خاکی رنگ اور پاکستانی عوام
تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ
یہ بیچارے تو مخلص ہوتے ہیں ۔۔پاکستانی فوج سے جتنی محبت ہم عوام بچپن سے کرتے آئے ہیں۔جتنی عقیدت رکھتے ہیں اتنی دنیا میں کسی فوج کو حاصل نہیں۔۔مجھے اپنا بچپن اور ابھی تک سب بچوں کی پہلی چوائس فوجی بننے اور ویسی وردی پہننے کی ہوتی ہے۔سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں کو عقیدت سے گزرتے دیکھنا سلوٹ کرنا پھول برسانا۔۔مگر ان چند بد بختوں کے گھٹیا فیصلوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پھول برسانے اور ان ہاتھوں سے سلوٹ کرنے والے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر تھما دیے ۔۔یہ بڑا المیہ ہوا ہے ارض پاک پر۔۔۔ورنہ پاکستان کا ایک فوجی رنگساز کی طرح ہر رنگ خاکی تھا۔۔اب نظر آنے لگا ہے کہ جسم پر بھلے کوٸی رنگ ہو ۔۔بدن میں چلنے والے لہو کا رنگ سبز ہو چکا ہے۔۔اب کوٸی ماٸی کا لال نہ ہمیں غلام بنا سکتا ہے اور نہ ہی ہمیں ملک کو عظیم مملکت بنانے سے روک سکتا ہے ۔۔خاک اور خاکی اور سبز رنگ ہماری پہچان بن چکا ہے۔اب اس رنگ ساز کیطرح کچھ بھی رنگ زیب تن کیا ہو سوکنے پر انشاء اللہ خاکی ہی ہو گا۔۔
ایک میراثی ایک ادارے میں بطور رنگ ساز بھرتی ہوا۔ جب ریٹائر ہوا تو جو پیسے ملے اس سے کپڑے رنگنے کی دکان ڈال لی کہ ساری زندگی یہی کام کیا تھا-
اب پہلے ہی دن محلے سے ایک لڑکی دوپٹہ رنگوانے آگئی اور فرمائش کی “ چاچا دوپٹّے پر آتشی پنک رنگ کر دو”-
اب مراثی نے ساری زندگی خاکی کپڑے رنگے تھے اس کے بڑے بھی نہ جانیں کہ آتشی پنک کس بلا کا نام ہے۔ تو کہنے لگا بیٹا جی دفعہ مارو آتشی پنک تم خاکی رنگ کروا لو دوپٹّے پر اچھا لگے گا۔
لڑکی بولی وہ چچا آتشی پنک نا میرے سوٹ کے ساتھ میچ کرتا ہے – مراثی تھوڑا چپ رہ کر بولا بیٹا خاکی کروا لو خاکی رنگ ٹھنڈا ہوتا ہے۔لڑکی تھوڑی تیز آواز میں “ چچا آپ آتشی پنک ہی کرو میری چوڑیاں بھی اسی کلر میں ہیں ”مراثی بولا “دیکھو بیٹا جی
یہ جو خاکی رنگ ہوتا ہے نا یہ بڑا پکا ہوتا ہے باقی سارے رنگ کچے ہوتے ہیں ”اب لڑکی نے دوپٹہ غصے سے چھین لیا اور بولی” چاچا لگتا ہے تمھیں باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا ۔۔۔۔
میں کہیں اور سے رنگ کروا لوں گی”مراثی نے غصے سے دوپٹہ واپس چھینا اور غصے سے بولا” لاؤ ادھر میں رنگ آتشی پنک ہی کروں گا مگر یاد رکھنا سوکھ کر اس نے پھر خاکی ہو جانا ہے
لڑکی بولی وہ چچا آتشی پنک نا میرے سوٹ کے ساتھ میچ کرتا ہے – مراثی تھوڑا چپ رہ کر بولا بیٹا خاکی کروا لو خاکی رنگ ٹھنڈا ہوتا ہے۔لڑکی تھوڑی تیز آواز میں “ چچا آپ آتشی پنک ہی کرو میری چوڑیاں بھی اسی کلر میں ہیں ”مراثی بولا “دیکھو بیٹا جی
یہ جو خاکی رنگ ہوتا ہے نا یہ بڑا پکا ہوتا ہے باقی سارے رنگ کچے ہوتے ہیں ”اب لڑکی نے دوپٹہ غصے سے چھین لیا اور بولی” چاچا لگتا ہے تمھیں باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا ۔۔۔۔
میں کہیں اور سے رنگ کروا لوں گی”مراثی نے غصے سے دوپٹہ واپس چھینا اور غصے سے بولا” لاؤ ادھر میں رنگ آتشی پنک ہی کروں گا مگر یاد رکھنا سوکھ کر اس نے پھر خاکی ہو جانا ہے