ملک بھر سے لیے گئے سیوریج کے 40 نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دسمبر 2025 میں ملک کے مختلف حصوں سے مجموعی طور پر 127 سیوریج نمونے حاصل کر کے قومی ادارہ صحت بھجوائے گئے تھے۔ ان میں سے 40 نمونوں میں پولیو وائرس مثبت پایا گیا جبکہ 87 نمونوں کی رپورٹ منفی آئی ہے۔ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو سندھ میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں 23 نمونوں میں پولیو وائرس پازیٹو نکلا ہے۔
سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام ایف-7 گول مارکیٹ میں کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد
نمونوں کی تفصیلات کے مطابق، پنجاب سے 6، خیبرپختونخوا سے 8 اور بلوچستان سے 2 سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے حاصل کیے گئے تمام سیوریج نمونے پولیو وائرس سے پاک پائے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی رپورٹ میں ایک نمونہ مثبت جبکہ چار نمونے منفی رپورٹ ہوئے ہیں۔ وائرس کی اس موجودگی کے پیش نظر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے نئی حکمت عملی واضح کی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق، ملک بھر میں 2 سے 8 فروری تک قومی انسداد پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سات روزہ مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے 4 لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے تاکہ اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