بنتی ہے، جبکہ دیگر اہم عوامل میں کینسر پیدا کرنے والے امراض (10 فیصد)، الکحل (3 فیصد)، زیادہ جسمانی وزن، ورزش کی کمی، الٹرا وائلٹ شعاعیں اور فضائی آلودگی شامل ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ کینسر جن کے تقریباً 50 فیصد کیسز کی روک تھام ممکن ہے، پھیپھڑوں، معدے اور سروائیکل کینسر ہیں۔ پھیپھڑوں کے کینسر کا تعلق تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے ہے، معدے کے کینسر کی ایک اہم وجہ Helicobacter pylori بیکٹیریا ہے، اور سروائیکل کینسر کے لیے ایچ پی وی ویکسین مؤثر ہے۔

مردوں میں ایسے کینسر کے کیسز کی روک تھام کی شرح 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد ہے۔ مردوں میں تقریباً ایک چوتھائی کیسز، اور خواتین میں 11 فیصد کیسز کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔

تحقیق میں عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، ایچ پی وی ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جائے، فضائی معیار بہتر کیا جائے، صحت بخش غذاؤں تک رسائی ممکن بنائی جائے اور ورزش کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

تحقیق کے نتائج جرنل **نیچر میڈیسن** میں شائع ہوئے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے دیگر غیر متعدی امراض کے بوجھ کو بھی کم کرنا ہوگا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.