پنجاب کیخلاف ایسی منافرت پہلے کبھی نہیں دیکھی، ھر گناہ پنجاب کے کھاتے میں ڈالنا فیشن بن چکا ھے ، پنجابیوں کے دُکھ لیکن سنےھی نہیں گئے
بدقسمتی سے زندگی میں پہلی بار پنجابی دانشوروں اور نوجوانوں میں دوسرے نسلی اکائیوں سے بیزاری کا رویہ دیکھ رھا ھوں
پنجابی کلچر زبان و ادب کا احیأ نہایت خوبصورت عمل ھے ، اسے آگے بڑھنا چاھئیے لیکن گالیاں گھُرکیاں اور گولیاں کھا کھا کر اب پنجاب میں تلخی اور غصہ بڑھ رھا ھے
اس صورتحال کے سب سے بڑے ذمہ دار مارشل لأ مسلط کرنیوالے مائینڈ سیٹ ، انکے بغل بچے،موقع پرست سیاسی جماعتیں ، وار لارڈز اور وڈیرہ شاھی کے جاگیردارانہ رویے ھیں ،نظریۂِ ضرورت کی حامل عدلیہ بھی منافرت بڑھنے کے گناہ سے بری الذمہ نہیں ھو سکتی
بہر حال بظاھر (سب اچھا ھے ) شاید اسی لئے اپنی اپنی راگنی بجانے کا عمل جاری ھے
البتہ پاکستان کے دشمن اس صورتحال پر نہال اپنی سازشوں میں مصروف ھیں، مجھے تشویش ھے کہ پنجاب میں نسلی منافرت کی چنگاریوں کو الاؤ بنانے کی سازش کی جائیگی
یہاں ھم دھائیوں سے بلا تفریق نسل و زبان امن اور عزت کے ساتھ زندگی گزار رھے ھیں، یہ رویہ جاری رھنا چاھئیے ، کشمیری ، پشتون ، بلوچ ، اردو سپیکنگ کمیونٹی بشمول گلگت بلتستان کے باسی سب پنجاب میں ملکر رھتے ھیں ،ھمیں اسی طرح رھنا ھے ،
رزق انسان نہیں دیتا یہ تو صرف اور صرف اللّٰہ جل جلالہ کی عنایت ھے ۔۔
پنجابیوں نے ھمیشہ دوسرے علاقوں سے ھجرت کرکے آنیوالوں کیلئے اپنے دیدۂ و دل فرش راہ کیے ھیں، پنجاب کو مشتعل کرنے کیلئے انڈین سپانسرڈ دھشت گرد آۓ روز بے گناہ پنجابی محنت کشوں کی لاشیں ھمیں بھیج رھے ھیں ، واحد مقصد پنجاب سے ایسے ھی رد عمل کی توقع ھے ، ھم ایسا کسی طور نہیں ھونے دینگے
یاد رکھیں ! پاکستان پر اندر سے حملہ پوری قوت سے جاری ھے ،مسلح جتھوں کی جنگ اپنی جگہ لیکن بغیر اسلحہ بیانیے اور قلم سے لڑنے والے لشکر بھی اپنے کام میں مصروف ھیں ۔۔
ان حملوں کا جواب انصاف و آئین کی حکمرانی اور امیر و غریب کے بیچ مسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر دینا ممکن نہیں ۔۔۔