Gas Leakage Web ad 1

​جب گناہ دلیل مانگنے لگے

​تحریر: محمد آصف آصی

0

​​آپ تاریخ کی کسی بھی قدیم لائبریری میں چلے جائیں، آپ یونان کے کھنڈرات دیکھ لیں یا روم کی عظمت کے قصے پڑھیں، آپ کو انسانی زوال کے پیچھے ہمیشہ ایک ہی پیٹرن نظر آئے گا۔ قومیں اس وقت کبھی تباہ نہیں ہوئیں جب ان کے پاس اناج ختم ہو گیا تھا، قومیں اس وقت مٹیں جب ان کے پاس "صحیح اور غلط” کی تمیز ختم ہوگئی۔ جب برائی اتنی طاقتور ہوگئی کہ اس نے معاشرے کے دانشوروں، شاعروں اور عام لوگوں سے اپنی "وکالت” کروانا شروع کر دی، اور آج ہم بعینہٖ اسی مقام پر کھڑے ہیں۔
​ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گناہ اب چور دروازے سے، نقاب پہن کر یا شرمندگی کے بوجھ تلے دب کر نہیں آتا۔ وہ اب پورے طنطنے کے ساتھ آتا ہے، وہ دلیل کے ساتھ آتا ہے، وہ فلسفے کی کتابیں بغل میں دبا کر آتا ہے، وہ میڈیا کے کیمروں کے سامنے وضاحت کے ساتھ آتا ہے، اور سب سے زیادہ خطرناک اور لرزہ خیز بات یہ ہے کہ وہ اب خود کو "مظلوم” ثابت کر کے آتا ہے۔ وہ گناہ جو کبھی چھپ کر کیا جاتا تھا اور جس پر برسوں ندامت کے آنسو بہائے جاتے تھے، آج وہ گناہ سوشل میڈیا کی دیواروں پر "انصاف” اور "حق” بن کر رقص کر رہا ہے۔
​حال ہی میں ڈیجیٹل دنیا کے تلاطم خیز سمندر میں ایک واقعہ زیرِ بحث آیا۔ اس واقعے میں نہ تو کوئی عالمی شہرت یافتہ لیڈر تھا، نہ کوئی فکری قد رکھنے والا فلسفی، نہ کوئی بڑا سماجی ستون اور نہ ہی کوئی آسمانی مخلوق— ایک عام سا نام تھا، ایک عام سا انسانی کردار تھا۔ لیکن اس ایک واقعے نے پورے ملک کے اخلاقی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بحث ایسی چھڑی کہ جیسے قوم کے اخلاقی ستون لرز گئے ہوں۔ لیکن میاں! یہاں اصل مسئلہ وہ فرد نہیں تھا، نہ وہ عورت تھی اور نہ وہ مرد۔ اصل مسئلہ وہ "بیانیہ” (Narrative) تھا جو اس واقعے کے بطن سے برآمد ہوا۔ وہ سوچ جو اس گناہ کی ڈھال بن کر سامنے آئی۔
​وہ سوچ جو بڑی معصومیت، بڑے درد اور بڑی ہمدردی کے ساتھ کہتی ہے: "صاحب! آخر وہ کرتی بھی کیا؟ مجبوری تھی!”۔
ایک طبقہ پکارتا ہے: "جناب! یہ گناہ نہیں، یہ تو محبت کی انتہا تھی!”۔
کوئی فلسفیانہ پوز بنا کر کہتا ہے: "نکاح تو نیت میں تھا، بس حالات نے دستخط کرنے کی مہلت نہ دی، قصور حالات کا ہے، اس بیچاری کا نہیں”۔
​یہی وہ مقام ہے جہاں ایک زندہ معاشرہ اپنے سب سے بڑے امتحان میں پڑ جاتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کائنات کسی منطق پر نہیں، اپنے خالق کے احکامات پر چلتی ہے۔ اسلام نے زنا کو صرف "حرام” نہیں کہا، اللہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا: "اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ”۔ غور کیجیے! اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو، بلکہ فرمایا "قریب بھی نہ جاؤ”۔ یعنی وہ تمام راستے، وہ تمام بہانے، وہ تمام خلوتیں اور وہ تمام دلائل جو اس گندگی کی طرف لے جاتے ہوں، ان سب پر پہرہ لگا دیا گیا۔
​یہ الہامی حکم کسی شرط (If and But) کے ساتھ نہیں آیا تھا۔ اس میں کہیں یہ نہیں لکھا تھا کہ اگر تم غریب ہو تو گنجائش ہے، اگر تمہارے ازدواجی مسائل ہیں تو رعایت ہے، اگر تمہیں سچی محبت ہو گئی ہے تو یہ حرام حلال میں بدل جائے گا۔ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ کائنات کا خالق جانتا تھا کہ اگر ایک بار "حالات” کو گناہ کا لائسنس بنا دیا گیا، تو پھر اس دنیا میں کوئی ایک گناہ بھی گناہ نہیں رہے گا۔ پھر ہر چور اپنی بھوک کی کہانی سنائے گا، ہر قاتل اپنے غصے کا جواز لائے گا، اور ہر دھوکے باز اپنی ضرورت کا رونا روئے گا۔
​آج کل ایک بہت بڑی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ "وہ عورت مظلوم تھی”۔ چلیے، میں ایک لمحے کے لیے آپ کی بات سر آنکھوں پر رکھتا ہوں، مان لیا کہ وہ مظلوم تھی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے: کیا "مظلومیت” گناہ کا پاسپورٹ ہے؟ کیا اگر آپ پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ کو یہ حق مل جاتا ہے کہ آپ عرش والے کے حدود کو پامال کر دیں؟ اسلام عورت کو ظلم کے سامنے بے بس دیکھنا پسند نہیں کرتا، اسی لیے اس عظیم دین نے "اصلاح” کا دروازہ کھولا، خاندان کی مداخلت کا راستہ دیا، اور اگر بات حد سے گزر جائے تو خلع اور طلاق جیسے باعزت اور قانونی حل عطا کیے۔ لیکن یاد رکھیے! اسلام نے کسی "تیسرے مرد” کی آغوش کو حل نہیں بتایا۔
​کسی غیر مرد کے ساتھ تعلق، چاہے وہ کتنی ہی ہمدردی کے لبادے میں ہو، نہ انصاف ہے، نہ یہ آزادی ہے، اور نہ ہی یہ کوئی سماجی بغاوت ہے۔ یہ محض ایک "گناہ” ہے جسے ہمدردی کے میٹھے لفظوں کے سیرپ میں چھپا کر معاشرے کو پلایا جا رہا ہے۔
​اس پورے معاملے کا ایک اور لرزہ خیز پہلو دیکھیں؛ آج کل "مردانگی” کا معیار بدل گیا ہے۔ لوگ "لمس” کو مردانگی کہہ رہے ہیں۔ معذرت کے ساتھ، یہ مردانگی نہیں ہے، یہ خالص حیوانی جبلت ہے۔ جانور بھی اپنی جبلت کے تابع ہوتا ہے، لیکن انسان کو انسان اس کا "ضبط” بناتا ہے۔ مردانگی تو اپنی خواہش کی گردن مروڑ دینے کا نام ہے۔ مردانگی ذمہ داری ہے، مردانگی وفاداری ہے، مردانگی اس غیرت کا نام ہے جو طوفان میں بھی اپنے کردار کے چراغ کو بجھنے نہیں دیتی۔ اگر صرف جسمانی تعلق اور لمس ہی سب کچھ ہوتا، تو پھر نکاح کے اس مقدس میثاق کی ضرورت کیا تھی؟ پھر کیوں صدیوں سے مائیں اپنی لوریوں میں وفا کے سبق پڑھاتی رہیں؟ پھر خاندان کا ادارہ کیوں بنایا گیا؟
​لوگ کہتے ہیں: "وہ گناہ نہیں چاہتی تھی، وہ تو نکاح چاہتی تھی”۔ یہ جملہ سن کر دل بھر آتا ہے، ہمدردی کی لہر دوڑ جاتی ہے، لیکن میاں! ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو، کیا یہ خود ایک تضاد نہیں؟ اگر منزل نکاح تھی تو راستہ حرام کیوں چنا گیا؟ اسلام میں ترتیب پتھر پر لکیر ہے: پہلے نکاح، پھر تعلق۔ پہلے تعلق اور پھر نکاح کا مطالبہ کرنا دین نہیں، یہ "نفس کی عیاری” ہے۔ یہ گناہ کو جائز کروانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
​ایک اور بڑی "دلیل” جو آج کل فیشن بن چکی ہے، وہ ہے "غربت اور محرومی”۔ کہا جاتا ہے کہ غربت انسان سے کچھ بھی کروا لیتی ہے۔ یاد رکھیے! تاریخِ اسلام میں ایسے دور بھی گزرے جب لوگوں نے پیٹ پر پتھر باندھے، لیکن اپنی حیا پر آنچ نہیں آنے دی۔ نبی کریم ﷺ نے جب اپنی امت کے نوجوانوں کو معاشی طور پر کمزور دیکھا، تو آپ ﷺ نے انہیں یہ نہیں کہا کہ "حالات خراب ہیں تو تم حدود توڑ دو”، بلکہ آپ ﷺ نے انہیں "صبر اور روزے” کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے ضبطِ نفس کو ڈھال بنایا۔ اگر آج ہم نے غربت کو بدکاری کا جواز مان لیا، تو ہم ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں طاقتور کی ہر ہوس اور کمزور کا ہر گناہ "جائز” کہلائے گا۔
​اصل مسئلہ "روٹی” کا نہیں ہے، اصل مسئلہ وہ "بیانیہ” ہے جو اس بدکاری کو "ہیرو” بنا کر پیش کر رہا ہے۔ ہیرو وہ نہیں ہوتا جو حالات کے بہاؤ میں بہہ جائے، ہیرو وہ ہوتا ہے جو وقت کے فرعونوں اور اپنی نفسانی خواہشوں کے سامنے کلمہ حق کہے اور ڈٹ جائے۔
​معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے: "صاحب! پورا معاشرہ ہی ننگا ہو چکا ہے، آپ کس کس کو روکیں گے؟”۔ یہ جملہ اصل میں اپنی ذمہ داری سے فرار ہے۔ معاشرہ کبھی ننگا نہیں ہوتا، انسان کا ضمیر ننگا ہوتا ہے۔ ننگا وہ نہیں ہے جس سے گناہ سرزد ہو گیا اور وہ راتوں کو اٹھ کر اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتا ہے، ننگا تو وہ ہے جو گناہ کرنے کے بعد سینہ تان کر کھڑا ہو جائے اور کہے کہ "ہاں! میں نے یہ کیا اور میں ٹھیک ہوں”۔ سب سے ننگی وہ سوچ ہے جو حرام کو "جدت” (Modernism) اور حیا کو "دقیانوسیت” قرار دے دے۔
​میں آج آپ کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کون سا ورثہ چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں گے کہ "بیٹا! اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو، اگر تمہارے حالات خراب ہوں، تو تم کوئی بھی گناہ کر لینا، معاشرہ تمہیں مظلوم کہہ کر گلے لگا لے گا”؟ یا ہم انہیں یہ بتائیں گے کہ "بیٹا! زندگی رہے نہ رہے، تمہارا کردار نہیں گرنا چاہیے”؟
​یاد رکھیے! اگر آج ہم نے گناہ کو "دلیل” بننے سے نہ روکا، اگر آج ہم نے برائی کو برائی کہنا چھوڑ دیا، تو کل ہمارے گھروں میں ہر غلط کام کے لیے ایک خوبصورت اسکرپٹ تیار ہوگا۔ ہر بیٹا اور ہر بیٹی اپنے ہاتھ میں ایک کہانی لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم خاموش تماشائی بنے صرف یہ کہتے رہ جائیں گے کہ "زمانہ بہت خراب ہو گیا ہے”۔
​سچ تو یہ ہے کہ زمانہ کبھی خراب نہیں ہوتا، زمانے کے لوگ خراب ہوتے ہیں۔ ستارے اپنی جگہ پر ہیں، سورج اپنے وقت پر نکلتا ہے، زمین اپنے مدار میں گھومتی ہے— بدلا ہے تو صرف "انسان”۔ بدلی ہے تو انسان کی "ترجیح”۔ بدلی ہے تو انسان کی "غیرت”۔
​ہمیں آج اپنی صفوں کو درست کرنا ہوگا۔ ہمیں گناہ کو گناہ کہنا ہوگا۔ ہمیں ہمدردی اور اصول کے درمیان کی لکیر کو واضح کرنا ہوگا۔ ہمیں بتانا ہوگا کہ مظلومیت اپنی جگہ، لیکن اللہ کی حدود اپنی جگہ۔ ہمیں یہ باور کرانا ہوگا کہ "نکاح” صرف ایک قانونی کاغذ نہیں، ایک روحانی عہد ہے جس کی حرمت پر کائنات کا نظام قائم ہے۔
​آئیے! آج سے ہم عہد کریں کہ ہم "دلیل والے گناہ” کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم برائی کو برائی ہی کہیں گے، چاہے وہ کتنے ہی ریشمی لبادے میں کیوں نہ لپٹی ہو۔ کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.