"تاریخ کی سب سے بڑی جنگیں اس وقت بھڑک اٹھتی ہیں جب میدان جنگ میں طاقت طاقت سے ملتی ہے۔”
# *ایران–اسرائیل–امریکہ جنگ: تیسری عالمی جنگ کا سایہ*
> راجہ عاطف رضا
یہ حقیقت 28 فروری 2026 کی صبح کے واقعات سے واضح ہوئی، جب دنیا اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھی، مگر مشرقِ وسطیٰ میں اچانک دھماکوں اور فضائی حملوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر مشترکہ فضائی حملے کیے اور چند گھنٹوں کے اندر ایران نے خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ چند دنوں میں یہ کشیدگی ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر گئی، جس نے دنیا بھر میں خدشات پیدا کر دیے کہ یہ تنازع کسی وسیع عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ابتدائی پانچ سے چھ دنوں کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی اور متعدد ممالک اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کئی ممالک نے سکیورٹی الرٹس بڑھا دیے ہیں۔ عالمی معیشت بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر توانائی کی منڈی کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق 28 فروری کی صبح کیے گئے ابتدائی حملے ایک مربوط مشترکہ آپریشن کا حصہ تھے۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کو "ایپک فیوری” اور اسرائیل نے "رورنگ لائن” کا نام دیا۔ یہ حملے ایران کے میزائل پروگرام، فضائی دفاع کے نظام اور علاقائی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، تقریباً 2,500 ہتھیار استعمال کیے گئے اور ایران میں تقریباً 600 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل اسٹوریج ڈپو، فضائی دفاعی تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹر شامل تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہو گئے، جو 1989 سے ملک کی قیادت کر رہے تھے اور یہ ایران کے سیاسی اور فوجی نظام کے لیے ایک شدید دھچکا ہے۔
چند گھنٹوں کے اندر ایران نے "فاتح خیبر” کے نام سے جوابی کارروائی شروع کی، جس میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو میزائل اور ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق 26 ڈرون اور 5 بیلسٹک میزائل کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور آبنائے ہرمز میں امریکی اہداف کی جانب داغے گئے۔ اگرچہ خطے میں نصب فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے لیکن بعض حملے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک نے اعلیٰ سکیورٹی الرٹس جاری کیے اور متعدد فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔
28 فروری سے 5 مارچ 2026 کے دوران ایران کو سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 1,000 سے 1,100 شہری ہلاک ہوئے جبکہ بعض اندازوں کے مطابق فوجیوں سمیت مجموعی ہلاکتیں 4,000 سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ پانچ سے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ فوجی نقصانات میں ایک ہزار سے زائد پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سیکیورٹی اہلکار شامل تھے، اور ابتدائی حملوں میں 48 سینئر کمانڈرز اور حکومتی شخصیات بھی شہید ہوئیں۔ سب سے المناک واقعہ ایران کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملہ تھا، جس میں تقریباً 160 طالبات اور عملہ شہید ہو گیا، جس نے پورے خطے کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔
اسرائیل میں میزائل حملوں کے نتیجے میں تقریباً 10 سے 12 شہری ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ تل ابیب اور بیت شیمش کے علاقوں میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ امریکہ نے بھی جانی نقصان اٹھایا، جہاں چھ فوجی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔ کویت میں فائرنگ کے واقعے میں تین امریکی F-15E لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے۔
خلیجی ممالک بھی محفوظ نہ رہے۔ متحدہ عرب امارات میں میزائل کے ملبے سے تین غیر ملکی مزدور ہلاک اور تقریباً 78 افراد زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً ایک ہزار میزائل اور ڈرون یو اے ای کی سمت داغے گئے۔ قطر میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، لیکن 16 شہری میزائل کے ملبے سے زخمی ہوئے اور قطری فضائیہ نے ایران کے دو Su-24 طیارے مار گرائے۔ کویت میں چھ افراد ہلاک اور 18 سے زائد زخمی ہوئے۔
تنازع کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حزب اللہ کو نشانہ بناتے ہوئے 70 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے چار جنگجو شہید ہوۓ جبکہ عمان میں بندرگاہوں اور جہاز رانی پر حملوں کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا۔ ترکی میں نیٹو بیس کے قریب ایک میزائل کو روکا گیا، کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
فوجی لحاظ سے ایران کے پاس تقریباً 610,000 فعال اہلکار اور 350,000 ریزرو فورس موجود ہے، جبکہ اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ اور زیرِ زمین فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے طور پر تقریباً 1.3 ملین فعال اہلکار، جدید لڑاکا طیارے، اسٹیلتھ بمبار اور مضبوط بحری بیڑے رکھتا ہے۔ اسرائیل کے پاس بھی جدید فضائیہ اور دفاعی نظام موجود ہیں، جن میں آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔
صرف چھ دنوں میں پورے خطے میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے 10 سے 12 ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کے 170 سے زائد شہروں میں حملوں کے اثرات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ تنازعہ صرف ایک علاقائی جنگ نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں سانس روکے صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہیں کیونکہ آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ بحران محدود رہے گا یا ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر لے گا۔
**ذرائع:** سینٹکام، آئی ڈی ایف، آئی آر جی سی، سی این این، بی بی سی، سی جی ٹی این، الجزیرہ، پولیٹیکو، انادولو ایجنسی، ڈیلی مرر۔