اب کے شرط الفت وطنیت ٹھہری
کر لی جاٸے آبیاری
بنجر ذہنوں کی بنجر زمینوں سے پہلے
تحریر۔نوشابہ یعقوب راجہ
عجیب المیہ ہے دنیا نے اتنی ترقی کر لی زمین کے اندر جاکر کبھی ہارپ ٹیکنالوجی سے کسی ملک کے زمین میں چپھے خزانوں, تیل اور گیس کے چپھے ذخاٸر تک کی کھوج لگا چکی ہے اور اس ٹیکنالوجی سے زمین کی پلیٹس تک ہلا کر قیامت خیز زلزلے لانے اور مصنوعی بارشوں کے ذریعےاس کو ہر طرح سے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے وہاں ہمارے ملک کے حکمرانوں نےگزشتہ پچھتر سالوں سے اس ملک کو نت نٸے طریقوں سے لوٹنے کے طریقے دریافت کیے ہیں۔اور اس ملک کو اتنا لوٹا ہے کہ اب اس ملک کا خالی ڈھانچے پر بچے ذرات کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔اس زرعی ملک کو نہری نظام نہیں دے سکے۔ اس ملک میں دریاوں پر بندھ نہیں باندھے جا سکے۔اس ملک میں درخت لگانا تو درکنار جنگل کے جنگل مافیا بیچ کھاتی ہے۔اس ملک خداداد پر آسیب کا سایہ ہے۔
پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ڈیم تک نہیں بنائے جا سکے۔ایک زرعی ملک جو ہر طرح کے اناج کی کاشت کے لیے موضوع ہے پانی کے نظام کے نہ ہونے کی بدولت وہ ملک کا پیاز اور دیگر اناج دوسرے ممالک سے منگواتا ہے اور حکمرانوں کی لوٹ مار کی بدولت جب قومی خزانے میں پیسہ نہ بچے تو وہ کنٹینر کلیر نہ ہونے کی بدولت انتظار میں دوبارہ پھوٹنے لگتا ہے۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اگر ملک خداداد پاکستان کے کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کی نظروں کے سامنے سے قومی خزانے کو لوٹنے ملک کو کنگال ,مقروض کرنے اور آٸی ایم ایف کے قرضے سے ملنے والی مزید دولت کے مزید پہاڑوں کو لوٹنے کی منصوبہ بندی سے فرصت ملے تو اس خبر کو بھی دیکھ لیں پہلے تباہ کن سیلاب کے نقصانات سے ابھی مکمل نجات نہیں ملی کہ ایک اور تباہی کی خبر کی پیشنگوئی آ گٸی ہے۔۔کاش اس ملک میں اس پانی کو ضاٸع ہونے سے بچانے کا کوٸی خیال کرتا کاش کوٸی نہری نظام کا جال بچھاتا جس سے یہ پورا ملک ترقی یافتہ ملکوں کی طرح پورا سال مستفید ہوتا۔بدقسمتی ہمارا میٹھا پانی رحمت بننے کی بجاٸے تباہی مچاتا ہواکھارے پانی کی نظر ہو جاتا ہے اور لوگ گرمیوں میں پانی کی قلت کا شکار ہوتے ہیں ۔یہ سارا پانی سندھ میں جاکر سمندر برد ہو کر ضاٸع ہو جاتا ہے اور اہل سندھ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔باخدا اتنےجاہل,نااہل اور کرپٹ حکمران پاکستان
کے علاوہ کرہ ارض پر کسی مملکت کے نصیب میں نہیں آئے۔دوسری طرف دریاوں کی زمینوں پر قبضے کر کے ہاوسنگ سوسائیٹیز بنائیں گئیں اور ذہین مافیا اسے اپنی کامیابی سمجھنے لگا مگر یہ بھول گیا دریا کے پانی کی روایت ہے وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے اور قبضہ مافیا سے اپنا قبضہ بھی خود چھڑواتا ہے وہ نہ کسی بادشاہ اور نہ ہی عدالت کا در کھٹکھٹاتا ہے ۔بلکہ وہ روز ازل سے بنائے گئے کائنات کے مالک کے اشارے پر چلتا ہے۔جہاں صرف انصاف چلتا ہے ۔اس کائنات میں سوائے انسان کے کائنات کی ہر شے اپنے مقررہ مدار میں گھوم رہی ہے۔انسان اپنی آزادی کا ناجائز استعمال کرتے مدار اور اوقات سے باہر چلا جاتا ہے اور اسے اوقات میں لانے کے لئے قدرت اپنا قانون نافذ کرتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے جاگ جاٸیں اور اپنی قسمت بدل ڈالیں۔
بنجر زمینوں کو زرخیز کرنے سے پہلے بنجر ذہنوں کو تروتازہ
کرنا ان کی آبیاری کرنا ضروری ہے ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔
خدارا جاگیں!!! اپنے دریاوں کی جگہ خالی کروائیں اور دریاوں پر مضبوط بند باندھیں ۔ملک میں میں نہری نظام بنائیں۔درخت لگائیں ۔ ڈیمز بنائیں۔ترقی یافتہ ممالک کے کپڑوں، بیگز،جینز اور پلاسٹک سرجریز کو کاپی کرنے کی بجائے ان کے نہری اور زرعی،تعلیمی،سائنسی نظام کی تقلید کریں ۔ورنہ یہ بارشیں، سیلاب ہمارے بوسیدہ سسٹم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اس مکروہ ظالمانہ نظام کے ساتھ سب کچھ بہا لے جائیں گے۔موسمی تغیرات آنے والے دور میں اس سے بھی بھیانک ہوں گے۔
خدارا آنکھیں کھولیں۔کروڑوں لوگ ارض پاک میں اس آفت کی زد میں آ چکے ہیں۔آخر کب تک یہ ظلم و جبر کا نظام چلے گا۔
ہمیں بحیثیت قوم اپنے کرتوت،حکمراں ،نظام اور طرز زندگی بدلنے کی ضرورت ہے۔
جبر کا موسم تبھی بدلے گا جب ہم بدلیں گے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے آپ اپنی حالت کے بدلنے کا