sui northern 1

غربت کا ڈھنڈورا ضروری نہیں

0
Social Wallet protection 2

ایتھلیٹ ارشد ندیم نے اولمپکس میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کرکے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔جب کوئی شہرت کی بلندیوں پر ہوتا ہے تو بہت سارے لوگ اس کے میڈیا مینجر بن کر کھلاڑی کے اہل خانہ کو سمجھاتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا دور ہے فلاں کام کریں یہ بکتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ یہاں ہوا کہ ارشد ندیم کے گلشن احمد والے نئے گھر(جہاں قیمتی گاڑیاں بھی ہیں) کی بجائے آبائی گھر میں ہی ساری میڈیا کوریج کروائی گئی جبکہ کچھ نے پرانی ویڈیوز پھیلا کر ویوز بٹورے۔یوٹیوبرز نے ویوز کیلئے نہ صرف ارشد ندیم بلکہ پاکستان کو غریب اور مفلوک الحال بنا کرپیش کردیا۔

sui northern 2

صرف ارشد ندیم ہی نہیں کامیاب افراد،شوبز سٹار اور کھلاڑیوں کی اکثریت متوسط گھرانوں سے نکل کر آتے ہیں اور پھر کامیاب ہوکر ہر چیز حاصل کرلیتے ہیں لیکن گزارش ہے کہ صرف اپنے فائدے کیلئے اتنا بھی غلط نہ کیا جائے کہ پاکستان کا تشخص خراب ہوجائے۔اگر آپ کچھ بن جاتے ہیں تو غربت کارڈ کھیلنا ضروری نہیں آپ امیر ترین ہیں تب بھی آپ کے کام کی بدولت آپ کو اتنی ہی عزت ملے گی۔

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہاں سپائسی اور ایموشنل چیزیں بہت سپیڈ سے وائرل ہوتی ہیں۔کسی نے پوسٹ لگائی ہوئی تھی کہ ارشد ندیم کی انٹرنیشنل اولمپکس گیمز میں انٹری بھی پرائیویٹ بندے نے کروائی۔ کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے میں کوئی پرائیویٹ انٹری کیسے کروا سکتا؟یہ حکومتی نامزدگی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔اولمپکس مقابلوں میں شرکت کیلئے ارشد کسی سے کرایہ لے کر نہیں گیا بلکہ افیشلی پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی طرف سے گیا۔

وائرل ہے کہ ارشد ندیم کے پاس پروفیشنل جیولن خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانے کی بجائے تھوڑی تحقیق کریں توآپ کو ارشد ندیم کا ہی ٹویٹ مل جائے گا جس میں وہ جیولن کیلئے پیسے نہ ہونے کے اپنے نام سے منسوب بیان کی تردید کرتا ہے کہ اس کے نام سے فیک افواہیں اڑائی جارہی ہیں۔ایسا کیسے ممکن ہوسکتا تھا کہ جو حکومت اس پر کروڑوں خرچ کر رہی ہے اسے چند لاکھ کا جیولن نہ لیکر دیتی۔

البتہ ایک پرانے انٹرویو میں ارشدبتاتا ہے کہ اس نے جیولن کی ریکوئسٹ کی تو آرمی چیف نے اسے ورلڈ لیول کا جیولن لے کردیا۔ 2015سے اب تک درجنوں بین الاقوامی مقابلوں میں ارشد ندیم حکومتی خرچے اور نامزدگی پر پاکستان کی نمائندگی کررہا ہے۔ارشد کو حکومتی معاونت فراہم کرنے کیلئے یکم جولائی 2015کو لائن مین گریڈ 9اپگریڈڈ(گریڈ 11)میں واپڈا میں سرکاری ملازمت دی گئی۔

