خواتین اور AI چیٹ بوٹس , سننے والا دوست جو کبھی ناراض نہیں ہوتا

0

نیا تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ آج ChatGPT، Replika اور دیگر AI چیٹ بوٹس نہ صرف تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں مددگار ہیں بلکہ انسانی گفتگو کا نیا انداز بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد ان چیٹ بوٹس کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہی ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں AI چیٹ سروسز سے زیادہ کھل کر بات کرتی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انہیں ان پلیٹ فارمز پر اعتماد اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ یہاں کوئی ان کا مذاق نہیں اڑائے گا، نہ ان پر تنقید کرے گا۔ اس طرح مصنوعی ذہانت ان کے لیے ایک پُرسکون سامع بن جاتی ہے جو ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین نہ صرف ذاتی بلکہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ مقاصد کے لیے بھی ChatGPT جیسے ٹولز استعمال کر رہی ہیں۔ بہت سی طالبات ریسرچ، پریزنٹیشن اور زبان سیکھنے میں ان ایپس سے مدد لیتی ہیں۔ دوسری جانب مرد صارفین عام طور پر تکنیکی معلومات یا کاروباری منصوبوں کے لیے AI کا سہارا لیتے ہیں۔

Replika نامی ایک معروف چیٹ بوٹ ایپ کے مطابق، اس کے تقریباً 65 فیصد صارفین خواتین ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب محض معلوماتی آلہ نہیں بلکہ احساساتی سہارا (Emotional Support) بھی بن چکی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے ایک نیا سماجی رویہ سامنے آ رہا ہے — جہاں ٹیکنالوجی انسان کی نفسیاتی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کر رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت اب صرف روبوٹ نہیں بلکہ ایک “ڈیجیٹل دوست” کی شکل اختیار کر چکی ہے — خاص طور پر خواتین کے لیے، جو اسے ایک محفوظ، پُراعتماد اور ہمدرد ہم سفر سمجھتی ہیں

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.