ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دے دیا
کنوں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملوں کی دھمکی دے دی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ غالب امکان ہے کہ ایران امریکا کا معاہدہ ہوجائے گا لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے قیام کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنہیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ یہ کارروائی ہمارے ان متعدد فوجیوں اور دیگر افراد کے بدلے میں ہوگی جنہیں ایران نے سابقہ حکومت کے 47 سالہ دورِ دہشت میں قتل کیا اور ہلاک کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بجلی گھر کو تباہ کریں گے تاہم خدشہ ہے کہ جو بھی سب سے بڑا بجلی گھر ہے پہلے وہ تباہ کیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے کہا کہ اگر ایران کے ایندھن اور توانائی کے ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں امریکا کے تمام توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی