جنریشن کی تقسیم کا آغاز اور ہیومن سائیکالوجی ؟؟؟

تحریر: نوشابہ یعقوب راجہ

0

یہ جنریشن کی تقسیم کے آغاز اور ہیومن سائیکالوجی کی معلومات اور تفصیلات ہمیں جاننی چاہیں ۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ جہاں اپنے پیسے ،اسٹیٹس ،اور دکھاوے اور دوسروں کو نیچا دکھانے میں مشغول ہے۔ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر مدد کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مشغول ہے اور دنیا میں مرد و عورت کے ذہنی معیار اور قابلیت پر تحقیق کی جاتی ہے وہاں بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ مرد و عورت کے جھوٹے افیرز اور کردار کشی میں مشغول اور اس طرح کے سطحی موضوعات اور ذاتی حملوں میں مشغول ہے جبکہ انسانوں پر ان کی شخصیات پر فی زمانہ تحقیق کی جارہی ہے ۔دنیا دماغ کا استعمال تحقیقات میں لگاتی ہے اور ہمارا معاشرہ ذاتیات میں تو نتیجہ زمانے اور ہمارے معاشرے درمیان بہت بڑا خلاء ہے۔اس خلاء کو پر کرنے کے لیے علم،تحقیق،جستجو،محنت،حقیقت پسندی اور جدید مثبت تبدیلیوں کو اپنانا بے حد ضروری ہےاس کے بغیر معاشرتی ترقی ناگزیر ہے۔

اب اس موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جنریشنز کی تقسیم کیسے کی گئی ہے؟؟؟

جنریشنز (Generations) کوئی فطری یا الٰہی تقسیم نہیں بلکہ سماجی و تاریخی تجزیہ ہے جو ماہرینِ سماجیات، مؤرخین اور مارکیٹنگ ریسرچرز نے بنایا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ مختلف ادوار میں پیدا ہونے والے لوگ کن حالات میں بڑے ہوئے اور اُن کی سوچ کیوں مختلف ہے۔میں اسے کب، کیوں اور کیسے تین حصوں میں واضح کرتی ہوں:
جنریشن کی تقسیم کا آغاز کب ہوا؟
باقاعدہ طور پر 1940–1950 کے بعد
خاص طور پر دوسری جنگِ عظیم (1939–1945) کے بعد

وجہ:

جنگ کے بعد دنیا میں:
آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا
معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست تیزی سے بدلی
لوگوں کے طرزِ زندگی میں واضح فرق آیا
ماہرین نے محسوس کیا کہ:
"جنگ سے پہلے پیدا ہونے والے لوگ اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والے لوگ ایک جیسے نہیں سوچتے”
اسی سے Generation Theory
کی بنیاد پڑی۔

جنریشنز کیسے ڈیفائن کی گئیں؟

جنریشنز کو تین بڑے عوامل سے ڈیفائن کیا گیا
میں ( بچپن اور جوانی میں بڑے واقعات
جنگیں
معاشی بحران
وبائیں
ٹیکنالوجی کی انقلابات
جو چیز آپ کے بچپن/نوجوانی میں ہوتی ہے، وہ پوری زندگی آپ کی سوچ پر اثر ڈالتی ہے۔

ٹیکنالوجی اور میڈیا
ریڈیو
ٹی وی
انٹرنیٹ
اسمارٹ فونز
سوشل میڈیا
مثال:

جو بچپن میں انٹرنیٹ کے بغیر بڑے ہوئے ≠ جو موبائل کے ساتھ بڑے ہوئے

سماجی اقدار
خاندان کا نظام
تعلیم
مذہب
عورت و مرد کے کردار
آزادیِ اظہار

اہم جنریشنز اور ان کی تاریخ

The Silent Generation
پیدائش: 1928–1945
جنگ، غربت، نظم و ضبط
کم بولنے والے، زیادہ برداشت کرنے والے

Baby Boomers
پیدائش: 1946–1964

جنگ کے بعد آبادی کا دھماکہ
نوکری، استحکام، محنت
اتھارٹی پر یقین

Generation X
پیدائش: 1965–1980

سرد جنگ، معاشی دباؤ
خودمختار، حقیقت پسند
سسٹم پر کم بھروسا

Millennials (Gen Y)
پیدائش: 1981–1996

انٹرنیٹ کی آمد
تعلیم اور مقصدیت
Work–Life Balance

Generation Z
پیدائش: 1997–2012

اسمارٹ فون، سوشل میڈیا
تیز رفتار معلومات
شناخت (Identity) پر زور

Generation Alpha
پیدائش: 2013 کے بعد

AI، ٹچ اسکرین، وائس اسسٹنٹس
ابھی زیرِ مطالعہ جنریشن
کیا یہ تقسیم سائنسی ہے؟
جزوی طور پر
بطور تجزیہ مفید
قطعی قانون نہیں
یعنی
ہر فرد اپنی جنریشن جیسا نہیں ہوتا
ثقافت، ملک، مذہب بہت فرق ڈال دیتے ہیں
یہ تقسیم کیوں مشہور ہوئی؟
خاص طور پر:
مارکیٹنگ
سیاست
تعلیم
HR (نوکریاں)
کمپنیوں کو سمجھنا ہوتا ہے:
"کس عمر کے لوگ کیا چاہتے ہیں؟”

اگر آپ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو آپ کو مکی اور مدنی زندگی کی تاریخ ،مسائل، احکامات الٰہی کی مختلف تقسیم نظر آئے گی ۔

جنریشن کی تقسیم کی معلومات بتاتی ہے کہ اقوام کی سوچ جنگ اور جنگ کے بعد ذہنی ،معاشی ،معاشرتی دباؤ حالات ،تبدیلیوں کی وجہ بہت برے طریقے سے متاثر ہوتے ہیں۔اور ان مسائل کے حل کے انداز اور اس کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔
اس کے بعد بہتری کی طرف جاتے ہوئے حالات آنے والے لوگوں کے ذہنوں پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔
اور اس طرح وقت بدلنے کیساتھ سائنس ،ٹیکنالوجی ،علم،تحقیق انسان کی قابلیت اور مقام میں اضافہ کرتی ہے۔
یہ صرف انسانی اختراع نہیں ہے بلکہ یہ انسانی نفسیات اور عین دینی نظریہ بھی ہے ۔لیکن اسلامی نظریہ کے مطابق علم کی بنیاد اور محور اللہ ہےجو علم انسان کو اللہ سے نہیں ملاتا وہ جہالت ہے۔
اسلام میں تعلیم کا حصول مرد و عورت پر فرض ہے اور یہ انسانوں کا بنیادی حق ہے اور یہ علم ہی تھا اور اسں کی بدولت انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب پر بٹھایا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو علم سکھایا گیا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا ابلیس سجدہ نہ کرنے تکبر کرنے پر جنت سے نکالا گیا اور مردود قرار دیا گیا۔اب اس نفسیات کے مطابق جو شخص علم کی افادیت کو نہ سمجھے اور اس اہمیت سے انکار کرے کہ اللہ کے نائب کو جدید علوم نہیں سیکھنے چاہیں اور اپنے بنیادی حقوق نہیں جاننے چاہیں اور اپنے جائز حقوق ،عدل و انصاف اور میرٹ کی بات نہیں کرنی چاہئے اور اپنی آنا ،تکبر کی ضد میں اگر وہ اللہ کے خلیفہ کو کمتر سمجھے اور اسے عزت نہ دے تو ابلیس کو جب جنت سے بے دخل کیا گیا تو اس نے اللہ سے قیامت تک مہلت مانگی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی اجازت بھی مانگی اور اللہ نے کہا کہ میرے بندے تیرے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور جو تیرے راستے چلے گا اس کا انجام بھی تیرے ساتھ ہو گا ۔
اسلام تعلیم کے حصول کو انسان کا بنیادی حق قرار دیتا ہے
علم کے حصول کے لیے دور دور کے سفر کرنے کی اجازت ہے۔اور اسلامی سائیکالوجی کہتی ہے
علم رکھنے والے اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔
نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے
تباہی ہو گیا وہ شخص جس کا آج اس کے کل سے بہتر نہیں ہے۔
اس لیے انسانی زندگی میں بدلاؤ ،ترقی اور انقلاب ضروری ہے ۔
جتنا دماغ علم سے اور دل خوف الہٰی سے بھرا رہے گا زندگی اور آخرت گل و گلزار رہے گی
علامہ اقبالنے فرمایا تھا
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
حاصل مضمون ہے دل وڈا کجیے ،دماغ کی کھڑکیاں کھولیے اور حقیقت کو گلے لگائیں اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھیں۔

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ
اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھُپا دیکھ
ایّامِ جُدائی کے سِتم دیکھ، جفا دیکھ
بے تاب نہ ہو معرکۂ بِیم و رجا دیکھ!

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے
دیکھیں گے تجھے دُور سے گردُوں کے ستارے
ناپید ترے بحرِ تخیّل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے
تعمیرِ خودی کر، اَثرِ آہِ رسا دیکھ
کالم نویس/ریزیڈنٹ ایڈیٹر سویرا نیوز یورپ//ایگزیکٹو ممبر PPCUK. Midlands Chapter

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.