معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد اس سال پاکستان کے 78ویں جشن آزادی پاکستان کو بھرپور جوش وجذبہ اور ملی بیداری کے ساتھ منایا جارہا ہے
محمد جاوید ملک
معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد اس سال پاکستان کے 78ویں جشن آزادی پاکستان کو بھرپور جوش وجذبہ اور ملی بیداری کے ساتھ منایا جارہا ہے معرکہ حق
کی فتح عظیم کے باعث عوام الناس میں جشن آزادی پاکستان کی رنگا رنگ تقریبات اس عہد کی تجدید کے ساتھ منائی جارہی ہیں کہ پاک فوج اور عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں جو دشمن کی تمام تر سازشوں اور ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت ہر دم قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔جشن آزادی کے سلسلہ میں میرپور ڈویژن میں بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے جن میں جشن آزادی موٹر سائیکل و کار ریلیاں آزادی شجر کاری،جشن آزادی فیسٹیول،جشن آزادی کشتی ریلی،جشن آزادی آتش بازی،مساجد میں دعائیہ تقریبات،جشن آزادی پرچم کشائی، جشن آزادی کے کیک کاٹنے کی تقریبات، جشن آزادی والی بال و کرکٹ میچز کے علاوہ تعلیمی اداروں میں جشن آزادی پاکستان کے حوالے سے رنگارنگ تقریبات اور تحریک آزادی پاکستان کے حوالے سے سیمینار بھی منعقد کروائے جائیں گے جن میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاک فوج کی طرف سے بھارت کو دندان شکن شکست دینے اور پوری قوم کا پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہونے سمیت دیگر بری،بحری اور فضائیہ کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی۔جشن آزادی کے موقع پر سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر چراغاں اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔14 اگست کی صبح کا آغاز مساجد میں دعائیہ تقریبات سے ہوگا جس میں پاکستان کی سلامتی،ترقی خوشحالی اور وطن عزیز کے مضبوط دفاع،وطن کی سرحدوں کی حفاظت،ریاست کے اندر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے مسلح افواج پاکستان،سیکورٹی فورسز،پولیس کے جانبازوں کی طرف سے لہو کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کی جائیں گی۔ اس طرح دارالحکومت مظفر آبادسمیت تمام ڈویژنل،ضلعی،تحصیل،میونسپل کمیٹی،یونین کونسل ہا اور قصبات کی سطح پر بھی جشن آزادی کے پروگرام اور پرچم کشائی کی تقاریب منعقد ہونگی۔جس میں ریاست جموں و کشمیر کے ہر فرد کو بلا تفریق سیاسی وابستگی کے جشن آزادی کے پروگرامزمیں شرکت کی دعوت دی ہے۔یوم آزادی کے موقع پر سرکاری عمارتوں سمیت گھروں،دکانوں اور مال بردار گاڑیوں پر بھی قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔جشن آزادی پاکستان کو بھرپور ملی جوش وجذبے اور بیداری کے ساتھ منانے کا بنیادی مقصد ریاست جموں و کشمیر کے عوام اور بالخصوص طلباء وطالبات کو معرکہ حق اور آزادی کی نعمت کے ثمرات سے آگاہ کرنے کے ساتھ قومی ہیروز کی طرف سے انگریزوں اور ہندوؤں کے سامراجی راج کے پنجہ استبداد سے نجات حاصل کرنے کے لئے جدوجہداور جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کے کارہائے نمایاں کو ہدیہ تبریک پیش کرنا ہے جبکہ آزادکشمیر میں معرکہ حق اور جشن آزادی کو شاندار طریقے سے منا کر ایل او سی کے اس پار بھارت کو یہ پیغام دینا ہے کہ پوری قوم مسلح افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے پاک فوج کے چیف آف آرمی سٹاف /فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کی طرف سے 06اور07مئی کی درمیانی شب کو آزادکشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل حملوں سے جس جارحیت کا آغاز کیا گیا اس کا بھرپور طریقے سے ہماری مسلح افواج پاکستان نے 10مئی کی صبح جواب دے کر بھارت کی فوج طاقت کے غرور کو خاک میں ملا دیا جبکہ پاک فوج کے شاہینوں نے بھارت کے ائیر ڈیفنس سسٹم،بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سمیت چھ جدید لڑاکا طیاروں جن میں رافیل بھی شامل ہے کو مار گرایا۔پاک فوج کی طرف سے آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق کی کامیابی نے دنیا پر ثابت کردیا کہ مسلح افواج پاکستان دنیا کی عظیم سے عظیم تر بہادر فوج ہے جس کے جوانوں سے لے کر اعلیٰ فوجی قیادت جذبہ شوق شہادت سے سرشار ہے اور اپنی مٹی کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔معرکہ حق کی کامیابی کے بعد تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کو ایک نئی جہت ملی ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے اور انھیں یقین ہے کہ مسلح افواج پاکستان مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو بھارت سے آزاد کرواکر دم لے گی۔کشمیری ازل سے پاکستانی ہیں اور ابد تک پاکستانی رہیں گے وہ کسی مرحلہ پر پاکستان کے قومی پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔ آج بھی وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کے محور و مرکز اوردنیا کی ساتوں ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کمزور کرنے کے حوالے سے کبھی سرحدوں پر مہم جوئی کرکے،کبھی ایل او سی اور کبھی ریاست کے اندر دہشت گردی کے واقعات کروا کر دشمن اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتا ہے لیکن معرکہ حق کی فتح کے بعد بھارت کو ہر معاذ پر شکست فاش ہوگی۔تحریک پاکستان پر اگر نظر دوڑائی جائے یہ ایک طویل داستان ہے جس نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوؤں کی مکاری کو بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ دینی و دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس حاصل کریں گے اس سلسلہ میں سر سید احمد خان کی کاوشوں سے علی گڑھ سے شروع ہونے والی تحریک کے باعث مسلمان جو ہندوؤں کے مقابلے میں تعلیم کے لحاظ سے بہت پیچھے تھے ان کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کر وایا 1857کے بعد جب ہندوستان پر انگریزوں کاراج قائم ہوا تو ہندووں انگریزوں سے مل گے جس کے باعث انگریز مسلمانوں کواپنا دشمن سمجھنے لگے جس کی بناء پر لاکھوں کے حساب سے مسلمانوں کو قتل عام کیا اور انہیں پھانسی کے پھندوں کے ساتھ کئی کئی دن تک درختوں کے ساتھ لٹکائے رکھا تاکہ مسلمانوں پرخوف،د ہشت طاری ہو سکے اور مستقبل میں مسلمان انگریزوں کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو سکیں۔مسلمانوں کی بہادری اور دلیری کے قصوں سے انگریز پہلے ہی آگاہ تھے انہوں نے ہندوؤں کواس لیے اپنے ساتھ ملا لیا کہ کہیں ہندوؤں اور مسلمان مشترکہ طور پر اکھٹے ہوکر انگریزوں کے مقابلے میں نہ آ جائیں 1857 کی جنگ آزادی جو مسلمانوں اور ہندوؤں نے ملکر انگریزوں کے خلاف لڑی تھی۔ہندوستان میں برطانوی راج میں انگریزوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے مسلمان پر سرکاری نوکریوں کے دروازے بند کر دیئے گے مسلمانوں کو صرف وہ نوکریاں دی جاتی تھیں جو کم مرتبے والی ہوتی تھیں۔اس موقع پر سر سید احمد خان نے برصغیر میں مسلمانوں کی ڈوبتی مغربی علوم پر دسترس حاصل کرنے کا موقع ملااور اسی بنیاد پر90 سال کے جدو جہد کے باعث برصغیر کو اعلیٰ پائے کے تعلیم یافتہ مسلم سیاستدان ملے جھنوں نے بعد میں مسلمانوں کی قیادت سنبھالی۔ان میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبال بھی شامل ہیں جن کے خواب کو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کو طویل جد وجہد کے بعدبالاآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں اس خواب کی تعبیر ملی جو دنیا کے نقشہ پر ایک آزاد مسلم مملکت کے طور پر نمایاں ہوئی۔قیام پاکستان کے پیچھے مسلم لیڈروں کی قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کا انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی مسلسل جدو جہد، مصمم ارادہ اور عزم تھا جب قیام پاکستان کا اعلان ہوا تو لاکھوں کے حساب سے لوگ برصغیرسے اپنے ہنستے بستے گھر،کھیت کھلیان اور عالی شان محل چھوڑ کر محبت پاکستان میں ہجرت کرکے بے سروسامانی کی حالت میں آگ اور خون کے دریا عبور کرکے پاکستان پہنچے۔ریاست جموں وکشمیر سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے محبت پاکستان میں ہجرت کی 06نومبر1947 کوجموں سے ٹرکوں اور گاڑیوں کے ذریعے پاکستان بھیجنے کے بہانے سائبہ کے مقام پر لاکر ایک ہی دن میں اڑھائی لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیاگیا۔ ہجرت کی تاریخ میں سانحہ جموں ایک دردناک سانحہ ہے۔ یہ ہجرت کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جس میں ماؤں سے بچے بچھڑگے کئی خواتین کے سہاگ اجڑ گے۔عورتوں اور بچیوں کی بری طرح عصمت دری کی گی اورنوجوانوں کو ان کے والدین کے سامنے برچھیوں سے ذبح کردیا گیا اور خون کی ندیاں بہا دیں گئیں لیکن پاکستان سے محبت کرنے والوں کے پایا استقلال میں کوئی لرزش نہ آئی یہ لوٹے پھوٹے قافلے بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان پہنچ آئے۔ 14 اگست 1947 رمضان المبارک کی 27ویں رات کا مبارک دن تھا جب برصغیر سے انگریزوں کا راج ختم ہوگیا اور دنیا کے نقشہ پر 7کروڑ مسلمانوں کا ملک پاکستان کی صورت میں معرض وجود میں آیا۔13 اگست کی رات کو برصغیر کے مسلمانوں کی غلامی کی رات ختم ہوتے ہیں رات 12 بجے ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو پوری قوم سربسجود ہوگئی یہ آزادی قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت،ولولہ انگیز قیادت کے باعث نصیب ہوئی جس پر پوری قوم بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کے نظریات وافکارکو ہر سال جشن آزادی پاکستان منا کر والہانہ انداز میں آزادی کے سفرمیں شامل ہر فرد کے جذبہ آزادی کو سلام پیش کرتی ہے۔ مملکت خداداد پاکستان سے مراد اُس خطے کی تاریخ ہے جو 1947ء کو تقسیم برصغیر سے الگ ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلایا۔ تقسیم برصغیر سے قبل موجودہ پاکستان کا خطہ برطانوی راج کا حصہ تھا۔ اُس سے قبل اس خطے پر مختلف ادوار میں مختلف مقامی بادشاہوں اور متعدد غیر ملکی طاقتوں کا بھی راج رہا۔ قدیم زمانے میں یہ خطہ برصغیر ہند کی متعدد قدیم ترین مملکتوں اور چند بڑی تہذیبوں کا حصہ رہا ہے لیکن 18 ویں صدی میں سرزمین برطانوی ہند میں ڈھل گئی۔جس کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا آغاز 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے شروع ہوا۔ اس جماعت کے قیام کا مقصد ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے مفاد کا تحفظ اور اُن کی نمائندگی کرنا تھا۔ 29 دسمبر 1930ء کو فلسفی و شاعرمشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال نے جنوب مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک خود مختار ریاست کا تصور پیش کیا۔1933 میں اس مملکت کا نام چوہدری رحمت علی نے پاکستان تجویز کیا اور خاکہ بنایا جس میں مختلف علاقوں کو ملا کر پاکستان کا ایک نقشہ کھینچاگیا۔قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے دو قومی نظریہ پیش کیے جانے اور مسلم لیگ کی جانب سے 1940 ء کی قرارداد لاہور کی منظوری نے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کی۔ قرارداد لاہور میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاستیں قائم کی جائیں۔پاکستان کی تشکیل کا اصل مقصد مسلمانوں کے لئے ایک الگ خود مختار ریاست کا قیام عمل میں لانا جہاں وہ اپنی مذہبی عبادات، رسومات اور معاشرتی امور آزادی کے ساتھ سر انجام دے سکیں۔پاکستان کی آزادی کا سفر جو تقسیم بنگال کے بعد شروع ہوا آخر کار وہ 14 اگست 1947 کو مکمل ہوا۔اس دن کوہرسال پورے عقیدت اور احترام کے ساتھ اس لئے مناتے ہیں تاکہ اس عظیم دن کو پوری قوم یک جان ہوکر اپنے قومی جذبات اور احساسات سے آزادی کی نعمت کے لئے شکرگزار ہوسکیں یہ دن 24 کروڑ پاکستانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انمول تحفہ اور عظیم نعمت ہے جس کی ہم سب کو قدر کر نی چاہیے اپنی ریاست اور اداروں کی عزت و احترام اور تکریم سب پر مقدم رکھنا چاہیے۔آزادی کی نعمت کی قدر مظلوم و محکوم کشمیریوں اور فلسطین کے لوگوں سے پوچھے کہ کس طرح وہاں انسانیت سوز مظالم تلے وہ اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود اور وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس بار معرکہ حق کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے یوم آزادی کو بھرپور عقیدت سے منا کر مظلوم و محکوم کشمیریوں کو یہ پیغام دیں کہ ان کی آزادی کے دن بھی قریب ہیں وہ دن جلد آنے والا ہے جب وہ بھی آزادی کی نعمت سے سرفراز ہو کر پاکستان کے ساتھ ملکر آزادی کا جشن منائیں گے۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد انڈیا نے وطن عزیز کے لئے کئی طرز کے مشکلات پیدا کرنا شروع کردیں تھیں اورپاکستان کے وجود کومٹانے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کیں لیکن پاکستانی عوام اور حکومتوں نے 76 سالوں سے بڑی بہادری اور حکمت عملی سے ان سازشوں اور مشکلات کا سامنا کیا اور الحمداللہ آج پاکستان کی فوج دنیا کی ناقابل تسخیر قوتوں میں ایک قوت ہے جس سے مقابلہ کرنا اب بھارت کے بس میں نہیں رہا۔پاکستان تا قیامت قائم رہے گا اور اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ غیب سے کریں گے۔ہوئی کشتی کو سنبھالا اور کشتی کا رخ ساحل کی طرف موڑنے کے لئے مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کے لئے علی گڑھ مدرسہ،سکول،کالج اور یونیورسٹی کا قیام وجود میں لایا جس سے مسلمانوں کو دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