ہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف سرحدی جھڑپوں، مہاجرین اور ٹی ٹی پی تک محدود سمجھ رہے ہیں لیکن یہ محض مسائل کی بالائی سطح ہے۔
گہرائی میں ایک عالمی اسٹریٹیجک کھیل جاری ہے، جس میں بھارت، چین، روس، قطر، متحدہ عرب امارات اور امریکہ، سب کے سب اپنے اپنے مہرے چل رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق تجزیہ کار مارون وینبام کہتے ہیں کہ پاک افغان تعلق کو تنہا نہیں دیکھا جا سکتا، یہ دونوں ایک وسیع تر علاقائی شطرنج کا حصہ ہیں۔
1904ء میں لندن کی رائل جیوگرافیکل سوسائٹی میں برطانوی جغرافیہ دان سر ہلفرڈ میکنڈر نے کہا تھا، ’’جو مشرقی یورپ پر حکومت کرے، وہ ہارٹ لینڈ کو کنٹرول کرتا ہے، جو ہارٹ لینڈ کو کنٹرول کرے، وہ ورلڈ آئی لینڈ کو کنٹرول کرتا ہے اور جو ورلڈ آئی لینڈ کو کنٹرول کرے، وہ دنیا کو کنٹرول کرتا ہے۔‘‘
یہ جملہ آج 2026ء میں بھی اتنا ہی سچ ہے۔ افغانستان اس ’’ہارٹ لینڈ‘‘ کا دروازہ ہے اور پاکستان اس دروازے کا چوکیدار۔ لیکن اس مرتبہ لڑائی کا آغاز گھر والوں اور چوکیدار کے درمیان ہو رہا ہے اور شاید دونوں کو ہی علم نہیں کہ ان کے ساتھ مستقبل میں ہونے کیا جا رہا ہے؟
افغانستان میں کھیلی جانے والی ’’گریٹ گیم‘‘ وہ کھیل ہے، جس کا پہلا دور (1830سے1907) برطانیہ اور روس کے مابین 12 جنوری 1830 کو شروع ہوا، جب لندن نے ہندوستان تک نئے تجارتی راستے قائم کرنے کا حکم دیا۔
برطانیہ کو خوف تھا کہ روس ہندوستان تک پہنچ جائے گا اور روس کو ڈر تھا کہ برطانیہ وسطی ایشیا پر قابض ہو جائے گا۔
کھیل کا محور تھے جاسوسی، نقشہ سازی اور مقامی حکمرانوں کو خریداری۔ تب افغانستان اس پوری بساط کا مرکز بنا۔ برطانیہ نے افغانستان کو ایک ’’بفر زون‘‘ بنانے کی کوشش کی۔
یہ کھیل 1907ء کی اینگلو، روسی کنونشن سے باضابطہ ختم ہوا لیکن پیچھے چھوڑ گیا تباہ معیشت، خاموش سیاسی تحریکیں اور لاکھوں بے گناہ ہلاکتیں۔
دوسرا دور (1979سے 1989) سوویت یونین اور امریکہ کے مابین تھا۔
سوویت یونین کا 1979 میں افغانستان پر حملہ گریٹ گیم کی واپسی تھی۔ امریکہ و مغربی ممالک اور اسرائیل نے پاکستان کے ذریعے مجاہدین کو ہتھیار دیے اور سوویت یونین کو شکست ہوئی۔
ایسٹ ایشیا فورم کے مطابق تیسرے دور (2001 سے 2021) کا آغاز امریکہ کی ناکام جنگ سے ہوا۔
2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا، یہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن گئی۔ برطانوی اور روسی سامراج کی طرح امریکہ بھی مایوس کن تعطل میں پھنس گیا۔
امریکہ کی شکست اور افغان طالبان کی آمد کے ساتھ ہی گریٹ گیم کے چوتھے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ بھی نئے کھلاڑیوں کے ساتھ۔ پاکستان آئندہ دنوں میں کابل کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر یہ لڑائی وقت کے ساتھ ساتھ پھیلی تو اسے آپ ’’گریٹ گیم کے چوتھے دور میں نیا موڑ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
چین کی دوبارہ ابھرتی ہوئی طاقت اور روس-چین تعاون نے ہارٹ لینڈ تھیوری کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ امریکی انخلاء کے بعد، ’’روس، چین، پاکستان اور ایران گریٹ گیم کے اگلے باب میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘‘
فرائیڈے ٹائمز لکھتا ہے، ’’اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور الٹا پڑ گیا ہے، پاکستان انہی گروہوں کے سرحد پار حملوں کا شکار ہو رہا ہے، جنہیں اس نے کبھی پالا پوسا تھا۔‘‘
دوسرے لفظوں میں چوتھی گریٹ گیم کا مقابلہ کرنے والی خفیہ بیرونی طاقتیں میدان میں اتر رہی ہیں اور افراتفری مچانے کی صلاحیت رکھنے والے پاکستانی طالبان سمیت افغان طالبان کو اپنی سائیڈ کی طرف کھینچ رہی ہیں۔
