کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ سب سے بڑا المیہ ہے۔ ایک ایسا شہر جو ملک کو چلاتا ہے مگر خود رینگ رہا ہے۔ ایک ایسا شہر جو اربوں روپے ٹیکس دیتا ہے مگر بدلے میں لاشیں وصول کرتا ہے کراچی جل رہا ہے اور یہ جلنا کسی ایک دن یا ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر پھیلی ہوئی بے حسی، نااہلی، لوٹ مار اور مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ہے حالیہ دنوں میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کراچی میں مرنا حادثہ نہیں معمول بن چکا ہے۔
گل پلازہ کی آگ محض ایک عمارت میں لگی آگ نہیں تھی یہ اس پورے نظام پر لگی آگ تھی جو کراچی کے شہریوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ لوگ چیختے رہے، مدد مانگتے رہے کھڑکیوں سے کودنے پر مجبور ہوئے مگر فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی وہ بھی ناکافی وسائل کے ساتھ۔ نہ بلند عمارتوں تک پہنچنے والی گاڑیاں، نہ جدید آلات، نہ مناسب پانی، نہ مکمل حفاظتی لباس۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی سوال یہ ہے کہ جب آگ لگی تو ریاست کہاں تھی؟
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بولٹن مارکیٹ، صدر، لیاری، کورنگی، لانڈھی، اورنگی، نیو کراچی ہر جگہ آگ کے واقعات کراچی کی تاریخ بن چکے ہیں۔ ہر بار چند لاشیں، چند بیانات، چند انکوائریاں، اور پھر خاموشی۔ کوئی نظام درست نہیں ہوتا، کوئی ذمہ دار سزا نہیں پاتا۔ کراچی کے شہریوں کی جان شاید اس ریاست کے لیے سب سے سستی شے بن چکی ہے۔
کراچی کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ اس کا مفلوج، بے اختیار اور کرپٹ بلدیاتی نظام ہے۔ ایک ایسا نظام جو صرف فائلوں میں موجود ہے۔ میئر ہو یا ٹاؤن چیئرمین سب اختیارات سے محروم۔ صوبائی حکومت نے جان بوجھ کر کراچی کو بااختیار نہیں ہونے دیا کیونکہ بااختیار کراچی ان کے سیاسی مفادات کے لیے خطرہ ہے۔ صفائی، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ اور ایمرجنسی سروسز ہر شعبہ زبوں حالی کی تصویر ہے۔
فائر بریگیڈ کی حالت تو اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔ پورے کراچی میں فائر اسٹیشنز کی تعداد تیس کے قریب ہے اور گاڑیاں چھتیس کے لگ بھگ۔ ان میں سے بھی کئی خراب، کئی بغیر پانی اور کئی بغیر ضروری آلات کے ہیں ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے یہ تعداد کسی مذاق سے کم نہیں ہے یہ لاپرواہی نہیں بلکہ یہ قتلِ غفلت ہے۔
اب ذرا دنیا سے موازنہ کر لیجیے۔ نیویارک جیسے شہر میں جہاں آبادی تقریباً نوے لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے، فائر بریگیڈ کا نظام ایک مثال ہے۔ سینکڑوں فائر اسٹیشنز، ہزاروں فائر فائٹرز، جدید ترین گاڑیاں، چند منٹوں میں رسپانس، بلند عمارتوں کے لیے خصوصی نظام، مکمل تربیت اور سخت قوانین ہیں۔ وہاں آگ لگنا ایک ایمرجنسی ہے یہاں آگ لگنا ایک معمول ہے۔ فرق وسائل کا نہیں نیت اور ترجیحات کا ہے۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟
کس کو سزا دوں؟ صوبائی حکومت کو جس نے کراچی کو یرغمال بنایا؟
وفاق کو جس نے کراچی کو صرف ٹیکس مشین سمجھا؟
بلدیاتی اداروں کو جو کاغذی شیر ہیں؟
یا اس پورے نظام کو جو شہریوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے؟
اور پھر ایک تلخ سوال خود سے بھی ہم کیسے لوگ ہیں جو ہر سانحے کے بعد چند دن شور مچا کر پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں؟
سیاسی جماعتوں کا کردار اس بربادی میں ناقابلِ معافی ہے۔ ایم کیو ایم نے برسوں کراچی پر حکمرانی کی، مگر شہر کو لسانی نفرت، خوف، بھتہ خوری اور تصادم کے سوا کچھ نہ دیا۔ کراچی کو سیاسی جنگ کا میدان بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی نے سندھ پر طویل حکومت کی مگر کراچی کو دانستہ طور پر کمزور رکھا۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے گئے تاکہ شہر خود فیصلے نہ کر سکے۔ وفاقی حکومتیں بدلتی رہیں مگر کراچی ہمیشہ نظرانداز ہوتا رہا۔
اسٹیبلشمنٹ نے بھی کراچی کو کبھی سیاسی تجربہ گاہ، کبھی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ کبھی ایک جماعت کو ابھارا کبھی دوسری کو توڑا جنہوں نے کرپشن کی انہیں کراچی کا بے تاج بادشاہ بنا دیں مگر شہر کے بنیادی مسائل امن و امان،پانی، ٹرانسپورٹ، سیفٹی، فائر بریگیڈ کبھی ترجیح نہیں بنے۔ کراچی کو ہمیشہ ایک مسئلہ سمجھا گیا ایک ذمہ داری نہیں۔
بلڈر مافیا اس تباہی کا ایک اور بڑا مجرم ہے۔ بغیر اجازت بغیر فائر سیفٹی، بغیر پارکنگ، بغیر ایمرجنسی ایگزٹ، پلازے کھڑے کر دیے گئے۔ این او سی رشوت پر ملتے رہے، ادارے آنکھیں بند کرتے رہے۔ جب آگ لگتی ہے تو بلڈر غائب، ادارے خاموش اور شہری لاشوں میں بدل جاتے ہیں۔
اور ہاں، ہم شہری بھی مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔ ہم نے غیر قانونی تعمیرات کو قبول کیا، سیفٹی قوانین کو غیر ضروری سمجھا رشوت کو معمول بنایا اور اجتماعی آواز اٹھانے کے بجائے انفرادی فائدے کو ترجیح دی۔ ہم نے ہر ظلم کو یہ کہہ کر برداشت کیا کہ سب یہی کر رہے ہیں آج اسی سوچ کی قیمت ہم جانوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
گل پلازہ کی آگ ایک آئینہ ہے یہ ہمیں بتا رہی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے نظام نہیں بدلا تو کل یہ آگ کسی اور پلازہ میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے گھروں میں لگے گی۔ کراچی کو اب نعروں، وعدوں اور کمیٹیوں کی نہیں فیصلوں کی ضرورت ہے۔ مکمل بااختیار بلدیاتی نظام، جدید فائر بریگیڈ، سخت عمارت قوانین، شفاف احتساب اور سیاسی مداخلت سے پاک شہری نظم و نسق کے بغیر یہ شہر نہیں بچے گا۔
ورنہ سچ یہی ہے کہ کراچی یونہی جلتا رہے گا لاشیں گرتی رہیں گی اور ہم ہر سانحے کے بعد یہی سوال دہراتے رہیں گے
یہ کیا ہے؟
کس کو سزا دوں؟
اور ہم آخر کیسے لوگ ہیں جو ان حکمرانوں کے دم بھرتے ہیں اور انکے نعروں اور دعووں کے بہکاوے میں آتے ہیں یہ نظام تب بدلے گا جب ہم بدلیں گے کراچی امن ترقی کا گہوارہ پھر بنے گا؟
Prev Post