اگلے ہی سال ایشین جونئیر ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں برونزمیڈل جیتنے پر گریڈ 16جبکہ 2018میں ایشین گیمز میں برونز میڈل جیتنے پر گریڈ 18میں ترقی دے دی گئی۔وہ گزشتہ چھے سال سے گریڈ اٹھارہ کی تنخواہ اور تمام سہولیات کے علاوہ حکومتی خرچے اور سپانسرشپ پر قومی اور بین الاقوامی ہر طرح کی ٹریننگ حاصل کررہا تھا۔تما م کھیلوں کیلئے یہی پریکٹس ہے کہ جو اچھا کھلاڑی ہوتا ہے اسے ڈیپارٹمنٹ نیشنل اور انٹرنیشنل ٹیم کیلئے ریکمنڈ کرتا ہے۔ سپورٹس بورڈ، فیدریشنز اور پاکستان اولمپکس کی سفارشات پر کھلاڑی کو ناصرف انٹرنیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ جدیدٹریننگ کیلئے اندرون و بیرون ملک تمام سہولیات اور سپانسرشپ دی جاتی ہے۔

ہمیں جذباتی نہیں ہونا چاہئے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا چاہئے،دوسرے کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی کو آگ نہیں لگاتے۔ہم اپنی سہولیات کا موازنہ یورپین ممالک سے نہیں کرسکتے، مختصر وسائل کے باوجود سرکاری مشینری ارشد سمیت دیگر کھلاڑیوں کی بھرپور معاونت کرتی ہے۔میرٹ کی بدولت ہی ایک غریب بال بوائے بابر اعظم قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان بن گیا۔

دسمبر 2022 میں برطانیہ کے سپائر کیمبرج لی ہسپتال سے ارشد ندیم کی زخمی کہنی اور گھٹنے کے جوڑ کے علاج کے تمام اخراجات پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ادا کیے۔رواں سال پچیس لاکھ کے نقد انعام کے علاوہ اپریل میں بھی شہباز حکومت کی طرف سے ارشد ندیم کو انجری سے نجات پانے کے لیے علاج معالجہ کی مد میں ایک کروڑ روپے جاری ہوئے۔ قبل ازیں کامن ویلتھ گیمز اور ورلڈ چیمپین شپ میں میڈل جیتنے پر50، 50 لاکھ کے چیک جاری کیے گئے تھے۔

گاہے بگاہے سپورٹس بورڈ، واپڈا، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن،حکومت اور سول سوسائٹی و کارپوریٹ سیکٹر سے انعامات بھی ملتے رہے ہیں۔ ارشد ندیم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ آج وہ جس بھی مقام پر ہے اس کا کریڈٹ پنجاب سپورٹس فیسٹیول کو جاتا ہے۔شہباز شریف کی پنجاب حکومت نے سپورٹس فیسٹیول کا آغاز کیا جس کی دھوم دنیا بھر میں پھیل گئی،پنجاب کے نوجوانوں نے 2012 میں 11، 2013 میں 23 اور 2014 میں 33 ورلڈ ریکارڈ بنا کر نہ صرف پنجاب اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا بلکہ پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

پنجاب سپورٹس فیسٹیول کی کامیابی کا کریڈٹ شہباز شریف،رانا مشہود خان کے ساتھ ساتھ اس وقت کے ڈی جی سپورٹس عثمان انور کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب کی 4000یونین کونسل کے ہر بچے اور جوان کو اس فیسٹیول کا حصہ بنایا ۔یوں ہر تحصیل اور ضلع کے نوجوانوں کو میرٹ پر آگے آنے کا موقع ملا۔گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر آج بھی یہ ریکارڈ موجود ہے کہ ایک صوبے سے 39لاکھ دس ہزارایک سو اٹھاسی افراد نے سپورٹس فیسٹول کے مقابلوں میں حصہ لیا۔

ارشد ندیم جیسے کتنے ہی جوان اس سپورٹس فیسٹیول کی وجہ سے آگے آئے اور آج دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر سپورٹس فیسٹیول پر نیب کی انتقامی کارروائیاں نہ ہوتیں تو آج پاکستان کھیل کے میدانوں میں کہیں آگے جا چکا ہوتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.