تاہم ماضی کے حکمرانوں کی طرح افغان طالبان بھی اس چوتھی گریٹ گیم میں پھنس چکے ہیں، انہیں اس دوراہے پر اپنی سمت کا فیصلہ کرنا ہے۔ انہیں ایک نئی جنگ یا پھر اپنے ملک کی ترقی کا فیصلہ کرنا ہے اور ان دونوں فیصلوں کا تعلق پاکستان کے ساتھ تعلقات پر ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا، ہو گا، پاکستان کو بھی ترقی کے لیے جنگ نہیں بلکہ افغانستان میں امن کی ضرورت ہے۔
تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے مطابق، ’’پاکستان کی ترقی کا انحصار سی پیک پر ہے اور سی پیک کا انحصار مغربی سرحد کے استحکام پر ہے، جو افغانستان سے جڑا ہے۔‘‘
پاکستان اور افغانستان کے مابین صورت حال کتنی کشیدہ ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 2026 میں برسلز کے انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے پاک-افغان تعلقات کو ’’ 2026 کے دس خطرناک ترین تنازعات‘‘ میں شامل کیا۔
آئی سی جی کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا، ’’طالبان اعلانیہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلق سے انکار کرتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے وہ خود مانتے ہیں کہ نظریاتی اور قبائلی روابط کی وجہ سے وہ ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کر سکتے۔‘‘
اور اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے، ’’ اگر طالبان نے ٹی ٹی پی پر سختی کی تو اس کے ارکان داعش خراسان میں شامل ہو جائیں گے، جو کہیں زیادہ خطرناک اور عالمگیر تنظیم ہے۔‘‘
لووی انسٹی ٹیوٹ (سڈنی) کے مطابق افغانستان افیون سے میتھ ایمفیٹامین کی طرف منتقل ہو کر ’’عالمی منشیات کا مرکز‘‘ بننے کی راہ پر ہے، جبکہ روس نے چند روز پہلے ہی افغانستان میں ہزاروں غیرملکی جہادیوں کی موجودگی کی خبر دی ہے۔ یعنی افغانستان میں ہر وہ چیز موجود ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے اس پورے خطے کو غیرمستحکم کیا جا سکتا ہے۔
ایسٹ ایشیا فورم (آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی) کے مطابق پاک افغان سرحد پر امن کے لیے، ’’محض فوجی حکمت عملی کام نہیں دے گی۔ پشتون سرحدی علاقوں میں سیاسی مشغولیت ضروری ہے۔ بغیر پائیدار سکیورٹی تعاون کے یہ دونوں ممالک طویل عرصے تک تصادم کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔‘‘
بھارت تیزی سے افغانستان میں قدم جما رہا ہے، چین کی نظریں افغانستان کی تین ٹریلین ڈالر کی معدنیات پر ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی نایاب دھاتوں کی تلاش میں ہیں، جبکہ روس خاموشی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں فی الحال پاکستان اور طالبان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔
افغان طالبان اور پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت جانا چاہتے ہیں؟ انہیں کسی طرح پاکستانی طالبان اور داعش پر قابو پانا ہے یا پھر مستقبل میں پھیلتی ہوئی لڑائی کی طرف جانا ہے۔
لڑائی کی صورت میں دونوں کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی اتحادی اور پس پردہ امداد ملتے رہیں گے، عوام مرتے رہیں گے، خطہ بدامنی کا شکار رہے گا۔ دونوں کے سامنے ایک سوال کھڑا ہے، لاشوں کی تجارت کرنی ہے یا سبزیوں اور پھلوں کی۔
پاکستان اور افغان طالبان اگر حالات کو بڑے تناظر میں دیکھیں تو خطے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے عوام کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ ورلڈ آرڈر تبدیل ہو رہا ہے، یہ لڑائی کی بجائے مشرقی و مغربی سرحدوں پر معاہدے کرنے کا وقت ہے۔
دوسرے ممالک کا کچھ نہیں جانا، انہوں نے اس گریٹ گیم میں صرف ہتھیار اور پیسے جھونکنے ہیں، خون آپ کا بہنا ہے