سانحوں کے شور میں قانون سازی کی خاموش واردات

تحریر: آصف اقبال

0

17 جنوری کا سانحہ، سانہ گل پلازہ ملبے تلے دبی لاشیں، لاپتا افراد کی تلاش، شناخت کا نہ ختم ہونے والا عمل، اور وہ چیخیں جو پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ ماں باپ اپنے بچوں کی تصویر ہاتھ میں لیے در بدر، بیوائیں سڑکوں پر، اور ریاست حسبِ معمول بے حس۔ ابھی یہ شور تھما بھی نہ تھا کہ محض چار دن بعد، 21 جنوری کو، ایک اور کام خاموشی سے نمٹا دیا گیا قومی اسمبلی میں الیکشن ترمیمی بل 2026 کی منظوری۔
یہ محض ایک ترمیم نہیں، یہ شفافیت پر کاری ضرب ہے۔
الیکشن ایکٹ کی دفعہ 137 واضح طور پر کہتی ہے کہ ہر رکنِ پارلیمنٹ پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اپنے شریکِ حیات اور بچوں کے تمام اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ اور دفعہ 138 الیکشن کمیشن کو پابند کرتی ہے کہ وہ یہ تمام تفصیلات سرکاری گزٹ میں شائع کرے تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کے نمائندوں کے پاس کیا ہے اور کہاں سے آیا۔
یہی شفافیت حکمران اشرافیہ کو کانٹے کی طرح چبھتی رہی۔
چنانچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے باہمی اتفاقِ رائے سے دفعہ 138 ہی بدل ڈالی۔ نئی ترمیم کے تحت اگر کوئی ایم این اے یا سینیٹر تحریری درخواست دے کہ اثاثے ظاہر ہونے سے اس یا اس کے خاندان کی سیکیورٹی کو خطرہ ہے، تو قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اسپیکر ایک سال کے لیے الیکشن کمیشن کو وہ تفصیلات شائع کرنے سے روک سکتا ہے۔
کاغذوں میں اثاثے جمع ہوں گے، مگر عوام کی نظروں سے اوجھل۔
سوال یہ ہے کہ یہ ایک سال کیا واقعی ایک سال ہوتا ہے؟
کیا ایک سال میں سیکیورٹی تھریٹ ختم ہو جاتا ہے؟
یا پھر ہر سال ایک نئی درخواست، ایک نیا جواز، اور یوں شفافیت ہمیشہ کے لیے دفن؟
ہم سب جانتے ہیں کہ لوپ ہول نکالنے میں ہمارے پارلیمنٹیرین ماہر ہیں۔ اگر قانون میں ایک سال لکھ دیا جائے تو عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ “بس ایک سال کی بات ہے”، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا چکر بنے گا۔
کسی اور ملک میں شاید یہ دلیل مان لی جاتی کہ کسی ایک نمائندے کو واقعی سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بیشتر سیاستدان اپنی درخواستیں قطار میں لگا دیں گے۔ ویسے بھی پولیس اور ریاستی وسائل عوام کی حفاظت کے بجائے انہی کے پروٹوکول میں مصروف رہتے ہیں۔
اگر اتنا ہی خوف ہے تو سیاست چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟
یہ ملک تو کروڑوں عام شہری بغیر پروٹوکول، بغیر بلٹ پروف گاڑیوں، بغیر گارڈز کے جی رہے ہیں۔
اصل مسئلہ سیکیورٹی نہیں، دولت ہے۔
اصل خوف یہ نہیں کہ جان کو خطرہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ عوام کو پتہ نہ چل جائے کہ ایم این اے یا ایم پی اے بننے سے پہلے اور بعد میں دولت میں کتنا اضافہ ہوا۔
ہم سے سیکیورٹی کے نام پر بجلی کے بل، ٹیکس ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز، موبائل ڈیٹا، حتیٰ کہ کپڑوں کا سائز تک مانگا جاتا ہے۔
تو پھر ہمارا یہ آئینی حق کیوں نہیں کہ ہم جان سکیں کہ جن لوگوں کو ہم نے اپنا نمائندہ بنایا، جو ہمارے ٹیکس کے پیسے خرچ کرتے ہیں، جن کی تنخواہیں ہمارے پیسوں سے دی جاتی ہیں ان کے پاس کیا ہے؟
یہ لوگ خود ایک دوسرے کا احتساب نہیں کریں گے۔
یہ کام صرف عوام کو کرنا ہوگا۔
مزید دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف حکومت پر زور دے رہا ہے کہ بیوروکریٹس کے اثاثے عوام کے سامنے لائے جائیں، اور دوسری طرف حکمران طبقہ اپنے اثاثے خفیہ کرنے کے لیے قانون سازی کر رہا ہے۔
یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟
اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو آہستہ آہستہ یہ اشرافیہ خود کو مکمل طور پر احتساب سے آزاد کر لے گی۔ آج ہم گل پلازہ جیسے سانحوں پر شور مچا سکتے ہیں، مگر کل اگر یہ حکمران طبقہ قانوناً خود کو جوابدہی سے بری کر چکا ہوگا تو پھر ہمارے پاس چیخنے کے سوا کیا بچے گا؟
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔
یہ وقت سوال اٹھانے کا ہے۔
کیونکہ شفافیت کے بغیر جمہوریت صرف ایک فریب ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.