بلوچستان میں گرینڈ الائنس کے خلاف ظلم زیادتی گرفتاریاں یا ڈنڈا نہیں بلکہ مکالمہ مسلے کا واحد حل ہے

بلوچستان میں گرینڈ الائنس کے خلاف ظلم زیادتی گرفتاریاں یا ڈنڈا نہیں بلکہ مکالمہ مسلے کا واحد حل ہے

0

بلوچستان میں گرینڈ الائنس کے خلاف ظلم زیادتی گرفتاریاں یا ڈنڈا نہیں بلکہ مکالمہ مسلے کا واحد حل ہے

ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر : میر اسلم رند

بلوچستان ایک بار پھر اپنے ہی ملازمین کے خلاف طاقت کے استعمال کی دردناک مثال بن گیا ہے ایسے اقدامات پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے گرینڈ الائنس کے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج گرفتاریوں اور جبر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت آج بھی مسائل کو سننے کے بجائے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ ڈنڈے اور سختی سے نہ پہلے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو گا الٹا ایسے اقدامات مزید اشتعال بداعتمادی اور فاصلے کو جنم دیتے ہیں آج پورے بلوچستان سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتجاج کرنے والے کوئی دشمن یا ریاست مخالف عناصر نہیں بلکہ یہی اس صوبے کے سرکاری ملازمین ہیں جو اپنی جائز تنخواہوں مراعات اور حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہی سہولیات مانگ رہے ہیں جو ملک کے دیگر تین صوبوں میں ملازمین کو دی جا رہی ہیں اگر پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا کے ملازمین ان مراعات کے حق دار ہیں تو بلوچستان کے ملازمین کیوں نہیں کیا یہ صوبہ پاکستان کا حصہ نہیں کیا یہاں کے ملازمین کم محنت کرتے ہیں حکومتِ بلوچستان بالخصوص جناب وزیرِاعلیٰ صاحب کا یہ موقف کہ آٹھ ارب روپے صرف تنخواہوں اور اخراجات میں خرچ ہوتے ہیں وزن نہیں رکھتا اصل سوال ترجیحات کا ہے جب سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سیکیورٹی پر خرچ کیے جا سکتے ہیں جس میں پولیس کی تنخواہیں مراحات اور دیگر تمام ادارے شامل ہیں اور 200 ارب روپے حکمرانوں کے پروٹوکول مراعات اور شاہانہ اخراجات پر لگ سکتے ہیں تو پھر ملازمین کے جائز مطالبات کے لیے وسائل کیوں دستیاب نہیں اگر حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے غیر ضروری پروٹوکول کلچر کو محدود کرے اور بلوچستان کے سورس آف انکم بڑھانے پر سنجیدگی سے کام کرے تو ملازمین کے مسائل نہ صرف حل ہو سکتے ہیں بلکہ صوبے میں اعتماد کی فضا بھی بحال ہو سکتی ہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ حکومت طاقت اور جبر کے بجائے مکالمے کا راستہ اپنائے آج سب سے اہم اور فوری مطالبہ یہ ہے کہ تمام گرفتار ملازمین کو بلا تاخیر رہا کیا جائےگرفتاریاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ گرینڈ الائنس کے نمائندوں سے فوری اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے ان کے مطالبات کو سنے اور قابلِ عمل حل پیش کرے اور ان کے ساتھ پہلے جو مزاکرات کئے گئے ہیں اور ان میں جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو پورا کیا جائے بلوچستانی عوام پہلے ہی احساسِ محرومی پسماندگی اور نظراندازی کا شکار ہے ایسے میں اپنے ہی ملازمین پر ظلم اس احساس کو مزید گہرا کرے گا حکومت اگر واقعی صوبے میں امن استحکام اور ترقی چاہتی ہے تو اسے یہ ماننا ہو گا کہ ڈنڈا ماری نہیں بلکے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں طاقت کا استعمال بند کیا جائے مکالمے کا دروازہ کھولا جائے اور ملازمین کو وہ حق دیا جائے جو ان کا آئینی اور اخلاقی حق ہے یہی ریاست کی دانشمندی اور عوام دوستی کی اصل پہچان ہے

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.