تصوف کیا ہے؟

0

تصوف، سلوک اور احسان کا نام ہے۔ ایک مشہور حدیث ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور حدیث جبریل ؑ کے حوالے سے معروف ہے۔ حضرت عمر ؓنے فرمایا کہ ایک دن ہم مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص سفید لباس میں آیا اور وہ سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زانو بزانوں ہو کر بیٹھ گیا اور آپ سے سوال کیا: ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ پھر اس شخص نے پوچھا: ’’احسان کیا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔‘‘
حقیقی تصوف توحید کامل اور سنت نبوی کی قول و عمل سے پیروی کرنے کا نام ہے۔ یہ دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگانے، عبادت میں مکمل خشوع و خضوع، اخلاص، محبت، اور مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک اور اخلاق کے بہترین برتائو کی تلقین کرتا ہے۔ اس میں شرک و بدعت سے دور رہنا، حلال و حرام کی حدود کا سختی سے پاس رکھنا بھی شامل ہے۔تصوف یہ ہے کہ تمہارا دل مخلوقات سے بے نیاز ہو کر صرف حق اللہ کی یاد میں مشغول ہو، فانی سے بے نیاز ہو کر باقی میں مشغول ہو، اور کائنات کی ہر شے سے بے نیاز ہو کر صرف اس کے خالق میں مشغول ہو اور اس کی رضا کے لیے اس کی مخلوق کے ساتھ اخلاق اور تواضع کا برتائو بغیر کسی لالچ یا معاوضے کی توقع کے کرو۔کسی سے نفرت نہ کرنا اور نہ کسی سے زیادتی کرنا۔ انسانوں کی عزت اور احترام کرنا، غلطیاں معاف کرنا، اور دل کو حسد، غصے اور بدگمانی سے پاک رکھنا۔تزکیہ نفس کا اہتمام کرنا۔ تصوف نفس کو تکبر، ریا، لالچ سے پاک کرنے، اس سے مجاہدہ کرنے، اور ایمان کے اعلیٰ مراتب (مقامِ احسان)تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا نام ہے۔
تصوف رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کو اپنانا، ان کے راستے پر چلنا، ان کی سنت کی پیروی کرنا، اور ان کے اقوال و افعال میں ان کی پیروی کرنے کا نام ہے۔ تصوف دنیا سے بے رغبتی اور دل سے دنیا کو نکال کر اللہ سے لگانے کا نام ہے۔توبہ، استغفار، اور ذکر و تسبیح کا انفرادی یا اجتماعی اہتمام کرنا۔تصوف یہ ہے کہ بندہ ہر چیز میں اور ہر حال میں حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرے، حتیٰ کہ وہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ اس مقام پر پہنچ جائے جیسا کہ اوپر حدیث میں وارد ہے۔
تصوف ایک وجدانی کیفیت ہے جو دل کی سچی محبت اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور ذکر و فکر کی مداومت کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے دوپر ہیں۔تصوف ایک بے چین وجد ہے، ایک جلن پیدا کرنے والا شوق ہے، دل کی تڑپ اور روح کی اس عظیم ذات کے لیے آرزو ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔
بد قسمتی اور عدم فہم کے باعث بعض نادان تصوف کو سمجھتے ہیں کہ یہ خاص قسم کی ٹوپی پہننے یا چادر اوڑھنے، ہاتھ میں تسبیح رکھنے کا نام ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ تصوف مذہبی گانوں اور نظموں کا نام ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف میلاد بنانا اور اولیا اللہ کے مزارات پر جانا ہے۔ یہ صرف باہمی ادب اور بزرگان دین کی محبت کی ادائیگی ہیں، لیکن ان عادات اور تقلید کو تصوف سمجھ لینا تصوف کی حقیقت اور اصلیت سے ناواقفیت کے سبب ہے۔
تصوف دل و دماغ کی کامل حضوری اور محبت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور سنت نبوی کی مکمل پیروی کے ساتھ ہے۔ علم و معرفت کے لیے استاد یا شیخ کی رہنمائی اور نگرانی ضروری ہے، ورنہ غلطی اور خطا کا قوی امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے کامل شیخ کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔ اسی لیے بڑے علماء اور اولیا اللہ نے عام متلاشیان حق کی رہنمائی کے لیے کسی کامل شیخ کی شاگردی یا بیعت پر زور دیا ہے، ورنہ شیطان استاد یا شیخ بن جاتا ہے اور وہ گمراہی کی طرف راغب کرتا ہے۔

(بشکریہ روزنامہ اوصاف)

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.