*پاکستان ہاکی: خاک سے افق تک*
حرف محتاط/ ملک خالد ضمیر
Email: kmzameer@gmail.com
تاریخ کے گرد آلود اوراق پلٹیں تو ذہن کے پردے پر ایک ایسا منظر رقص کرنے لگتا ہے جہاں سبز ہلالی پرچم کی لہر محض ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ عالمی ہاکی کے میدانوں پر حکمرانی کی علامت ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی کیا سحر انگیز دور تھا جب ریڈیو کے گرد بیٹھے حبس زدہ سانسوں والے شائقین کمنٹیٹر کی ہر ہانپتی اور لرزتی آواز پر وجد میں آ جاتے۔ فضا میں ایک ہی گونج ہوتی: "گیند سمیع اللہ کے پاس… سمیع اللہ سے کلیم اللہ… اور یہ گول!” یہ محض کھیل نہیں تھا، یہ ایک رومان تھا، ایک جنون تھا جو پورے ملک کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا تھا۔ میدان میں جب سبز جرسیوں والے شاہین اترتے تو مخالف ٹیمیں صرف کھیلنے نہیں بلکہ تاریخ کے ایک ایسے دباؤ کے ساتھ کھیلنے آتی تھیں جسے جھیلنا ہر کسی کے بس میں نہ تھا۔
شہباز سینئر کی بجلی جیسی ڈرائبلنگ، حسن سردار کی جادوئی مہارت، سمیع اللہ کی برق رفتاری اور اختر رسول کی فولادی قیادت—یہ سب نام صرف کھلاڑی نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت تھے۔ دہلی کا وہ تاریخی فائنل کسے بھول سکتا ہے جہاں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی موجودگی میں شاہینوں نے حریف کے جال میں سات گول داغ کر پورے اسٹیڈیم پر موت جیسی خاموشی طاری کر دی تھی۔ چار بار کا ورلڈ چیمپئن پاکستان ایک ایسی حقیقت تھا جسے جھٹلانا ناممکن تھا۔ ایشین گیمز ہوں، چیمپئنز ٹرافی ہو یا اذلان شاہ کپ، ہر جگہ سبز ہلالی پرچم کی دھاک بیٹھی تھی۔
مگر پھر وقت کی بے رحم گردش نے وہ دن بھی دکھائے کہ ہمارا قومی کھیل اپنوں کی بے رخی، نااہل نظم و نسق، قابل افراد کے فقدان اور ترجیحات کے بدلتے رخ کی بھینٹ چڑھ کر گمنامی کے اندھیروں میں سسکنے لگا۔ کبھی دنیا کی بادشاہ ٹیم بتدریج زوال کے اندھیروں میں کھو گئی۔ وسائل کم ہوتے گئے، ادارے کمزور پڑتے گئے اور سب سے بڑھ کر کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے میں غیر پیشہ ورانہ فیصلوں نے اس قومی کھیل کی سانسیں روک دیں۔ یہاں ایک بنیادی غلطی مسلسل دہرائی جاتی رہی؛ ہم نے یہ بھلا دیا کہ ایڈمنسٹریٹر، مینجمنٹ اور ٹریننگ تین بالکل مختلف مضامین ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان شعبوں کو یکجا کر دیا گیا، جس کا نتیجہ ٹیلنٹ کے ضیاع اور عالمی رینکنگ میں تنزلی کی صورت میں نکلا۔ کبھی عالمی ہاکی کا شہنشاہ رہنے والا پاکستان اس مقام پر آ کھڑا ہوا کہ ورلڈ کپ میں رسائی بھی ایک خواب بن گئی۔
آٹھ سال… یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ پاکستانی ہاکی کے مداحوں کے لیے ایک طویل، صبر آزما اور اذیت ناک بن باس تھا۔ لیکن تاریخ کا حسن یہ ہے کہ وہ کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتی، وہ خود کو دہرانے کا موقع ضرور دیتی ہے۔ مارچ 2026 کے ان سات دنوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کوالیفائر میں جب پاکستان کا جاپان کے خلاف سیمی فائنل شروع ہوا، تو یہ محض ایک میچ نہیں بلکہ برسوں کی حسرتوں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا آخری امتحان تھا۔ میدان میں موجود کھلاڑیوں کے چہروں پر عزم تھا اور آنکھوں میں برسوں کی پیاس۔
اعصاب شکن مقابلہ اپنے عروج پر تھا، اسکور برابر تھا اور پوری قوم کی نظریں ٹی وی اسکرینوں پر جمی تھیں۔ کھیل کے آخری لمحات میں جب دباؤ پہاڑ جیسا تھا، اچانک پاکستانی فارورڈ نے ایک بجلی جیسا حملہ کیا اور گیند کو جال کی نذر کر دیا۔ اسکور 4-3 اس ایک گول کے ساتھ ہی آٹھ برس کا طویل انتظار ختم ہو گیا۔ فضا نعروں سے گونج اٹھی اور محسوس ہوا جیسے کسی مردہ جسم میں روح لوٹ آئی ہو۔ یہ فتح کسی مروجہ عالیشان سسٹم کی نہیں، بلکہ ان کھلاڑیوں کے خون پسینے، غیرت مند جذبوں اور ان کے ان ٹوٹے ہوئے جوتوں کی جیت ہے جنہیں نہ تو کرکٹ جیسا گلیمر ملا اور نہ ہی وہ مالی آسودگی۔
اس تاریخی موڑ پر جہاں کھلاڑیوں کا عزم و ہمت لائقِ تحسین ہے، وہیں موجودہ انتظامیہ اور صدرِ پاکستان پاکستان ہاکی فیڈریشن کی دور اندیشی کو داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کی قیادت میں جس بصیرت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ موجودہ انتظامی کمیٹی کی تعیناتی سے عیاں ہے۔ وانی صاحب نے ثابت کیا کہ اگر قیادت وژنری ہو تو نامساعد حالات کے تھپیڑوں میں بھی کنارے مل جاتے ہیں۔ ان کی متحرک قیادت میں کھلاڑیوں کو وہ حوصلہ ملا جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔ اسی تسلسل میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ اور کھلاڑیوں سے ملاقات کرنا، انہیں ملازمتوں کی فراہمی کا یقین دلانا اور زخمی کھلاڑیوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھانا ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔
مگر یاد رکھیے، یہ صرف ایک آغاز ہے، منزل ابھی دور ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہاکی کو مستقل بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے اسے کرکٹ بورڈ کا دستِ نگر بنانے کے بجائے ایک مکمل خود مختار پاکستان ہاکی بورڈ تشکیل دینا ہوگا جو اپنی پالیسیاں خود وضع کرے۔ وقت آگیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر، مینیجر اور کوچنگ اسٹاف کو مکمل طور پر علیحدہ کیا جائے اور ہر مسند پر اس شعبے کے ماہر پروفیشنلز کو تعینات کیا جائے۔
اس سلسلے میں ایک اور انقلابی قدم نیشنل ایجوکیشن ہاکی کوآرڈینیشن کمیٹی کا قیام ہے، جس کے ذریعے اسکول اور کالج کی سطح پر ہاکی کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا گیا ہے۔ ہمیں پورے ملک کے تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر سبز رنگ کی چھاپ میں رنگنا ہوگا۔ پورے ملک کے اسکولوں کے میدانوں میں جب انڈر-14 اور انڈر-16 کی سطح پر اسٹک کی آواز گونجے گی، تبھی عالمی میدانوں میں پاکستان کا نام سنائی دے گا۔ ہمیں ہاکی پریمیئر لیگ (HPL) جیسے بڑے برانڈ کی ضرورت ہے تاکہ اسپانسرز اس کھیل کی طرف راغب ہوں اور ہمارے کھلاڑیوں کو بھی وہی مالی مراعات ملیں جو ان کا حق ہیں۔
آج جب قومی ٹیم عالمی درجہ بندی میں 12 ویں نمبر پر آ چکی ہے، تو امید کی ایک شمع روشن ہوئی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہم دوبارہ ٹاپ ٹین اور پھر ٹاپ تھری میں جگہ بنائیں گے۔ یہ کامیابی صرف ایک ٹورنامنٹ کی جیت نہیں، بلکہ پاکستان کے اصل فخر کی واپسی کا پیش خیمہ ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں پھر کوئی کمنٹیٹر جذبات سے لبریز آواز میں کہے: "گیند پاکستانی فارورڈ کے پاس… ڈاج… شاٹ… اور یہ گول!” اور اس کے ساتھ ہی دنیا ایک بار پھر دیکھے کہ ہاکی کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم کیسے لہراتا ہے۔
قوم سے اپیل ہے کہ اب ان جوانوں کا ساتھ دیں، یہ ہمارے سر کا تاج ہیں۔ یاد رکھیے، ہاکی ہمارے خون میں ہے اور یہی ہماری اصل پہچان ہے۔ انشا اللہ، 2026 کا ورلڈ کپ پاکستان ہاکی کے احیاء اور عروج کا سال ثابت ہوگا۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہاکی پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے – اور دل کی دھڑکنیں کبھی خاموش نہیں ہوا کرتیں۔