Gas Leakage Web ad 1

بی بی سی اردو سروس …. انا للہ و انا الیہ راجعون

بی بی سی اردو سروس .... انا للہ و انا الیہ راجعون

0

بی بی سی اردو سروس …. انا للہ و انا الیہ راجعون

Gas Leakage Web ad 2

تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ

ابھی چند لمحے قبل برطانوی نشریاتی ادارے کے فیس بک پیج پر یہ پوسٹ نظر سے گزری۔ یہ پوسٹ بظاہر یہ ایک تاریخی واقعہ سے متعلق ہے، جس پر گاہے بات ہوتی رہتی ہے، مگر بی بی سی کے فیس بک پیج پر اس خبر کی پیشکش (اس کی پیکیجنگ اور اس کا اسلوب) کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ذرا ٹھہر کر غور سے دیکھیے ۔۔۔۔!
اس پوسٹ کا امیج واضح ہے اور موضوع بھی واضح ہے کہ یہ خبر سعودی عرب کے سابق فرماں روا شاہ فیصل کے بارے میں ہے۔
ٹائٹل پر آئیں تو بات قتل کے واقعے کی طرف جاتی ہے۔ یہاں تک سب کچھ معمول کے مطابق محسوس ہوتا ہے۔ مگر اصل معاملہ وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں معلومات کو مکمل بیان کرنے کے بجائے “ادھورا اور مبہم” چھوڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "کلک بیٹ” کے لیے قاری کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
مثلا
ٹائٹل میں “شاہ کے دوست اور ان کے والد” کا ذکر ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ (سبجیکٹ) کون ہے؟ یہ ابہام اتفاق نہیں لگتا بلکہ ایک شعوری حکمتِ عملی محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قاری کے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور یہی تجسس اسے کلک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
اب ڈسکرپشن کی طرف آئیے ۔۔۔۔ جہاں کلک بیٹ کے لیے اصل جال بچھایا گیا ہے ۔۔۔۔!
ڈسکرپشن کے ابتدائی جملے اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ ایک عام قاری فوری طور پر یہ تاثر لے سکتا ہے کہ “فیصل” سے مراد خود شاہ فیصل ہیں۔ شاہی کابینہ کا حوالہ اور “دماغی عدم توازن” اور “پاگل قرار دینا” جیسے الفاظ جب بغیر وضاحت کے سامنے آئیں، تو ذہن فطری طور پر مرکزی شخصیت کی طرف جاتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی قاری سمجھتا ہے کہ شاہ فیؔصل کے دماغی توازن کے بارے میں بات ہورہی ہے اور یہ کہ شاہی کابینہ نے انہیں پاگل قرار دے دیا تھا ۔۔۔۔
یہاں پہنچ کر آپ کیا کریں گے ۔۔۔۔؟ باقی ڈسکرپشن پڑھنے میں وقت ضایع کریں گے یا لنک پر کلک کریں گے ۔۔۔۔؟
کیونکہ یہی وہ خلا ہے جہاں قاری کا تجسس جنم لیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت، معلومات دینے کے بجائے “کلک لینے” کی نفسیات کے قریب آ کھڑی ہوتی ہے۔
یہاں معاملہ صرف الفاظ کا نہیں، ترتیب کا بھی ہے ۔۔۔۔ اور یہی ترتیب تاثر بناتی ہے۔
کیونکہ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قاری کو گمراہ نہ کیا جائے، چاہے لمحاتی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
اگرچہ ڈسکرپشن میں مزید آگے بڑھیں تو بھی قدرے ابہام موجود رہتا ہے کہ “عدم توازن” اور “پاگل پن” کا حوالہ دراصل قاتل "فیصل بن مساعد” کے لیے تھا۔
یعنی اصل معلومات موجود تو ہیں، مگر اس تک پہنچنے اور سمجھنے کے لیے قاری کو ایک ایسے جال (بیانیے) سے گزارا جاتا ہے جو حقیقت سے وقتی طور پر مختلف تاثر دیتا ہے۔
یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں خبر اور “کلک بیٹ” ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ خبر غلط ہے یا درست ہے ۔۔۔۔؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی پیشکش دیانت دارانہ ہے؟
اگر وہ ادارہ، جسے دنیا صحافت کا معیار سمجھتی ہے، خبر کو اس انداز میں پیش کرے جہاں تجسس پیدا کرنے کے لیے ابہام کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے ۔۔۔۔
تو پھر باقی میڈیا سے شکایت کس بنیاد پر کی جائے ۔۔۔۔؟
دوستو!
یہ محض ایک پوسٹ نہیں، یہ صحافت کے بدلتے ہوئے مزاج کی ایک جھلک ہے، یہ "صحافت” کا نیا رنگ ہے، جس میں چھوٹے بڑے سب رنگے جارہے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.