قومی کھیل کی زبوں حالی اور ہاکی فیڈریشن کا بحران: ایک لمحہ فکریہ
پاکستان ہاکی کی موجودہ صورتحال اور حالیہ بحران محض ایک کھیل کی تنزلی نہیں بلکہ ایک قومی المیے کی بازگشت ہے۔ وہ ہاکی جس نے دہائیوں تک عالمی افق پر پاکستان کا نام روشن کیا اور جس کے کھلاڑیوں کے سامنے دنیا کی بہترین ٹیمیں بے بس نظر آتی تھیں، آج وہ قومی کھیل اپنوں ہی کی بے حسی، کرپشن اور انتظامی نااہلی کی نذر ہو چکا ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کی دہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے کھلاڑی میدان میں حریفوں سے لڑنے کے بجائے نظام کی بوسیدگی اور مینجمنٹ کی بدانتظامی سے نبرد آزما ہیں۔ آسٹریلیا کے دورے کے دوران کھلاڑیوں کا یتیموں کی طرح سڑکوں پر مارے مارے پھرنا، ہوٹل کے بجائے گھروں میں قیام، خود کھانا پکانا اور واش روم تک صاف کرنا اس تذلیل کی انتہا ہے جو کسی بھی باوقار ملک کے قومی ہیروز کے ساتھ تصور بھی نہیں کی جا سکتی۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ جہاں کرکٹرز کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں، وہیں ہاکی کے کھلاڑی بنیادی سہولیات اور ذہنی سکون کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔
پاکستان سپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن کے درمیان الزامات کی حالیہ جنگ نے اس نظام کے کھوکھلے پن کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ ایک طرف سپورٹس بورڈ دستاویزی شواہد کے ساتھ کروڑوں روپے کے فنڈز اور ویزا فیسوں کی ادائیگی کا ریکارڈ پیش کرتا ہے، تو دوسری طرف فیڈریشن کی سطح پر آپریشنل بے ضابطگیاں اور کاغذات کی تیاری میں مجرمانہ تاخیر سامنے آتی ہے۔ یہ تضاد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فنڈز کی کمی سے زیادہ مسئلہ نیت اور اہلیت کا ہے۔ جب تک فیڈریشن میں پیشہ ورانہ نظم و نسق کے بجائے سفارشی کلچر اور اقربا پروری کا راج رہے گا، تب تک فنڈز کھلاڑیوں کے بجائے چند مخصوص عہدیداروں کی جیبوں اور سفری الاؤنسز کی نذر ہوتے رہیں گے۔ کھلاڑیوں کا غیر ملکی کوچ پر اصرار اور موجودہ مینجمنٹ پر عدم اعتماد اس گہرے خلیج کا اظہار ہے جو نظام کی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔
اس تاریک منظر نامے میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کردار ایک امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ عماد بٹ کے مطابق، محسن نقوی نے نہ صرف کھلاڑیوں کے دکھ درد کو سنا بلکہ فوری طور پر ہر کھلاڑی کو دس دس لاکھ روپے کے چیکس دے کر ان کی مالی معاونت بھی کی۔ ان کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ آپ کا کام کھیلنا ہے اور میں آپ کے ساتھ ہوں, کھلاڑیوں کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو بحال کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ محسن نقوی کی انتظامی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاکی بورڈ کو بھی پی سی بی کی طرز پر مکمل انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے، تاکہ ہاکی بھی پیشہ ورانہ بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔ فیڈریشن میں اولمپئنز کے بجائے باقاعدہ انٹرویوز کے ذریعے پیشہ ور منتظمین کو لایا جائے اور اولمپئنز کی خدمات کو صرف کوچنگ اور ٹیکنیکل شعبوں تک محدود رکھا جائے۔
سیکرٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (IPC) محی الدین احمد وانی کو ایڈہاک صدر کی ذمہ داری ملنا اور کپتان عماد بٹ پر سے پابندی کا خاتمہ ایک مثبت شروعات ہے، مگر اصل چیلنج اس بوسیدہ ڈھانچے کی مستقل سرجری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری قائم کر کے ہاکی کو معاشی طور پر مستکم کیا جائے اور روٹ لیول یعنی اسکولوں اور کلبوں کی سطح پر اس کھیل کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ جب تک نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی پرورش اور شفاف انتخابات کے ذریعے ایک دیانتدار قیادت سامنے نہیں آتی، تب تک عالمی سطح پر سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم "مالِ مفت، دلِ بے رحم” کی پالیسی ترک کریں اور اپنے قومی کھیل کو ان لگڑ بگھوں اور جونکوں سے نجات دلائیں جنہوں نے اسے زوال کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے