پانچ
اگست 2025 کو پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہو گئے، ایک ایسا لمحہ جس نے پاکستان کی جمہوریت، آئینی اقدار، اور عوامی حاکمیت کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ دو سال نہ صرف ایک لیڈر کی قید کی داستان ہیں، بلکہ پاکستانی جمہوریت کے منظم زوال کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ عمران خان، جو کبھی عالمی شہرت یافتہ کرکٹر تھے اور پھر عوامی امنگوں کے سیاسی ترجمان بنے، آج پاکستان میں جمہوری مزاحمت کی ایک عظیم علامت ہیں۔ ان کی قید، غیر انسانی سلوک، اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات، غیر شفاف ٹرائلز، اور اپیلوں میں دانستہ تاخیر نے انصاف کے بجائے انتقام کی تصویر پیش کی ہے۔ تاہم، جیل کی تنہائی، دباؤ، اور اذیت کے باوجود ان کا عزم ناقابلِ تسخیر ہے، جو انہیں پاکستانی سیاست میں مزاحمت کا استعارہ بناتا ہے۔
عمران خان کی مقبولیت ایک غیر معمولی سیاسی رجحان ہے، جو ان کی گرفتاری کے باوجود نہ صرف برقرار ہے، بلکہ کئی حوالوں سے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا مزاحمتی بیانیہ، جو آئین، جمہوریت، اور عوامی حاکمیت کے تحفظ پر مبنی ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور متوسط طبقے میں گہرا اثر رکھتا ہے۔ انہوں نے خود کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ، بدعنوانی، اور غیر منصفانہ نظام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ان کی جیل میں استقامت اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا موقف انہیں عوام میں ایک ہیرو کی حیثیت دیتا ہے۔ ان کے خلاف مقدمات اور جیل میں غیر انسانی سلوک نے عوام میں ہمدردی کی لہر پیدا کی ہے، جو پاکستانی معاشرے کی اس روایت کو تقویت دیتی ہے کہ مظلوم لیڈروں کے ساتھ عوام کا جذباتی رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا نے عمران خان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ایکس جیسے پلیٹ فارمز کو موثر طریقے سے استعمال کیا، جس سے ان کا پیغام تیزی سے لاکھوں نوجوانوں تک پہنچا۔ ایکس پر پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے حامی انہیں ایک “قومی ہیرو” اور “درویش صفت لیڈر” سمجھتے ہیں، جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے۔ 2022 میں سامنے آنے والی مبینہ آڈیو لیکس نے ان کے بیانیے کو وقتی طور پر چیلنج کیا، لیکن عوامی ردعمل سے واضح ہوا کہ ان کے حامیوں پر اس کا کوئی گہرا اثر نہیں پڑا۔ عوام نے ان لیکس کو سیاسی سازش قرار دیا اور عمران خان کی سچائی پر اپنا اعتماد برقرار رکھا۔
فروری 2024 کے عام انتخابات نے عمران خان کی مقبولیت کا سب سے بڑا ثبوت پیش کیا۔ وہ قید میں تھے، ان کی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، قیادت پر کریک ڈاؤن کیا گیا، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عمران خان کی عوامی اپیل نہ صرف برقرار ہے، بلکہ وہ ایک سیاسی طاقت کے طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ یہ نتائج اس بات کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ ان کی گرفتاری نے ان کی مقبولیت کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید تقویت دی۔
سیاسی تجزیہ کار اسے ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف عمران خان کو سیاسی منظر سے ہٹانا ہے، بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کمزور کرنا اور عوامی امنگوں کو کچلنا ہے۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں، جیسے شاہ محمود قریشی،محمود ارشید ،سابق گورنر عمر چیمہ ، ڈاکٹر یاسمین راشد، حسان نیازی، سینیٹر اعجاز چوہدری، اور ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں اور طویل سزائیں اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ سینٹ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے آپوزیشن لیڈرز کو دس دس سال کی سزا دی گئی ہے بلکہ ناہل بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو اختلاف کرے گا، اسے ختم کر دیا جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان کا تنازعہ ان کی مقبولیت کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے اپنی گرفتاری اور مقدمات کو فوجی مداخلت سے جوڑا، جس سے عوام میں یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ وہ ایک طاقتور نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے جمہوری زوال کا ایک دردناک دور دیکھا۔ آئین سے انحراف، آزادیِ رائے پر قدغنیں، عدلیہ پر دباؤ، اور میڈیا پر سخت سینسرشپ نے ملک کو ایک غیر اعلانیہ آمرانہ نظام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، الیکشن نظام کی ساکھ پر سوالات، اور اختلافِ رائے کو غداری سے تعبیر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلے اب منتخب نمائندوں کے بجائے پسِ پردہ طاقتور قوتیں کر رہی ہیں۔ میڈیا پر سخت پابندیاں اور سوشل میڈیا پر سینسرشپ نے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کو مزید واضح کیا ہے۔ بدقسمتی سے، جمہوری اختلاف کو غداری قرار دینے کا رجحان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ ہے، جو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔
عمران خان کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک، خاص طور پر اوورسیز پاکستانیوں میں موجود ہے۔ عالمی سطح پر ان کی رہائی کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، زلمی خلیلزاد جیسے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی اور شفاف انتخابات پاکستان کے سیاسی بحران کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی تشویشناک ہے۔ پاکستان جیسا ملک، جو خطے میں اہم جغرافیائی اور سیاسی حیثیت رکھتا ہے، اگر جمہوری اصولوں سے محروم ہو جائے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
عمران خان کی قید صرف ان کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستانی قوم کی جمہوری امیدوں کی قید ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ وہ آئین، جمہوریت، اور عوام کے حقِ حاکمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ موقف کروڑوں پاکستانیوں کے لیے ایک عظیم تحریک بن چکا ہے۔ یہ دو سال صرف ایک لیڈر کی نظربندی کے نہیں، بلکہ جمہوریت کے قتل کے سال ہیں۔ اگر اس راہ کو نہ روکا گیا، تو آنے والا وقت صرف ماضی کا نوحہ لکھے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی عوام اور عالمی برادری یہ سوال اٹھائیں: کیا ہم طاقت کے بل پر چلنے والے نظام کو مزید برداشت کریں گے؟ یہ صرف عمران خان کی رہائی کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کی بحالی کا معاملہ ہے۔ ہمیں اپنی اپنی اناؤں سے نکل کر ملک اور قوم کی خاطر ایک نیا اعلان کرنا ہو گاکہ ہم ملک و قوم ، جمہوریت، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی بحالی کے لیے آپنی آپنی سمتیں درست کریں گے، مصالحت ، مذاکرات اور قومی معاملات پر اتفاق رائے ہو گا۔