میری تحریر کی شاید آج کے دنوں میں کوئ اہمیت نا ھوں لیکن اگلے دس سالوں میں میرے لفظ گواہی دیں گے کہ اسلام آباد — پاکستان کا وہ شہر جو قدرتی حسن، منصوبہ بندی، اور قدرتی حفاظتی ڈھال کے طور پر جانا جاتا تھا — اب بلڈرز، ادارہ جاتی خاموشی، تجاوزات اور ماحولیاتی تباہی سے جکڑا جا رہا ہے۔
ڈی ایچ اے سانحہ: کرنل صاحب اور ڈاکٹر بیٹی کا غم
ڈی ایچ اے فیز ٹو میں ایک ریٹائرڈ کرنل اور ان کی ڈاکٹر بیٹی بے دردی سے سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔ نالہ موجود تھا، مگر اس کا قدرتی بہاؤ شدید بارش کے دباؤ کو سہہ نہ سکا۔ نکاسی کا نظام ناکافی ثابت ہوا، اور پانی نے رہائشی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ وہ سبق ہے جو انسان بار بار نظرانداز کرتا ہے — جب قدرت حرکت میں آتی ہے تو وہ ہر رکاوٹ کو بہا لے جاتی ہے-
تجاوزات، نالے اور سروسز کا عروج
جی ایٹ کے قریب مسیحی قصبہ نالوں کی سرحدوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اسی طرح ایف‑6 کی اوپر واقع سپر مارکیٹ کے پہلو میں ایک سرکاری ڈسپنسری تھی، جہاں اب کمرشل پلازہ کھڑا ہے — اور اس کے ساتھ بہنے والا نالہ مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا۔ اب وہاں کنکریٹ ہی کنکریٹ ہے، پانی بہنے کا کوئی راستہ نہیں۔
مارگلہ پر چیئر لفٹ: تفریح یا تباہی؟
مارگلہ ہلز اسلام آباد کی فطری ڈھال ہیں، ماحولیاتی توازن کا محافظ ہیں۔ مگر اب مارگلہ پر چیئر لفٹ بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے — بظاہر تفریحی، مگر حقیقتاً ماحولیاتی جرم۔ پہاڑوں کی چیر پھاڑ، جنگلی حیات کا سکون ٹوٹنا، زمین کا حساس توازن بگڑ جانا — یہ سب اس تجرباتی منصوبے کے ممکنہ خطرات ہیں۔
ہانگ کانگ کا Ngong Ping 360 ماڈل
• یہ 5.7 کلو میٹر لمبی دو طرفہ بی-کیبل گونڈولا سروس ہے جو 2006 میں کھولی گئی ۔
• گھنی جنگلات، راک کی سطح، ندی نالے اور حدِ قدرتی پارکس میں تعمیراتی مواد ڈھلانے کے لیے ہیلی کاپٹرز اور مویشی (mules) استعمال کیے گئے، تاکہ کسی قسم کا روڈ نہ بنایا جائے اور جنگلات محفوظ رہیں ۔
• towers کی تعداد محدود رکھی گئی، singular pylons سے رہنمایی کردی گئی، جس سے ecology پر اثرات کم سے کم رکھے گئے ۔
• alignment کا انتخاب ecological, visual اور landscape اثرات کو بنیاد بنا کر کیا گیا تھا ۔
اگر یہی ethical اور minimal-impact approach مارگلہ ہلز میں بھی اختیار نہ کی جائے تو مقامی ecology، جنگلی حیات اور زمین کی استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نالہ لئی، کورنگ نالہ، سواں نالہ — یہ تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ جب ندی کے بہاؤ کو روکا جائے، تو یک دم سیلابی ریلہ پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر مارگلہ پر بھی یہی نمونہ دہرایا گیا، تو اسلام آباد کو وہ منظر دیکھنا پڑ سکتا ہے جو ہمیں خوفناک خواب میں بھی مت نظر آئے۔
خدارا! اسلام آباد پر رحم کریں۔
یہ شہر لاہور یا کراچی جیسا صنعتی یا تجارتی مرکز نہیں بن سکتا — اسے فطرت کا شہر رہنا چاہیے، نہ کہ beton plazaوں اور چوٹیوں پر چیئر لفٹ کا ٹریک۔
• مارگلہ پر کوئی بھی تعمیرات، خاص طور پر چیئر لفٹ جیسی مشینیں، ماحولیاتی اثرات کی پروگرامڈ EIA کے بغیر نہ کی جائیں۔
• alignment، towers، اور construction methodology کو ecological sensitivity کی بنیاد پر ڈیزائن کیا جائے۔
• نقل و حمل کے لیے کنکریٹ راستوں کے بجائے mules یا ہیلی کاپٹرز جیسا کم نقصان دہ طریقہ اپنایا جائے۔
• منصوبوں سے قبل عوامی مشاورت اور environmental monitoring رکھی جائے۔
کرنل صاحب اور ان کی ڈاکٹر بیٹی کا غم، نالوں کی بےحسی، ڈسپنسری کا گمشدہ چہرہ، تجاوزات کی نشاندہی اور مارگلہ پر جاری خطرناک منصوبے — یہ سب ایک لمبی سیخ کا حصہ ہیں۔ مارگلہ کو مت چھیڑو، ورنہ اسلام آباد بہہ جائے گا۔
اگر پہاڑ خود بولیں تو ممکن ہے وہ ہمیں بتائیں:
“ہم نے تمہارا سکون بوجھ سمجھ کر نہیں روکا — یہ سب تم نے خود خود کیا”۔