تعلیم کسی بھی قوم کے ماتھے کا جھومر اور اس کے مستقبل کی روشن پیشانی ہوتی ہے۔ یہ محض حروف کی پہچان یا اعداد کے ہیر پھیر کا نام نہیں بلکہ شعور کی بیداری، فکر کی آبیاری اور کردار کی تعمیر کا وہ مقدس عمل ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے اور قوموں کو عروج عطا کرتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں علم کی قندیل فروزاں ہوتی ہے تو جہالت کے سائے سمٹنے لگتے ہیں، رویّے مہذب ہوتے ہیں اور اقدار کو استحکام ملتا ہے۔ تعلیم ہی وہ قوت ہے جو فرد کو خود آگہی اور معاشرے کو اجتماعی بصیرت عطا کرتی ہے۔ اسی لیے مہذب اقوام نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔
ضلع چکوال ایک زمانے میں تعلیمی میدان کا روشن استعارہ تھا۔ پنجاب بھر میں کارکردگی کے اعتبار سے یہ ضلع سرفہرست شمار ہوتا تھا۔ بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشنز، اعلیٰ نتائج اور نظم و ضبط کی مثالیں اس کی شناخت تھیں۔ مگر وقت کی گردش نے اس درخشاں مقام کو دھندلا دیا۔ آج چکوال اپنی وہ پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہا۔ اس تنزلی کے کئی اسباب ہیں، مگر سرکاری سکولوں کی زبوں حالی اور کارکردگی میں کمزوری ایک نمایاں حقیقت بن کر سامنے آئی ہے۔ سرکاری اداروں کی گرتی ہوئی تعلیمی ساکھ نے عوامی اعتماد کو متزلزل کیا، نتیجتاً والدین کی بڑی تعداد نے نجی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج سرکاری اساتذہ، ملازمین اور بیوروکریٹس کے بچے بھی نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اس رجحان نے واضح کر دیا ہے کہ نجی اداروں نے معیار، نظم و ضبط اور نتائج کے اعتبار سے اپنی صلاحیت منوائی ہے۔ تعلیم جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری تھی، اس وقت نجی شعبہ نہ صرف اس ذمہ داری کو نبھا رہا ہے بلکہ حکومت کے لیے سہولت کاری کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اگر بورڈ کے ریکارڈ اور ضلعی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو اعلیٰ پوزیشنز اور شاندار نتائج میں نجی اداروں کی محنت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ گویا نجی سکول اس تعلیمی کارواں کے ہراول دستے بن چکے ہیں۔
تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک مضبوط ریاست کے لیے سرکاری تعلیمی نظام کی بحالی ناگزیر ہے۔ نجی شعبہ معاون تو ہو سکتا ہے، مکمل متبادل نہیں۔ چکوال کی حالیہ تعلیمی تنزلی میں جہاں مختلف انتظامی عوامل کارفرما رہے، وہیں بعض اوقات ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی بھی زیرِ بحث رہی۔ مگر موجودہ ڈپٹی کمشنر میڈم سارہ حیات کی آمد نے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔ ان کی حالیہ سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی شعبے کی نزاکتوں سے آگاہ اور اس کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہیں۔
گزشتہ ماہ نجی سکولوں کے پرنسپلز کنونشن میں ان کی شرکت اور بہترین تعلیمی خدمات انجام دینے والے پرنسپلز کی حوصلہ افزائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ نجی شعبے کے کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ مزید برآں ایپسکا ضلع چکوال کے وفد نے ضلعی صدر صفدر ملک کی قیادت میں ان سے ملاقات کی اور انہیں گریڈ 19 میں ترقی پر مبارکباد پیش کی۔ اس نشست میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، خصوصاً بعض سکولوں پر عائد بھاری جرمانوں کے معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر نے شفافیت کو یقینی بنانے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ اداروں پر غیر ضروری مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
اسی ملاقات کے موقع پر پرنسپل پرل سٹی اسکول ملک خالد ضمیر نے ایک اہم اور بروقت تجویز پیش کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جس طرح نجی تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ کم کر کے تعلیمی میدان میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، اسی طرح ضروری ہے کہ سرکاری اساتذہ کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں کے اساتذہ کو بھی جدید تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر کیڈ اکیڈمی اور گوگل اے آئی ٹریننگ پروگرامز میں نجی اساتذہ کی شمولیت کے لیے سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی، تاکہ پنجاب کے نجی سکولوں کے اساتذہ بھی جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں اور صوبے کے بچوں کو عصرِ حاضر کے مطابق تعلیم دے سکیں۔
اس تجویز پر ڈپٹی کمشنر صاحبہ نے بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ نجی سکول اساتذہ کو تربیتی پروگرامز میں شامل کرانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس تجویز کو نہ صرف ضلعی سطح پر آگے بڑھائیں گی بلکہ اسے صوبائی سطح پر وزیرِ تعلیم تک بھی پہنچائیں گی تاکہ ایک جامع پالیسی کے تحت نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے اساتذہ کو یکساں تربیتی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت ہی مستقبل کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا یہ بیان کہ “نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل اور سہولت کاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا” دراصل ایک مثبت اور تعمیری سوچ کا مظہر ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ واضح تھا کہ وہ نجی سکولوں کے کردار کو محض ایک کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھتی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سرکاری سکولوں کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو ان کی متوازن اور جامع اپروچ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ ملاقات ضلعی انتظامیہ اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور اشتراکِ عمل کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہی سنجیدگی، میرٹ کی پاسداری اور باہمی تعاون جاری رہا تو بعید نہیں کہ Chakwal ایک بار پھر پنجاب کے تعلیمی افق پر روشن ستارے کی مانند چمکے۔ تعلیم کی مضبوطی دراصل ہمارے مستقبل کی مضبوطی ہے، اور نجی تعلیمی ادارے اس سفر میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب ریاست اور نجی شعبہ ایک ہی مقصد کے تحت یکجا ہو جائیں تو ترقی کی راہیں خود بخود ہموار ہو جاتی ہیں، اور کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا محال نہیں رہتا۔