Gas Leakage Web ad 1

نئی عالمی بساط پر پاکستان کی حکمت عملی

عابد رشید

0

مشرقِ وسطیٰ کی فضا اس وقت بارود کی بو سے بوجھل ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک ایسی جنگی کیفیت کو جنم دے دیا ہے جس کے اثرات صرف چند ریاستوں کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے پورے ڈھانچے کو متاثر کریں گے۔ تاریخ اس حقیقت کی بارہا شہادت دیتی ہے کہ بڑی جنگیں محض میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں…. ان کے حقیقی اثرات سفارتی ایوانوں کی خاموش راہداریوں، عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاو، توانائی کی ترسیل کے نازک راستوں اور بین الاقوامی اتحادوں کی بدلتی ہوئی صف بندیوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔ خلیج فارس کی تنگ آبی گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے اس عسکری تصادم کی صورت میں عالمی معیشت کے لئے خطرے کی علامت بن چکی ہے۔ خطے میں پیدا کشیدگی نے تیل کی عالمی قیمتوں، مالیاتی منڈیوں اور عالمی تجارت کے بہاو کو ہلا کر رکھ دیا ہے چنانچہ موجودہ بحران اسلامی دنیا کےلئے اب محض ایک خبر یا وقتی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک گہرا اور فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے….ایسا امتحان جس میں سیاسی بصیرت، اجتماعی اتحاد اور دور اندیش حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
عالمی سیاست اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کے مراکز بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں۔ وہ عالمی نظام جو کئی دہائیوں تک مغربی بالادستی کے سائے میں قائم رہا اسے اب نئے جغرافیائی و سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی توازن کو نئی سمت دینے کی کوشش میں مصروف ہیں جبکہ امریکہ اپنی روایتی بالادستی کو برقرار رکھنے کےلئے سرگرم ہے۔ یوکرین جنگ، بحرِ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور ایشیا میں ابھرتے ہوئے عسکری اتحاد اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا بتدریج ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمتِ عملی ایک نمایاں تضاد کو آشکار کرتی ہے۔ وہ اقتدار کے میدان میں اس وعدے کے ساتھ داخل ہوئے تھے کہ امریکہ کو نئی جنگوں سے دور رکھا جائے گا اور عالمی سطح پر امن کی فضا کو فروغ دیا جائے گا مگر عملی طور میں انہوں نے اپنے ایک سالا دور اقتدار میں عالمی تنازعات اور عسکری کشیدگی سات نئے محاذ کھول دیئے ہیں۔
ان حالات میں مشرقِ وسطیٰ میں ابھرنے والی یہ تازہ جنگی صورتِ حال ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی ایک وسیع اور پیچیدہ کشمکش کی علامت بن چکا ہے۔ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران میں اپنی مرضی کی حکومت چاہتے ہیں اور اس دوران انہوں نے مذہبی کارڈ بھی استعمال کیاہے جس کا مطلب بالکل صاف اور واضح ہے کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے۔ اس کشمکش میں صرف سرحدیں ہی نہیں بدلیں گی بلکہ عالمی معیشت کے دھارے، توانائی کے راستے، دفاعی اتحادوں کی سمت اور عالمی سیاست کی ترجیحات بھی نئے سرے سے متعین ہوں گی۔ بات با لکل صاف ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک ہی محدود نہیں رہیں گے…. پورا مشرقِ وسطیٰ ہی اس کی لپیٹ میں نہیں ائے گا بلکہ اس کے اثرات یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیل سکتے ہیں….ایسی صورت میں عالمی نظام ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہوجائے گا جہاں طاقت کا توازن، سفارتی ترجیحات اور اقتصادی راستے سب ازسرِ نو ترتیب پانے لگیں گے۔ یہی وہ پس منظر ہے جو اس بحران کو محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی موڑ میں تبدیل کر دے گا جس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست کے افق پر محسوس کئے جائیں گے۔
حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہونے والے واقعات نے عالمی عسکری توازن کے بارے میں ایک نئی فکری بحث کو جنم دیا ہے۔ طاقت کے وہ پیمانے جنہیں گزشتہ صدی میں ناقابلِ تردید سمجھا جاتا تھا اب بدلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی محدود مگر اہم نوعیت کی جھڑپوں نے یہ اشارہ دیا کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی نے جنگ کے پرانے اصولوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کے جدید رافیل طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات نے یورپی دفاعی ٹیکنالوجی کی برتری کے تصور پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے
یہ بحث محض جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس موضوع کو اور بھی گہرا کر دیا ہے۔ جدید جنگ اب صرف بارود اور بارودی سرنگوں کا کھیل نہیں رہی…. پردے کے پیچھے ایک خاموش مگر نہایت پیچیدہ سائبر ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کا محاذ محاذ بھی سرگرم ہے۔ تجزیہ کار اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں بعض جدید جنگی نظام ایسے غیر متوقع تکنیکی چیلنجوں سے دوچار ہوئے جنہوں نے عسکری ماہرین کو چونکا دیا۔ ان واقعات کے پس منظر میں الیکٹرانک مداخلت، سسٹم جیمِنگ اور سائبر آپریشنز جیسے عوامل کا امکان بھی زیرِ بحث آ رہا ہے۔ بعض حلقے اسے ابھرتی ہوئی چینی تکنیکی صلاحیتوں سے بھی جوڑتے ہیں اگرچہ اس بارے میں حتمی شواہد کم ہی سامنے آتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس نئی دوڑ میں چین برق رفتاری سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والی جنگوں کا اصل میدان زمین یا سمندر سے زیادہ ڈیجیٹل فضا ہو گا۔ کبھی توپ و تفنگ سلطنتوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے تھے مگر اب الگورتھم، ڈیٹا نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے نظام طاقت کے نئے ہتھیار بنتے جا رہے ہیں جو نئی جنگی بساط پر روایتی عسکری قوت کے ساتھ ساتھ تکنیکی برتری، سائبر دفاع اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فیصلہ کن کردار ادا کریں گے…. جنگ کا چہرہ بدل رہا ہے اور طاقت کا ترازو بھی اب کسی اور سمت جھکنے لگا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ عسکری کارروائیوں نے ایک اور اہم سوال کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ جدید میزائل ٹیکنالوجی کی رفتار، درستگی اور تنوع نے کئی دفاعی نظاموں کی افادیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف کثیر پرت دفاعی ڈھالیں تیار کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ہائپر سونک میزائل، ڈرون سوارمز اورسمارٹ ہتھیار ان ڈھالوں کو چکمہ دینے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔یہ شطرنج کاایک ایسا کھیل بن چکا ہے جس میں ہر نئی چال کے جواب میں ایک اور پیچیدہ چال سامنے آ جاتی ہے۔
ان تمام واقعات کا مجموعی منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ عالمی طاقت کا توازن خاموشی سے مگر مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ اب وہی ریاستیں اس نئی دنیا میں موثر کردار ادا کر سکیں گی جو ٹیکنالوجی، معیشت، تحقیق اور سفارت کاری میں مضبوط ہوں گی۔ جدید عالمی سیاست میں محض تلوار کی دھار کافی نہیں رہی بلکہ ذہانت، علم اور اختراع کی قوت بھی ناگزیر قوت بن چکی ہے۔
اسی بدلتی ہوئی عالمی بساط پر چین کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے میدان میں اس کی تیز رفتار پیش رفت نے عالمی طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں عالمی عسکری اور تکنیکی نظام کی باگ ڈور کسی نئی سمت میں مڑتی دکھائی دے۔ دنیا کی طاقت کی کہانی شاید ایک نئے باب میں داخل ہو رہی ہے اور اس باب کی سیاہی بارود سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے روشن مگر پیچیدہ حروف سے لکھی جا رہی ہے۔
اسی پس منظر میں اسلامی ممالک کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس عالمی شطرنج میں محض تماشائی بنے رہیں گے یا اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کےلئے ایک متوازن اور باوقار کردار ادا کریں گے۔
بدقسمتی سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی کمزوری اس کا داخلی انتشار ہے اگر مسلم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے تو عالمی سیاست میں ان کا وزن کہیں زیادہ ہوتا۔ توانائی کے وسیع ذخائر، نوجوان آبادی، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم دنیا عالمی فیصلوں میں وہ موثر کردار ادا نہیں کر پاتی جس کی صلاحیت اس کے پاس موجود ہے۔
ایسے نازک وقت میں اسلامی ممالک کےلئے سب سے اہم حکمتِ عملی یہ ہونی چاہئے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔ انہیں کسی بھی عالمی طاقت کے پراکسی تنازعات کا حصہ بننے سے گریز کرنا ہوگا اور اپنے قومی و اجتماعی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ایٹمی طاقت اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع کے حامل ملک کے طور پر پاکستان اسلامی دنیا میں سفارتی اور عسکری دونوں حوالوں سے ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک اس وقت معاشی دباو اور توانائی کے شدید چیلنجوں سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے لئے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ اس بحران میں غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرے۔
پاکستان کی پہلی ترجیح خطے میں امن کے فروغ کےلئے فعال سفارتی کردار ہونا چاہئے۔ اسلام آباد کو چاہئے کہ وہ مسلم ممالک کے درمیان مکالمے اور مفاہمت کی کوششوں کو تقویت دے۔
دوسری اہم ترجیح توانائی کی سلامتی ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طول پکڑتی ہے یا آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کےلئے ضروری ہے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع، علاقائی توانائی تعاون اور اسٹریٹجک ذخائر کے قیام پر فوری توجہ دے۔
تیسری اہم جہت دفاعی اور سکیورٹی تیاری ہے۔ عالمی کشیدگی کے ماحول میں درمیانے اور چھوٹے ممالک اکثر بڑی طاقتوں کے دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت، سائبر سکیورٹی اور داخلی استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
چوتھی اور شاید سب سے بنیادی حکمتِ عملی اقتصادی خودمختاری ہے۔ جب تک پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے ان کی خارجہ پالیسی بھی مکمل آزادی سے تشکیل نہیں پا سکے گی۔
موجودہ بحران اسلامی دنیا کے لئے بیک وقت تنبیہ بھی ہے اور موقع بھی…. تنبیہ اس لئے کہ اگر مسلمان ممالک باہمی رقابتوں اور داخلی انتشار میں الجھے رہے تو عالمی سیاست میں ان کا کردار مزید محدود ہو جائے گا اور موقع اسلئے کہ اگر وہ اتحاد، فعال سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کی راہ اختیار کریں تو وہ عالمی توازن میں ایک موثر اور باوقار قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ تدبر، سفارت کاری اور قومی مفاد کو اپنی ملکی و خارجہ پالیسی کا محور بنائے کیونکہ قومیں دور اندیش فیصلوں کے ذریعے اپنی تقدیر بدلتی ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.