بنگلہ دیش،انتشار یا انقلاب
حسینہ واجد بطور وزیراعظم اپنی پانچویں مدت پوری نہ کر سکیں۔ پانچ اگست کو بادل نخواستہ مستعفی ہونے کے بعد اب حسینہ واجد کا شمار سابق وزر ائے اعظم میں کیا جائے گا۔ 15 سال سے زائد عرصے پہ محیط حالیہ عہد اقتدار حسینہ واجد کی سیاسی نا کو ڈبو گیا۔ لگ بھگ ایک ماہ قبل شروع ہونے والا طلبہ کا احتجاج بالآخر عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا ۔دستیاب اطلاعات کے مطابق تین سوسے زائد شہری بشمول سرکاری اہلکار احتجاجی تحریک میں جانیں گنوا بیٹھے۔ سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کے غیر منصفانہ کوٹے کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج پر تشدد کا رنگ غالب کیوں آیا؟ اس سوال کا جواب تحقیق و تفتیش کے بغیر ممکن نہیں۔ حسینہ واجد استعفی دینے کے بعد جس طرح عجلت میں بھارت روانہ ہوئیں اس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ انہیں فوری پنا ہ صرف مودی سرکار کی چھتری تلے ہی مل سکتی تھی ۔شنید ہے کہ حسینہ واجد برطانیہ میں سیاسی پنا ہ لینا چاہتی ہیں۔ گو یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حسینہ واجد استعفیٰ دینے کے بعد جان بچا کر بھارت فرار ہو گئی ہیں۔ تاہم ان کی روانگی کو فرار کی بجائے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کارروائی سمجھنے والے عناصر کی رائے بھی و زن کی حامل ہے۔عجلت میں روانگی کے لیے حسینہ واجد کو فوجی ہیلی کاپٹر فراہم کیا گیا ۔ان کے استعفے کی خبر سیاسی ذرائع کے بجائے آرمی چیف کی زبانی بنگالی عوام اور عالمی میڈیا تک پہنچی ۔ امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال خصوصاً بھاری جانی نقصان کی وجہ سے مشتعل ہونے والے عوام کا غصہ فوری طور پرٹھنڈا کرنے کے لیے حسینہ واجد کا استعفیٰ کام کر گیا۔ جب احتجاج میں مصروف عوام فتح کا جشن منانے میں مگن تھے عین اس وقت حسینہ واجد آنکھ بچا کر فوج کے فراہم کردہ ہیلی کاپٹر میں اس مودی سرکار کی پناہ میں چلی گئیں جس کی سہولت کاری کرتے کرتے انہوں نے بنگلہ دیش کو انتشار کی آگ میں جھونک دیا ۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت کی فراہم کردہ پناہ گاہ میں پہنچنے کے بعد سابق وزیراعظم حسینہ واجد بنگلہ دیش کے نظام انصاف اور عوامی غیض و غضب کی پہنچ سے باہر نکل گئی ہیں۔ احتجاج میں تشدد اور تین سو سے زائد اموات کی خبریں تشویشناک ہیں۔ حسینہ واجد کی شکست اور احتجاجیوں کی فتح سے قطع نظر بنگلہ دیش نے بطور ریاست کافی نقصان اٹھایا ہے۔
موجودہ سیاسی بحران کے بہت سے پہلو غور طلب ہیں۔ کئی معنی خیز سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عوامی لیگ کی سیاست نفرت، تعصب ،تشدد اور بھارت نواز رویوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔عوامی لیگ کے بانی شیخ مجیب کی اسی سیاسی وراثت کے بل پہ حسینہ واجد پانچویں مرتبہ بنگلہ دیش میں اقتدار کے سنگھاسن پہ براجمان ہوئیں۔ اسے المیہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ باپ اور بیٹی دونوں ہی تعمیر سے زیادہ تخریب کی طرف مائل رہے۔ شیخ مجیب کی شعلہ بیانی اور تعصب پسندی نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلوں کی خلیج پیدا کی۔ سیاسی عدم برداشت اور مذاکرات سے گریز کی روش نے بھارت کو بدلہ چکانے کا سنہری موقع فراہم کیا ۔بنگلہ دیش کو علیحدہ ملک بنے پانچ دہائیوں سے زائدعرصہ بیت چکا ہے۔ شیخ مجیب کو بنگلہ دیش کا بلا شرکت غیر یبانی قرار دیا گیا۔ شیخ مجیب پہلے وزیراعظم کے علاوہ بنگلہ بندھو کے منصب جلیلہ پہ فائز ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کو استحکام نہ بخش سکے۔ بنگلہ دیش کو اپنے تئیں آزادی دلانے والی مکتی باہنی رفتہ رفتہ ایسے جرائم پیشہ گروہ کا روپ دھار گئی جو پورے ملک پہ متوازی حکومت چلاتی تھی ۔عوام کی نفرت اور رد عمل اتنی شدید تھی کہ باغی فوجیوں کے ایک گروپ نے شیخ مجیب کو پورے گھرانے سمیت بے دردی سے قتل کر دیا ۔حسینہ واجد اور ان کی ایک بہن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے زندہ بچ گئیں۔ خاندان کی المناک موت کی وجہ سے حسینہ واجد کی سیاست میں انتقام اور تشدد کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے ۔بھارت کی جانب جھکائو کی بدولت پاکستان کی جانب ان کا رویہ کبھی بھی دوستانہ یا متوازن نہیں رہا ۔ان کے فطری تعصب کا ایک مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں پاکستان جونہی آخری اوورز میں فتح کے قریب پہنچا تو مہمان خصوصی وزیراعظم حسینہ واجدتقسیم انعامات کی اختتامی تقریب میں شرکت کیے بغیر گھر روانہ ہو گئیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حسینہ واجد کی سیاست اور بنگلہ دیش کا استحکام عوامی لیگ کی متشدد ذہنیت، منتقم مزاجی اور بھارت نوازی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔
حسینہ واجد نے وزیراعظم کے عہدے پہ براجمان ہونے کے بعد انتقام اور غیر جمہوری اقدامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔ اپنے والد کے سیاسی انجام سے کوئی سبق سیکھنے کے بجائے انہی غلطیوں کا ارتکاب کیا جن کی بدولت بنگلہ بندھو عوامی غیض و غضب کا نشانہ بنے تھے۔ حزب اختلاف کو کچلنے کے لیے پولیس ،عدلیہ اور عوامی لیگ کے جرائم پیشہ عناصر کا بے دریغ استعمال کیا ۔ اہم عہدے رشتہ داروں میں تقسیم کیے۔ کرپشن کا بازار گرم رکھا۔ پاکستان دشمنی کے جذبے کے تحت جماعت اسلامی کے عمر رسیدہ رہنمائوں کو جھوٹے مقدمات کے ذریعے پھانسیاں د یں۔ریاستی وسائل اور ملازمتوں سے عوامی لیگ کو نوازنے کے لیے جنگ آزادی کے ہیروز کی آڑ میں 30 فیصد کوٹہ اپنے منظور نظر کارکنوں کے لیے مختص کر دیا ۔کوٹے کی اس غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کے خلاف پولیس اور عوامی لیگ کے غنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کا خون بہایا۔ تشدد اور انتقام کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب حسینہ واجد سابق وزیراعظم ہو چکی ہیں۔ جس ملک کی بنیاد ان کے والد نے رکھی آج اس سرزمین پہ حسینہ واجد کو کوئی محفوظ پناہ گاہ دستیاب نہیں۔ انہیں بھارت نواز سمجھا جاتا تھا ۔یہ تاثر غلط نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج حسینہ واجد بھارت میں قیام پذیر ہیں ۔بظاہر بنگالی عوام نے جابر حکومت کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ہے۔تا ہم اس امر کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ عوامی انقلاب ہے یا وسیع تر انتشار۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بھی واضح ہوگا کہ یہ احتجاج خالص عوامی تحریک تھی یا کہ بیرونی عناصربھی اس میں کوئی کردار ادا کر رہے تھے ۔یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ طلبہ کے مطالبے پرصدر نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے۔ نئے انتخابات کب ہوں گے ؟کون سی جماعت اکثریت لے گی؟ نئی حکومت مخلوط ہوگی یا کسی جماعت کو مطلوبہ اکثریت مل پائے گی؟ ان سوالات کے جواب میں ہی بنگلہ دیش کا مستقبل پنہاں ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حسینہ واجد کی شرمناک روانگی سے مودی سرکار کو بھی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو خطے میں جاری عالمی طاقتوں کی رسہ کشی اور بھارت کی ریشہ دوانیوں سے نپٹنے کے لیے اتحاد اور سیاسی بصیرت کی اشد ضرورت ہے۔
(بشکریہ اوصاف)